Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ہ30-جنوری کے اسمبلی ریکارڈ کو درست کرنے کا مطالب

ہ30-جنوری کے اسمبلی ریکارڈ کو درست کرنے کا مطالب

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : گورنمنٹ چیف وہپ نے حکومت اور اسپیکر اسمبلی مسٹر این منوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ 30 جنوری کے اسمبلی ریکارڈ کو درست کریں ۔ اسمبلی میں متفقہ رائے سے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی جانب سے تلنگانہ بل کو مسترد کرنے کی قرار داد نہیں ہوئی ہے ۔ صرف سیما آندھرا کے ارکان اسمبلی نے اس قرار داد کی تائید کی ہے ۔ ریاست

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : گورنمنٹ چیف وہپ نے حکومت اور اسپیکر اسمبلی مسٹر این منوہر سے مطالبہ کیا کہ وہ 30 جنوری کے اسمبلی ریکارڈ کو درست کریں ۔ اسمبلی میں متفقہ رائے سے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی جانب سے تلنگانہ بل کو مسترد کرنے کی قرار داد نہیں ہوئی ہے ۔ صرف سیما آندھرا کے ارکان اسمبلی نے اس قرار داد کی تائید کی ہے ۔ ریاست کی تاریخ میں تلنگانہ کے وزراء نے کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا ہے ۔ اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی ہونے کے بعد گورنمنٹ چیف وہپ نے سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر گورنمنٹ وہپ مسٹر انیل اور کانگریس کے ایم ایل سی مسٹر یادو ریڈی بھی موجود تھے ۔ گورنمنٹ چیف وہپ مسٹر جی وینکٹ رمنا ریڈی نے کہا کہ 30 جنوری کو اسمبلی میں اسپیکر اور کونسل میں صدر نشین نے علاقہ تلنگانہ کے ارکان کی رائے کا احترام کرتے ہوئے چیف منسٹر کی جانب سے تلنگانہ بل کو مسترد کرنے کی قرار داد کو متفقہ رائے سے منظور ہونے کا اعلان کیا جس کے خلاف تلنگانہ کے ارکان نے دونوں ایوانوں میں احتجاج کرتے ہوئے ریکارڈ درست کرنے اور اس کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ گورنمنٹ چیف وہپ نے قائد اپوزیشن مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو ریاست کے لیے منحوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تائید میں قرار داد منظور کرنے کے بعد دہلی پہونچ کر بی جے پی کو تلنگانہ بل کی تائید نہ کرنے کی اپیل کررہے ہیں ۔ ممبئی پہونچ کر ٹھاکرے سے منت سماجت کررہے ہیں ۔ چینائی پہونچ کر جیہ للیتا اور کروناندھی سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے قومی قائد مسٹر وینکیا نائیڈو بھی بچوں جیسی باتیں کررہے ہیں ۔ تلنگانہ کی غیر مشروط تائید کرنے کا اعلان کرنے والی بی جے پی اگر مگر کے بہانے تلاش کررہی ہے ۔ اگر بی جے پی کو کوئی اعتراضات ہیں تو وہ مباحث میں حصہ لے اور ترمیمات پیش کرے مگر وعدے کے مطابق تلنگانہ بل کی تائید کرے۔۔

TOPPOPULARRECENT