ہڑتالی جونیر ڈاکٹروں کے خلاف حکومت کا سخت موقف

ڈاکٹرس اپنے موقف پر اٹل، احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ

ڈاکٹرس اپنے موقف پر اٹل، احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔/19اکٹوبر، ( سیاست نیوز) جونیر ڈاکٹرس کی جاری ہڑتال پر حکومت تلنگانہ اپنا سخت گیر موقف اختیار کرے گی۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر صحت ڈاکٹر کے راجیا نے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ خود انہوں نے ایک ہفتہ قبل جونیر ڈاکٹروں کے دیرینہ حل طلب مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے بات چیت کرکے واضح تیقن دیا تھا، اس کے باوجود ہڑتال کو جاری رکھنا مناسب نہیں ہے۔ ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانا ہی ان کی حکومت کا اہم مقصد ہے لیکن کملا ناتھن کمیٹی کے رہنمایانہ خطوط کی روشنی میں ہی اب تک ریاست کی تقسیم مکمل طور پر ممکن نہیں ہوسکی ساتھ ہی ساتھ مکمل طور پر عہدیداروں کے تقررات بھی عمل میں نہیں آسکے۔ اسی طرح ڈاکٹروں کے معاملہ میں تلنگانہ میں کتنے ڈاکٹرس ہوں گے اور کتنی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور ان مخلوعہ جائیدادوں کو کس طرح پُر کرنا چاہیئے مکمل تفصیلات حاصل ہونے کے بعد ہی بالکلیہ طور پر ڈاکٹروں کے تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ایک جامع قانون سازی بھی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے جونیر ڈاکٹرس سے خواہش کی کہ وہ فی الفور اپنی جاری ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی پر رجوع ہوجائیں۔ اسی دوران جونیر ڈاکٹرس یونین قائدین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے بات چیت کیلئے مدعو کرکے جونیر ڈاکٹرس کی توہین کی ہے۔ لہذا جونیر ڈاکٹرس نے پھر ایک بار حکومت کی جانب سے بات چیت کیلئے مدعو کرنے کے باوجود انہوں ( جونیر ڈاکٹرس ) نے حکومت کے ساتھ بات چیت کا مقاطعہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT