Monday , November 20 2017
Home / عرب دنیا / یروشلم میں مزید خونریزی، کشیدگی دور کرنے کی کوششیں

یروشلم میں مزید خونریزی، کشیدگی دور کرنے کی کوششیں

سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب پر اعتراض، مہلوک فلسطینیوں کی تعداد 56 ہوگئی
یروشلم 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) تازہ مخالف اسرائیل تشدد کے دوران 3 فلسطینی شہریوں کو مقبوضہ مغربی کنارہ میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جبکہ یروشلم کی مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں کشیدگی دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اِس مقام پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی وجہ سے تازہ تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ تشدد میں آج عروج کی وجہ سے کشیدگی میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں کیوں کہ فلسطینی جن میں سے بیشتر کمسن لڑکے ہیں، حبرون کے متوطن ہیں اور اُنھوں نے اسرائیلی فوجیوں پر چاقو زنی میں حصہ لیا اور مقبوضہ مغربی کنارہ میں فوج کے ساتھ متصادم ہوگئے، چاقو زنی کی وارداتیں اور پرتشدد احتجاج روز کا معمول بن چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشیدگی میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ یروشلم کے پرانے شہر میں مسجد اقصیٰ کا احاطہ اوائل اکٹوبر سے سخت کشیدہ صورتحال کا مشاہدہ کررہا ہے۔ پیر کی رات اسرائیل نے کہا تھا کہ اُس نے غزہ پٹی میں حماس کے اہداف پر فضائی حملے اِس لئے کئے کیوں کہ سرحد پار سے اسرائیل پر راکٹ حملہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ راکٹ کھلے میدان میں گر پڑا جس کی وجہ سے کوئی ہلاکت واقع نہیں ہوئی اور نہ کوئی زخمی ہوا۔ 3 فلسطینیوں کو پیر کے دن بھی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ جبکہ اُنھوں نے ایک اسرائیلی فوجی کی گردن پر چاقو سے وار کیا تھا۔ ایک اور فلسطینی کو چاقو زنی کی کوشش کے دوران ہلاک کردیا گیا۔

ایک17  سالہ نوجوان کو حبرون میں جھڑپوں کے دوران ہلاک کردیا گیا جس کی وجہ سے جھڑپیں شروع ہوگئیں لیکن احتجاج کی وجہ ہنوز نامعلوم ہے۔ پیر کے دن تشدد کے واقعات میں فلسطینی مہلوکین کی تعداد مبینہ طور پر 56 ہوگئی ہے۔ ایک عرب نژاد اسرائیلی حملہ آور بھی ہلاک کردیا گیا ۔ اسرائیل نے ہفتہ کے دن اتفاق کیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں جاسوس کیمرے نصب کئے جائیں گے جبکہ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے اِس فیصلہ کو ’’حالات تبدیل کرنے والا اقدام‘‘ قرار دیا تھا لیکن اِس اقدام میں فوری رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ اردن زیرانتظام ٹرسٹ جو اس مقام کا متولی ہے، اور اس مقام کو وقف جائیداد قرار دیا جاتا ہے، اُس نے شکایت کی کہ جب سرکاری عہدیدار پیر کی علی الصبح کیمرے نصب کرنے کے لئے آئے تھے تو اسرائیلی پولیس نے اُن کا راستہ روک دیا تھا۔ وزیراعظم اسرائیل بنجامن نیتن یاہو نے اِس بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے انتظامات کو ماہرین کی تائید حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT