Tuesday , June 19 2018
Home / دنیا / یروشلم : ٹرمپ کافیصلہ زمینی حقائق کی عکاسی : وائیٹ ہاؤس

یروشلم : ٹرمپ کافیصلہ زمینی حقائق کی عکاسی : وائیٹ ہاؤس

اسرائیل کی جانب سے فیصلہ کاخیرمقدم کیا جانا فطری بات
قیام امن کیلئے امریکہ اپنے وعدہ کا بدستور پابند
ٹرمپ نے بغیر ملک کے شہر کو ’’اسرائیل‘‘ جیسا سرپرست دیا
وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس کی نیوز بریفنگ
واشنگٹن ۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنائے جانے کے اعلان کے بعد انہیں زبردست تنقیدوں اور مذمت کا سامنا ہے۔ تاہم وائیٹ ہاؤس نے آج سے اپنے ’’آقا‘‘ کے اس فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان ’’زمینی حقائق کی عکاسی‘‘ کرتا ہے جبکہ قیام امن کیلئے امریکہ اپنے وعدہ کا بدستور پابند ہے۔ یاد رہیکہ چہارشنبہ کو صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا نیا دارالخلافہ بنائے جانے کا اعلان کیا تھا جبکہ اب تک تل ابیب اسرائیل کا دارالخلافہ رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلہ کا اسرائیل نے فوری خیرمقدم کیا جوکہ ایک فطری بات ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے علاوہ امریکہ کے کئی حلیف ممالک نے بھی اس اعلان کی مذمت کی جبکہ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا ہیکہ قیام امن کیلئے امریکہ اپنے وعدہ کا بدستور پابند ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے اپنی روزمرہ کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہیکہ قیام امن کا معاہدہ کو بھی عاجلانہ طور پر قطعیت دی جائے گی۔ جب سارہ سینڈرس سے یہ پوچھا گیا کہ کیا کوئی دیگر ملک بھی امریکہ کے فیصلہ کی تقلید کررہا ہے تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تاہم یہ بھی کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی ملک ایسا کرے لیکن فی الحال میں ایسی کسی صورتحال سے واقف نہیں۔ دوسری طرف ایک علحدہ بریفنگ کے دوران عبوری سکریٹری آف اسٹیٹ برائے نیرایسٹرن افیرس ڈیوڈ ستر فیلڈس نے استدلال پیش کیا کہ یروشلم کو اگر اسرائیل کا دارالخلافہ بنایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم یروشلم کی سرحدیں یا خودمختاری ختم کردیں گے جن میں جغرافیائی حدود بھی شامل ہیں۔ فی الحال میں اس سے زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتا۔

انہوں نے البتہ یہ بات ضرور کہی کہ امریکہ سرحدی خودمختاری کو ہی بات چیت کا مستقل موضوع تصور کرتا ہے جن کی یکسوئی فریقین کے ذریعہ کی جانے والی بات چیت کے ذریعہ ہوگی۔ جہاں تک سفارتی طریقہ کار کی بات ہے تو پاسپورٹ کی اجرائی کے تعلق سے امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہاں! جہاں تک نقشوں کا تعلق ہے تو امریکہ اس معاملہ پر غوروخوض کررہا ہے۔ سترفیلڈ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس تعلق سے غورخوض کے بعد اگر کوئی فیصلہ کیا گیا تو اس کا اعلان کردیا جائے گا جس کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ سرکاری طور پر یو ایس جی کے ذریعہ تیار کئے میاپنگ طریقہ کار کو یروشلم کیلئے کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ دریں اثناء ایوان کے خارجی امور کمیٹی کے صدرنشین ایڈرائس نے بھی ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دیئے جانے کا خیرمقدم کیا۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دارالخلافہ سے متعلق فکرمند ہونا چاہئے اور اسرائیل جو ہمارا حلیف اور دوست ہے، کے ساتھ بھی کوئی مختلف رویہ نہیں اپنایا جائے گا، جہاں تک امریکی سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کی بات ہے تو یہ کام انتہائی محتاط انداز میں انجام دیا جائے گا اور وہ بھی اس طرح کہ ایک خطرناک اور غیرمستحکم خطہ میں ہمارے سلامتی مفادات کو تقویت حاصل ہو۔ امریکن ۔ اسرائیل پبلک افیرس کمیٹی نے بھی ٹرمپ کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ نے سرکاری طور پر یروشلم کا اسرائیل کے دارالخلافہ کے طور پر اعلان کیا ہے حالانکہ یہ کام بہت عرصہ قبل ہی ہوجانا چاہئے تھا لہٰذا دیر آئے درست آئے کے مصداق ٹرمپ نے بالآخر وہ کام کر دکھایا جو آج تک ان کے پیشرو نہیں کرپائے۔ یروشلم کو ہمیشہ ایک ’’بغیر ملک کا شہر‘‘ کہا جاتا رہا۔ شاید ٹرمپ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اس اعلان کے ذریعہ انہوں نے یروشلم کوبھی ایک سرپرست فراہم کردیا ہے یعنی اسرائیل۔ تاہم صدر موصوف یہ بھول گئے کہ بعض مقامات کا تقدس اتنا زیادہ ہوتا ہیکہ انہیں کسی بھی ملک کی سرپرستی کی ضرورت نہیں۔ یروشلم مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کیلئے یکساں تقدس کا حامل شہر ہے اور اب دیکھنا یہ ہیکہ اسرائیل۔ مخالف عناصر کا مستقبل کا کیا لائحہ عمل ہوگا کیونکہ اس وقت دنیا کی اکثریت نے ٹرمپ کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے اور کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT