Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ہیلمٹ کی اہمیت سے واقف کرانا ضروری : ہائیکورٹ

ہیلمٹ کی اہمیت سے واقف کرانا ضروری : ہائیکورٹ

عوام میں ہیلمٹ استعمال کرنے کی شعور بیداری مہم کی ہدایت
حیدرآباد۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے والوں کیلئے (ٹو وہیلرس بائیک رائیڈرس) ہیلمٹ کے استعمال کو ضروری و یقینی بنانے کیلئے وسیع پیمانے پر اقدامات اور کوششوں کا آغاز کردیا ہے لیکن محکمہ ٹرانسپورٹ کے تیز تر اقدامات و کوششوں کو ہائیکورٹ نے روک (بریک) لگاتے ہوئے حکومت بالخصوص محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس بات کی سخت ہدایات دی کہ دو پہیوں والی گاڑیاں چلانے والوں میں ہیلمٹ کی اہمیت سے واقف کروانے کے بعد ہی ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی و ضروری بنائیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں گریٹر حیدرآباد کے حدود میں حیدرآباد اور رنگاریڈی ضلع کے اعلیٰ عہدیداران محکمہ ٹرانسپورٹ نے پمفلٹس، وال پوسٹرس، فلیکس، سنیما سلائیڈز کے ساتھ ساتھ عوام میں ہیلمٹ استعمال کرنے سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرکے ان میں بیداری پیدا کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں کالجوں میں بھی بڑے پیمانے پر ہیلمٹ پہننے سے متعلق لزوم کی تشہیر کی جارہی ہے تاکہ کالجوں کے طلباء اگر ہیلمٹ استعمال کرنا شروع کردیں گے تو خودبخود دیگر عوام پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکیں گے۔ روزانہ پیش آنے والے سڑک حادثات میں دو پہیوں کی گاڑی چلانے والے افراد کی اموات 70 تا 80 فیصد صرف اور صرف ہیلمٹ کے استعمال نہ کرنے (نہ پہننے) کی وجہ سے ہی پیش آرہی ہیں۔ اگر دو پہیے والی گاڑیاں چلانے والے افراد اپنی گاڑیاں چلاتے وقت ہیلمٹ کا استعمال کریں گے تو کوئی حادثہ پیش آنے کی صورت میں بھی ان افراد کا سر محفوظ رہ سکتا ہے جس کی وجہ سے حادثہ کا اثر بہت ہی کم ہوجاتا ہے۔ ہیلمٹ استعمال کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے بعد بھی اگر کوئی ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنے کی صورت میں ان افراد پر 1000 ایک ہزار روپئے جرمانہ عائد کرنے کی بھی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے۔ اسی دوران مسٹر رگھوناتھ جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنر حیدرآباد اور مسٹر پروین راؤ ڈپٹی کمشنر ٹرانسپورٹ ضلع رنگاریڈی نے بھی بتایا کہ ہیلمٹ استعمال کرنے کے تعلق سے عوام میں بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس بیداری پیدا کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے دوران عوام کی جانب سے مثبت ردعمل بھی حاصل ہورہا ہے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT