Wednesday , May 23 2018
Home / عرب دنیا / یروشلم فیصلے پر ترکی میں او آئی سی کی چوٹی کانفرنس

یروشلم فیصلے پر ترکی میں او آئی سی کی چوٹی کانفرنس

فرانس میں ٹرمپ کا فیصلہ مسترد ، دنیا بھر بشمول یوروپ اور عالم اسلام میں فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے
اسلام آباد ۔11 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی ) کی غیرمعمولی چوٹی کانفرنس میں جو یروشلم کے موضوع پر جاریہ ہفتہ ترکی کے دارالحکومت میں مقرر ہے ، شرکت کریں گے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ چوٹی کانفرنس 13 ڈسمبر کو استنبول میں منعقد ہوگی ۔ اس کے بعد وزرائے خارجہ کی مجلس کا اجلاس ہوگا جس میں وزیرخارجہ پاکستان خواجہ آصف بھی شرکت کریں گے ۔ یہ چوٹی کانفرنس صدر ترکی کی جانب سے بحیثیت صدرنشین او آئی سی طلب کی گئی ہے ۔ تنظیم کے بیشتر رکن ممالک کی شرکت متوقع ہے ۔ دریں اثناء پیرس سے موصولہ اطلاع کے بموجب فرانس کے صدر عمانول میکرون نے وزیراعظم اسرائیل نیتن یاہو کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہاکہ فرانس صدر امریکہ کے یروشلم کے بارے میں فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا ۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم اسرائیل نے بھی شرکت کی تھی ۔ دریں اثناء صدر ترکی رجب طیب اردوغان نے کہا کہ امریکہ کو انتباہ دیا جاتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں خونریزی کا ذمہ دار ہوگا ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے ۔ ترکی اس فیصلے کا سخت مخالف ہے۔ صدر ترکی اردوغان نے کہاکہ وہ عالم اسلام کو اس فیصلے کے خلاف متحرک کریں گے۔ 13 ڈسمبر کو استنبول میں تنظیم اسلامی تعاون کی چوٹی کانفرنس مقرر ہے جس میں عالم اسلام کی اعلیٰ سطحی قیادت کی شرکت متوقع ہے ۔ وہ یروشلم کے بارے میں پورے عالم اسلام کو مخالفت پر متحد کرنے کیلئے حتی الامکان کوشش کریں گے ۔ تہران سے موصولہ اطلاع کے بموجب سیکڑوں کٹر ایرانی قدامت پسندوں نے اسرائیل کے خلاف آج ایک جلوس نکالا اور کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی موت کو قریب آنے کی دعوت دی ہے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے ۔ جلوس میں شریک افراد نے کہا کہ امریکہ کو ایسی کوششوں میں شرکت کے خلاف انتباہ دیا جاتا ہے ۔ قاہرہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر روس ولادیمیری پوٹن نے آج اسرائیل۔فلسطین امن مذاکرات کے جلد از جلد احیاء کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مسئلہ پر بھی امن مذاکرات میں تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ وہ مصر کے دورہ پر ہیں اور سرکاری ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فلسطین ۔ اسرائیل امن مذاکرات کے فوری احیاء کی ضرورت پر زور دیااور کہا کہ ان مذاکرات میں تمام سلگتے ہوئے مسائل پر باہم تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ یروشلم سے موصولہ اطلاع کے بموجب آج پانچویں دن بھی پورے مشرق وسطیٰ میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف برہم عوام کے احتجاجی جلوس اور جلسے جاری رہے ۔ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید میں شدت پیدا ہوگئی ۔ دنیا بھر سے اُن کے فیصلے کی مذمت کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو نے یوروپی یونین کے وزرائے خارجہ سے بروسلز میں ربط پیدا کیا اور اُن سے امریکہ کے فیصلے کی تقلید کرنے کی توقع ظاہر کی ۔ تاہم یوروپی یونین کی جانب سے اس سے کوئی اتفاق نہیں کیا گیا ۔ صدر ایران حسن روحانی نے اتوار کے دن کہا تھاکہ ٹرمپ کا فیصلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ کرے گا اور یہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوگا ۔ یہ فیصلہ آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ برلن سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت جرمنی نے آج کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا فیصلہ شرمناک ہے ۔ تاہم اُس نے احتجاجی مظاہروں کی جو جرمنی کے تمام شہروں میں اسرائیل اور یہودیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کئے جارہے ہیں مذمت کی۔ انھوں نے کہاکہ بعض جلسوں میں نعرہ بازی کی گئی ۔ اسرائیلی پرچم جلائے گئے اور مملکت اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف بدگوئی کی گئی ۔ بحیثیت عمومی یہ کارروائی شرمناک ہے۔ جرمن شہروں کی سڑکوں پر یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی پوسٹرس چپکائے گئے ہیں۔ برلن پر اسرائیل اور یہودی عوام کے سلسلے میں خصوصی ذمہ داری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT