Wednesday , January 24 2018
Home / فیچر نیوز / یا قوم کے رہبر گرتے ہیں یا لوک سبھا گرجاتی ہے

یا قوم کے رہبر گرتے ہیں یا لوک سبھا گرجاتی ہے

رشیدالدین

رشیدالدین
13 ڈسمبر 2001 ء کو پارلیمنٹ کے احاطہ میں اچانک چند دہشت گرد گھس آئے اور پارلیمنٹ پر حملہ کردیا تھا۔ دہشت گردوں کو پارلیمنٹ کے اندر داخلے سے روکنے میں سیکوریٹی فورسس کامیاب رہی تھی لیکن اس حملے کے 13 برس بعد پارلیمنٹ کے اندر حملہ ہوا ہے۔ دہشت گردوں نے پارلیمنٹ اور ملک کی سلامتی کو چیلنج کیا تھا لیکن 13 فروری کو لوک سبھا میں ارکان نے ایک دوسرے پر حملہ نہیں کیا بلکہ ملک کی پارلیمانی جمہوریت کو لہو لہان کردیا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کی تاریخ بھی 13 تھی اور جمہوریت پر حملہ کی تاریخ بھی 13 ہے۔ 2001 ء کا حملہ پارلیمنٹ کے باہر تھا لیکن یہ حملہ پارلیمنٹ کے اندر کیا گیا۔ دہشت گردوں کا مقصد تباہی مچانا ہوتا ہے اور ان کے حملوں کے مقاصد سے ہر کوئی واقف ہے لیکن اگر ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے کے ارکان ’’سیاسی دہشت گردی‘‘ کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف قانون ساز اداروں کا وقار مجروح ہوگا بلکہ دنیا بھر میں ہندوستان اور اس کی جمہوری روایات و اقدار کی پامالی ہوگی۔ دراصل سیاسی جماعتوں کی ووٹ بینک سیاست نے پارلیمانی جمہوریت کی وقعت کو گھٹادیا ہے۔ جب قانون سازوں کی ترجیح سیاسی اغراض کی تکمیل ہوجائے تو پھر ان سے کسی چیز کی بھی توقع کی جاسکتی ہے اور وہ سیاسی مقصد براری کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ 13 فروری کو لوک سبھا میں جو کچھ ہوا اس نے دنیا بھر میں ہندوستان کا سر شرم سے جھکادیا ہے ۔ آندھراپردیش کی تقسیم سے متعلق بل کی پیشکشی کے موقع پر لوک سبھا میں دیکھے گئے مناظر نے پارلیمانی جمہوریت کو شرمسار کردیا۔

ارکان میں تصادم، فری اسٹائیل دنگل کا ماحول اور پھر مضرت رساں مرچ پاؤڈر اسپرے کے استعمال کے ذریعہ جو ماحول پیدا کیا گیا اسے دیکھ کر ساری قوم حیرت میں تھی کہ یہ وہی قانون ساز ہیں جنہیں اس امید کے ساتھ منتخب کر کے بھیجا گیا کہ وہ عوامی بھلائی کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔ جب قانون ساز خود قانون شکنی پر اتر آئیں تو قانون ساز ادارے کا وقار یقینی طور پر مجروح ہوگا۔ آندھراپردیش کی تقسیم کا بل پیش کرنے کے دوران حامی اور مخالف ارکان ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور سڑک چھاپ غنڈوں کی طرح متصادم ہوگئے۔ یقیناً یہ واقعات جمہوریت پر بدنما داغ ہیں اور جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ آخر لوک سبھا کی اس صورتحال کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ پارلیمنٹ کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر درج کئے جانے والے واقعات کا قصوروار کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ سارے واقعات کی ذمہ داری کانگریس اور یو پی اے حکومت پر عائد ہوگی جس نے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے انتہائی حساس مسئلہ کو چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کے اس چناوی کھیل میں پارلیمنٹ کو شرمسار ہونا پڑا۔ دنیا بھر میں ہندوستانی پارلیمانی نظام اور اس کی خوبیوں کی مثال دی جاتی ہے لیکن حقیر سیاسی مفادات کے سبب پارلیمنٹ کی توہین کی تک پرواہ نہیں کی گئی۔ یوں تو سابق میں مختلف مسائل پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی ہوچکی ہے لیکن حالیہ واقعہ نے تمام حدود کو پار کرلیا۔ 1970 ء سے پارلیمنٹ میں موجود ایل کے اڈوانی کو کہنا پڑا کہ سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ اس طرح کی صورتحال سے روبرو ہوئے ہیں ۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے مسئلہ پر 2009 ء کے انتخابات کے بعد مہم میں شدت سے کون واقف نہیں۔ مختلف مراحل طئے کرتے ہوئے تلنگانہ مسئلہ بل کی شکل میں پارلیمنٹ تک پہنچا۔ کانگریس پارٹی نے بجائے اس کے کہ دونوں علاقوں کے عوام کو مذاکرات کے ذریعہ تقسیم کیلئے راضی کرتی ، اس نے اپنی تحکمانہ روایات کو جاری رکھتے ہوئے تقسیم کے فیصلہ کو عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2004 ء میں کانگریس نے تلنگانہ کا وعدہ کیا تھا اور یو پی اے حکومت نے دو میعادیں مکمل کیں لیکن 10 برسوں میں بل کی پیشکشی پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب جبکہ 15 ویں لوک سبھا کا یہ آخری سیشن ہے، جنگی خطوط پر بل نہ صرف تیار کیا گیا بلکہ مباحث کے بغیر منظور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اگر کانگریس اس معاملہ میں سنجیدہ تھی تو پھر دس برس تک مسئلہ کو کیوں ٹالا گیا اور اب 2014 عام انتخابات میں تلنگانہ کے نام پر ووٹ اور سیٹ کی سیاست کی جارہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر آندھراپردیش اسمبلی نے 9000 سے زائد تجاویز روانہ کیں لیکن تمام کو بے خاطر کردیا گیا۔

افسوس تو اس بات پر ہے کہ ریاست کی تقسیم کے سلسلہ میں اپنی ہی پارٹی کے دونوں علاقوں کے قائدین کو اعتماد میں لینے میں ناکام کانگریس پارٹی بی جے پی کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔ اسے کانگریس کی نااہلی نہیں تو کیا کہا جائے کہ وہ علاقہ کے عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے آئندہ انتخابات میں اقتدار کا خواب دیکھنے والی فرقہ پرست بی جے پی کے آگے سرنگوں ہوکر تائید کی بھیک مانگ رہی ہے۔ تشکیل تلنگانہ مسئلہ پر کانگریس کی سنجیدگی پر عوام کیونکر بھروسہ کریں گے جبکہ تلنگانہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو نہ صرف کھلی چھوٹ دی گئی بلکہ ان کی پشت پناہی کی جارہی ہے۔ اگر بغاوت کے ساتھ ہی چیف منسٹر کے خلاف کارروائی کی جاتی تو کانگریس کی سنجیدگی کے دعوؤں پر اعتبار کی گنجائش تھی۔ کانگریس لوک سبھا میں بل کی پیشکشی کے ذریعہ ریاست کے دونوں علاقوں میں انتخابی فائدہ تلاش کر رہی ہے ۔
جہاں تک لوک سبھا میں گڑبڑ کا تعلق ہے، حکومت کو اس کا مکمل طور پر علم تھا ، پھر بھی وہ ایوان میں نظم بحال کرنے میں ناکام رہی۔ احتجاج کرنے والوں میں کانگریسی ارکان کی تعداد زیادہ تھی جن میں بعض وزراء بھی شامل تھے ۔ تلنگانہ مسئلہ پر لوک سبھا میں کانگریس کے ہاتھوں کانگریس کی رسوائی ہوئی ہے اور پارٹی میں داخلی انتشار بے نقاب ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کیوں چاہے گی کہ انتخابات سے عین قبل تشکیل تلنگانہ کا سہرا کانگریس کے سر باندھے ۔ جواہر لال نہرو سے راجیو گاندھی تک پارٹی صدر کی موجودگی میں کسی رکن کی مجال نہیں تھی کہ وہ عدول حکمی کرے لیکن اب تو ارکان کے ساتھ مرکزی وزراء بھی ایوان کے وسط میں نظر آئے۔ اس سے کمزور قیادت کے ساتھ ساتھ پارٹی پر قیادت کی کمزور گرفت اور قائدین میں قیادت کے احترام کی کمی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ کانگریس کے ایک رکن نے مرچ اسپرے کا استعمال کرتے ہوئے ارکان کی صحت سے کھلواڑ کی کوشش کی ہے۔

ایک اور رکن پر ایوان میں چاقو نکالنے کا الزام ہے۔ وزیراعظم اور صدر کانگریس کی موجودگی میں سب کچھ ہوتا رہا اور قیادت کو صرف سیاسی فائدہ کی فکر تھی۔ ملک کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنے والے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے اپنی سلامتی کے بارے میں فکر مند تھے اور کئی ارکان کے گھیرے کے باوجود خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے تھے۔ اس صورتحال کیلئے حکومت اور کانگریس پارٹی کو قوم سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ اس قدر شرمناک واقعات اور جمہوریت پر بدنما داغ کے باوجود وزیراعظم منموہن سنگھ ، صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ہر مسئلہ پر تبصرہ کرنے کے ماہر پی چدمبرم کہاں ہیں؟ ایک دن قبل ہوئی گڑبڑ سے دکھی ہوکر منموہن سنگھ نے کہا تھا ’’میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے‘‘ لیکن 13 فروری کے واقعات پر منموہن سنگھ کا دل نہیں رویا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے دو میعادوں کے دوران عوام مہنگائی ، اسکامس، کرپشن اور دیگر مسائل کا شکار رہیں لیکن منموہن سنگھ کا دل نہیں رویا۔ آسام ، مظفر نگر اور دوسرے علاقوں میں فسادات میں مسلمانوں کا خون بہتا رہا لیکن وزیراعظم کا دل نہیں رویا۔ کانگریس ہائی کمان نے ریموٹ کنٹرول وزیراعظم کی طرح انہیں استعمال کیا۔ حتیٰ کہ پارٹی کے یوراج نے کابینہ کے بعض فیصلوں کو تبدیل کردیا لیکن اس توہین پر بھی منموہن سنگھ کا دل نہیں رویا۔ اب جبکہ صدر کانگریس کے سیاسی مقصد براری سے متعلق فیصلہ میں رکاوٹ دکھائی دی تو منموہن سنگھ کا دل رو بیٹھا۔ شاید اس طرح وہ سونیا گاندھی کا من موہ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کانگریس ارکان کی حرکتوں سے پارلیمنٹ شرمسار ہونے کے باوجود وزیراعظم کچھ کہے بغیر روانہ ہوگئے۔ یہ ان کی بے بسی نہیں تو اور کیا ہے۔ وزیراعظم کی اس بے بسی پر یقیناً ساری قوم کا دل رو رہا ہوگا۔ سیما آندھرا کے 6 ارکان کی پارٹی سے برطرفی اور 16 ارکان کی پارلیمنٹ سے معطلی محض ایک ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں۔ احتجاج کرنے والوں میں مرکزی وزراء بھی تھے لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ جس وقت لوک سبھا میں طوفان بدتمیزی کا ماحول تھا، بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کی اسپیکر شیرین شرمین چودھری ایوان کی کارروائی کا مشاہدہ کرنے موجود تھیں۔

بنگلہ دیش کے پارلیمانی وفد نے ہندوستانی ایوانوں کے بارے میں کیا تاثر لیا ہوگا۔ الغرض لوک سبھا (سنسد) سے لیکر سڑک تک قانون ساز اداروں کا وقار مجروح ہوا ہے۔ کالی مرچ کے اسپرے سے بھلے ہی چند ارکان کے آنکھوں میں جلن ہوئی لیکن ہندوستان کی جمہوریت طویل عرصہ تک اس کی جلن محسوس کرے گی ۔ ایک احتجاجی رکن نے بھلے ہی چاقو نہ نکالا ہو لیکن غیر محسوس طریقہ سے یہ چاقو جمہوریت کے سینے میں چبھ گیا۔ سفید پوشی کی آڑ میں جمہوریت پر کلنک ان عناصر پر تاحیات پابندی عائد کی جائے، تب بھی یہ سزا ان کے جرم کے مقابلہ میں کم ہی ہوگی۔ توقع کی جارہی تھی کہ ارکان پارلیمنٹ کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے کے الزام کے تحت راج گوپال کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا ۔ ابتداء میں اس طرح کی اطلاعات اسپیکر کے دفتر سے دی گئی کہ راج گوپال کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے لیکن بعد میں انہیں کسی کارروائی کے بغیر چھوڑ دیا گیا ۔ پتہ یہ چلا کہ پارلیمنٹ کا سیکوریٹی عملہ ان کا تحفظ کر رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ راج گوپال کا شمار پارلیمنٹ کے دولت مند ارکان میں تیسرے نمبر پر ہے اور ان کے اثاثہ جات کی مالیت 299 کروڑ ہے ۔ ظاہر ہے کہ کانگریس پارٹی کو وقت ضرورت کام آنے والے اس رکن کے خلاف کارروائی میں یقیناً دشواری ہوگی۔ لوک سبھا کی صورتحال پر منور رانا کا یہ شعر ہمیں یاد آگیا۔
اب تک تو ہماری آنکھوں نے بس دو ہی تماشے دیکھے ہیں
یا قوم کے رہبر گرتے ہیں یا لوک سبھا گرجاتی ہے

TOPPOPULARRECENT