Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / یروشلم اسرائیل کا ہے اور اسرائیل کا ہی رہے گا: نتن یاہو

یروشلم اسرائیل کا ہے اور اسرائیل کا ہی رہے گا: نتن یاہو

ووٹنگ کے وقت غیرحاضر رہنے والے ممالک سے بھی اظہارتشکر
ووٹنگ اسرائیل کو نیند سے جگانے کیلئے کافی : عرب رکن پارلیمان
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے پہلے سفیر اباایبان کے مضحکہ خیز
بیان کا حوالہ

یروشلم ۔ 22 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت بنانے کے فیصلہ پر ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا اظہار کیا اور ان 127 ممالک کو بھی نہیں بخشا جنہوں نے جنرل اسمبلی میں امریکہ کے اس فیصلہ کے خلاف ووٹ دیا جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ نتن یاہو نے اس ووٹنگ کو بے معنی قرار دیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ہندوستان نے بھی کل ان 127 ممالک کی فہرست میں خود کو شامل کرلیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی مخالفت کی جنہوں نے امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت بنائے جانے کے فیصلہ کو یکسر مسترد کردیا۔ واضح رہیکہ 6 ڈسمبر کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا نیا دارالحکومت بنا کر امریکی سفارتخانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیں گے جس کے بعد عالمی سطح پر اس فیصلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کئے گئے۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 127 ممالک کے ووٹس کو تسلیم نہیں کرتا البتہ ان ممالک کا شکرگزار ہے جنہوں نے امریکی فیصلہ کی تائید کی ہے اور ’’جھوٹوں‘‘ کا ساتھ نہیںدیا۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے فوری بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں نتن یاہو نے کہا کہ یروشلم ہمارا دارالحکومت تھا اور ہمارا ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ممالک کے ساتھ اظہارتشکر کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ووٹنگ سے غیرحاضر ہوکر ’’درپردہ‘‘ اسرائیل کی تائید کی ہے۔ خصوصی طور پر ہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کی امریکی سفیر نکی ہیلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے مخصوص طریقہ سے نہ صرف اسرائیل کا بلکہ ’’سچائی‘‘ کا بھی دفاع کیا۔ یاد رہیکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکہ کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی جہاں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے پر ٹرمپ انتظامیہ پر شدید مذمت کی گئی تھی اور دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے سفارتخانے یروشلم ہرگز منتقل نہ کریں۔ مخالفین کو ہمارے خلاف ووٹ دینے دیجئے۔ ہم اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ امریکہ اب ایسے ممالک کو کوئی مالی تعاون پیش نہیں کرے گا جو امریکہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں۔ چلو اچھا ہی ہے، ہم اپنے کروڑہا ڈالرس بچا سکیں گے جو امریکی عوام کی فلاح وبہبود میں کام آئیں گے۔ یہ جملے ٹرمپ نے اس وقت کہے تھے جب انہیں نکی ہیلی کے اس سحت موقف کا پتہ چلا جو انہوں نے امریکہ کی مخالفت کرنے والے ممالک کے خلاف اپنایا تھا۔ اسرائیل کے یہودی سیاستدانوں نے اقوام متحدہ کے خلاف برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ عرب ارکان پارلیمان نے اسے ایک ’’نیند سے جگانے والا‘‘ عمل قرار دیا۔ ایک حیرت انگیز بیان کو اسرائیل کے انتہائی عیار وزیر دفاع اویگڈور لبرمین کی جانب سے دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کے پہلے سفیر اباایبان کے ایک پیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ اباایبان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی کارروائی چلائے جانے کے طریقہ کو کچھ اس طرح بیان کیا تھا کہ اگر الجیریا یہ قرارداد متعارف کرے کہ زمین گول نہیں چپٹی اور اسے اسرائیل نے چپٹا کیا ہے تو اس قرارداد کو 164 ووٹوں سے منظور کرلیا جائے گا جبکہ صرف 13 ووٹس اس کے خلاف پڑیں گے اور 26 ممالک غیرحاضر ہوں گے۔ لہٰذا اس وقت بھی اقوام متحدہ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور امریکہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اندھیرے میں امریکہ ہی صرف ایک روشنی کی کرن ہے۔ اسرائیل کے وزیر برائے اسٹیرٹیجک امور اور عوامی سلامتی گیلاڈایرڈان نے بھی اقوام متحدہ میں امریکہ کے خلاف ووٹنگ پر تنقید کی لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہیکہ یروشلم کے ہر حصہ میں اسرائیل کی خودمختاری، سیکوریٹی اور تعمیری امور کو مستحکم کیا جائے جبکہ اسرائیلی پارلیمنٹ نیسیٹ میں عرب جوائنٹ لسٹ کے صدرنشین ایمن اودیہہ نے کہا کہ یہ ووٹنگ اسرائیل کو ’’نیند سے جگانے‘‘ کے لئے کافی ہے۔

TOPPOPULARRECENT