Thursday , May 24 2018
Home / دنیا / یروشلم تنازعہ : ڈونالڈ ٹرمپ ’’مخبوط الحواس شخص‘‘ : کم جونگ اُن

یروشلم تنازعہ : ڈونالڈ ٹرمپ ’’مخبوط الحواس شخص‘‘ : کم جونگ اُن

’’جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کا باعث امریکہ ہے‘‘ :شمالی کوریا
سیئول۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیئے جانے پر امریکہ کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے شمالی کوریا سربراہ کم جونگ اُن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ’’مخبوط الحواس شخص‘‘ قرار دیا۔ کم جونگ اس سے پہلے بھی امریکہ کے ساتھ موجودہ تنازعہ کے تناظر میں امریکی صدر کے بارے میں اہانت آمیز بیان دے چکے ہیں۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کے سی این اے‘ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا امریکی قیادت کی ذہنی پستی اور کم عقلی کو ظاہرکرتا ہے، اور موجودہ امریکی صدر سے ایسے ہی فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تقریباً گزشتہ 8 برسوں میں اقوام متحدہ کے کسی سینیئر اہلکار کا شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریائی بحران کی شدید کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی کوشش ہے۔اقوام متحدہ کے سفارت کار جیفری فیلٹمین نے شمالی کوریا کا دورہ مکمل کر لیا ہے۔ وہ پانچ دن شمالی کوریائی دارالحکومت پیونگ یانگ میں گزارنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ پیونگ یانگ میں قیام کے دوران فیلٹمین نے وزیر خارجہ ری یونگ ہو کے علاوہ نائب وزیر خارجہ پاک میونگ کْک سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے نمائندے پر واضح کیا کہ جزیرہ نما کوریا میں امریکہ کا رویہ کشیدگی اور تناؤ کا باعث ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جوہری بلیک میلنگ کا مرتکب ہوا ہے اور اسی باعث اس خطے میں صورت حال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اْس کا جوہری ہتھیار سازی کا پروگرام کلی طور پر دفاعی ہے۔کمیونسٹ ملک کی نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق پیونگ یانگ حکام نے عالمی ادارے کے سفارت کار پر واضح کیا کہ امریکی پالیسی جارحیت پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شمالی کوریائی حکام نے اقوام متحدہ کے ساتھ مختلف سطحوں پر تواتر کے ساتھ رابطے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ کے سی این اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اقوام متحدہ کے اہلکار کی شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اْن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

نیپال الیکشن:بائیں بازو اتحاد کو سبقت حاصل
کٹھمنڈو۔9دسمبر(سیاست ڈاٹ کام)نیپال میں دو بڑی کمیونسٹ پارٹیوں یونیفائڈ مارکسسٹ لیننسٹ اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال(ماؤوسٹ سینٹر) نے پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں خاصی سبقت حاصل کرلی ہے اور آئندہ حکومت بھی اسی اتحاد کی بننے جارہی ہے ۔نیپال الیکشن کمیشن نے آج جو ابتدائی نتائج جاری کئے ہیں۔
ان کے مطابق اس اتحاد نے قومی اسمبلی کی19 نشستیں جیت لی ہیں اور 81 حلقوں میں اسے خاصی سبقت حاصل ہے ۔اسمبلی میں 165 نشستوں پر براہ راست انتخاب عمل میں آتا ہے اور 110 نشستیں حسب تناسب نمائندگی کی بنیاد پر پارٹیوں کو دی جاتی ہیں۔ نیپال کانگریس جو پچھلے الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی اب تک محض تین سیٹیں ہی جاتی پائی ہیں۔ مقبول نیپالی روزنامہ ”کانتی پور’ کے اڈیٹر سدھیر شرما کے مطابق واضح اشارہ مل گیا ہے کہ بائیں بازو کا اتحاد ہی غالب اکثریت کیساتھ حکومت بنائے گا۔ سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ حتمی نتائج کے اعلان میں کچھ دن لگ جائیں گے ۔ نیپال میں پارلیمانی انتخابات انتہائی پرامن رہے ۔ دو مرحلے میں پولنگ ہوئی۔ ملک کے شمالی حصے میں 26 نومبر کو ووٹ ڈالے گئے تھے اور باقی حصوں میں جمعرات کو۔نیپال میں 2015 میں منظور کردہ آئین کے تحت 7 صوبائی اسمبلیوں کا یہ پہلا الیکشن تھا۔ انتخابی ذمہ داران کے مطابق 67% کے قریب پولنگ ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT