Friday , December 15 2017
Home / مضامین / ہیڈلی کے اعتراف جرم کے بعد ہندوستان کا رول کیا ہوگا؟

ہیڈلی کے اعتراف جرم کے بعد ہندوستان کا رول کیا ہوگا؟

ممبئی میں 26/11 حملے کے قصوروار ڈیوڈ کول مین ہیڈلی کی گواہی  امریکہ کے شکاگو جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہوئی ۔ اس دوران اس کے اقبالیہ بیان اور راز ہائے سربستہ پر سے نقاب اٹھانے سے یہ واضح ہوگیا کہ ممبئی حملے میں پاکستان کی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ اور انتہا پسند لیڈر حافظ سعید اہم سازش کنندگان کے طور پر رہے ہیں ۔ اب سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا لشکر طیبہ کے ساجد میر اور حافظ سعید کے خلاف کارروائی کے لئے ہندوستان کی حکومت پاکستان پر دباؤ بناپائے گی ؟ دراصل یہ سوال اس لئے اٹھ رہا ہے کہ مرکز میں جب سے نریندر مودی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ، تبھی سے دونوں ملک ایک دوسرے کے تئیں اپنے گہرے اور مضبوط رشتے کا اظہار کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ خاص کر ہندوستانی حکومت کے سربراہ نریندر مودی کے پاکستان کے تئیں بدلے رویہ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ کیونکہ یہی نریندر مودی ہیں جو لوک سبھا چناؤ سے قبل اپنے خطابات میں نہ صرف پاکستان کو کھری کھری سناتے تھے بلکہ مرکز کی سابق یو پی اے حکومت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا کرتے تھے کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے ۔ مودی کی انہی باتوں سے متاثر ہو کر ملک کے ایک طبقہ نے بی جے پی کو کھل کر ووٹ دیا ، لیکن اب وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ملک کے عوام سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ تمام ثبوتوں اور دستاویزات کے باوجود مودی حکومت پاکستان کے خلاف سخت اقدام کرنے سے کیوں ڈر رہی ہے ؟

غور طلب ہے کہ ہیڈلی نے ممبئی کے کورٹ کو بتایا کہ وہ نو دفعہ ممبئی گیا تھا ۔ آٹھ بار حملے سے قبل  اور ایک بار حملے کے بعد ۔ وہ آٹھ بار پاکستان سے اور ایک بار یو اے ای سے ہندوستان آیا تھا ۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ حافظ سعید کی تقریروں سے متاثر ہو کر لشکر طیبہ میں شامل ہوا ۔ پاکستان کے مظفر آباد میں 2002 میں ہیڈلی نے حافظ سعید کی تقریر سنی اور بہت متاثر ہوا ۔ سعید کے کہنے پر لشکر کا کام کیا ۔ کورٹ میں اب تک کا سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے ڈیوڈ ہیڈلی نے بتایا کہ 2008 میں 26/11 کو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے پہلے ستمبر اور اکتوبر میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی ، لیکن دونوں ہی بار ناکامی ہاتھ لگی۔ پہلی بار ستمبر میں سمندر میں پتھر سے ٹکرانے کے بعد کشتی ڈوب گئی تھی جس میں سوار لوگ تو بچ گئے لیکن گولہ بارود برباد ہوگئے تھے ۔ دوسری بار کے بارے میں اسے ٹھیک سے یاد نہیں ہے ۔ حملے سے دو سال قبل 2006 میں اس نے پاسپورٹ میں اپنا نام بدلوالیا تھا ۔ اس نے اپنگا نام داؤد گیلانی سے ڈیوڈ ہیڈلی کیا تاکہ ہندوستان میں آسانی سے داخل ہوسکے ۔ ہیڈلی نے بتایا کہ اس نے فرضی دستاویزات دے کر ویزا حاصل کیا ۔ اس نے پہلے ایک سال کا ویزا لیا ، پھر پانچ سال کا ۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع لنڈی کوٹھال میں آئی ایس آئی نے اسے نشے کے کاروبار کے الزام میں گرفتار کیا ۔ یہیں پر وہ آئی ایس آئی کے میجر علی کے ربط میں آیا ۔ میجر علی نے اسے میجر اقبال سے ملوایا ۔ قابل ذکر ہے کہ 26/11 کے حملے میں میجر اقبال کا نام آتا ہے ۔
دراصل وہ ڈرگ پیڈلر سے ملنے گیا تھا لیکن وہ ہندوستان میں ہتھیار سپلائی کرنا چاہتا تھا ۔ اسی وقت میجر علی کو یہ لگا کہ یہ ان کے کام کا آدمی ہے ۔ جو دیکھنے میں غیر ملکی لگتا ہے ۔ نیا پاسپورٹ ملنے پر وہ پاکستان جا کر لشکر طیبہ کے ساجد میر سے ملا ۔ ساجد نے اسے ہندوستان بھیجا ۔ ممبئی جا کر کوئی آفس یا بزنس سیٹ کرنے کو کہا تاکہ وہ زیادہ وقت تک ممبئی میں رہ سکے ۔ ساجد نے اسے ممبئی سے ویڈیو بنا کر بھیجنے کو کہا ۔ ہیڈلی نے کہا کہ اسے ایک جنرل آئیڈیا تھا کہ وہ اس سے کیوں کروایا جارہا ہے ؟ ہیڈلی دل سے لشکر کی حمایت کرتا تھا ۔ ہیڈلی کی پوری تعلیم پاکستان میں ہوئی اور 18 سال کی عمر میں وہ امریکہ گیا ۔ لشکر طیبہ ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کا قصوروار ٹھہرایا جاچکا ہے ۔ کورٹ نے اسے 35 سال کی سزا دی ہے ۔ ڈیوڈ ہیڈلی پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ہے ۔ اس نے پاکستان میں رہ کرلشکر کے ٹریننگ کیمپ میں کئی مہینے گزارے ہیں ۔ اس نے دہشت گردانہ حملے سے پہلے کئی بار پورے شہر کی ریکی کی تھی اور ممبئی حملے کے لئے تفصیل سے اطلاعات فراہم کرکے لشکر کو دی تھی ۔ اس کے لئے ہندوستان آکر حملے کے ٹھکانوں کی ریکی کی ۔حملے کے ٹھکانوں کی تصویریں لیں اور پاکستان جا کر اس کا ذکر کیا ۔ 24 جنوری 2013 کو امریکہ کی عدالت نے ڈیوڈ ہیڈلی کو اس سلسلے میں قصوروار قرار دیا ۔ ہندوستانی حکومت نے کئی دفعہ ہیڈلی کو ہندوستان لاکر پوچھ تاچھ کرنے کی کوشش کی ۔ این آئی اے نے امریکہ جا کر بھی ہیڈلی سے کئی بار پوچھ تاچھ کی ۔ آخر میں وہ ہندوستانی حکومت کے لئے سرکاری گواہ بننے کے لئے تیار ہوگیا ۔

8 فروری کو ہیڈلی کی امریکہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پہلی بار گواہی ہوئی ۔ اس دوران اس نے ممبئی حملے سے متعلق کئی راز فاش کئے ۔ گزشتہ سال دسمبر میں لشکر طیبہ کے پاکستانی ۔ امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کو ممبئی کی ایک عدالت نے 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے معاملے میں سرکاری گواہ بنایا اور معافی دے دی ۔ کورٹ نے صاف کہا کہ ہیڈلی کو 26/11 حملوں میں اس کا اور باقی سبھی ملزمین کا رول بتانا ہوگا اور پوری سازش کے بارے میں اطلاع فراہم کرنی ہوگی ۔ اسے بتانا ہوگا کہ اس نے اور اس کی اطلاع کے مطابق باقی لوگوں نے ہندوستان کے خلاف کیا کیا سرگرمیاں انجام دیں ؟ جوائنٹ پولیس کمشنر (کرائم) انل کلکرنی نے کہا کہ یہ ڈیولپمنٹ بہت اہم ہے ۔ اس سے حملوں کی سازش کا پتہ چلے گا ۔ کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 8 فروری مقرر کی تھی ۔ فی الوقت ممبئی حملوں میں اپنے رول کو لے کر امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیڈلی نے ممبئی میں ایک عدالت میں نامعلوم مقام سے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے کہا کہ وہ معافی دیئے جانے پر گواہی دینے کو تیار ہے ۔ ہیڈلی نے عدالت سے کہا کہ کورٹ میں میرے خلاف جو چارج شیٹ داخل ہے اس میں وہی الزامات ہیں ، جو میں نے امریکہ میں قبول کیا تھا ۔ میں نے قبول کیا ہے کہ میں ان الزامات میں ملوث تھا ۔ نومبر 2015 میں ممبئی سیشن کورٹ نے 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے میں ہیڈلی کو ملزم بنانے کا فیصلہ سنایا تھا ۔
8 فروری کو ہوئی ہیڈلی کی گواہی کے دوران خاص بات یہ رہی کہ کورٹ میں امریکہ سے آئی ایک خصوصی ٹیم بھی موجود تھی ۔ کہا جارہا ہے کہ یہ ٹیم پورے مرحلے پر نظر رکھے ہوئے تھی ۔ جج جی اے سانَپ کی خصوصی عدالت میں ایک بڑا ٹی وی اسکرین لگایا گیا تھا جس کے ذریعہ کورٹ میں ہیڈلی کی گواہی کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ ممبئی حملے میں لشکر طیبہ ، حافظ سعید اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت کس انداز سے پاکستان کی حکومت پر ملزمین کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بناتی ہے ؟

TOPPOPULARRECENT