Tuesday , December 11 2018

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کا فیصلہ یکسر مسترد

۔128 ممالک نے امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا ، فیصلہ کی تائید میں صرف 9 ووٹ ، فنڈس میں کٹوتی کرنے ڈونالڈٹرمپ کی دھمکی بے اثر

اقوام متحدہ ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکی فیصلے کو بھاری اکثریت سے یکسر مسترد کردیا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اس مسئلہ پر مخالفانہ قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کردیا تھا جس کے بعد یہ قرارداد جنرل اسمبلی کو روانہ کی گئی تھی۔ جنرل اسمبلی میں آج اس مسئلہ پر رائے دہی ہوئی جس میں جنرل اسمبلی ارکان کی کثیر تعداد نے امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ امریکی فیصلے کے خلاف 128 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ صرف 9 ممالک کا ووٹ اس فیصلے کے حق میں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان نے بھی اس مسئلہ پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 ڈسمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے جس پر بین الاقوامی اتفاق رائے سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ پورے عالم اسلام میں اس فیصلہ کے خلاف احتجاج ہوا تھا جس کی وجہ سے اقوام متحدہ میں کئی اپیلیں داخل کی گئی تھیں لیکن صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے انتباہ دیا کہ وہ ، قوام متحدہ کے فنڈس میں تخفیف کردے گا تاہم ان کی دھمکی بے اثر رہی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو اقوام اس قرارداد کی تائید کریں گے خود ان کے لئے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم یمن اور ترکی کی جانب سے عرب اور مسلم ممالک کی ایماء پر جو قرارداد پیش کی گئی اس پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں رائے دہی ہوئی۔ مسودہ قرارداد اس بات کا عکاس ہیکہ اسے پیر کے دن ویٹو کیا گیا تھا اور حالانکہ اس میں ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ یہ مسودہ قرارداد اظہارافسوس کرتا ہیکہ حالیہ فیصلے افسوسناک ہے جن کا تعلق یروشلم کے موقف سے ہے۔ رائے دہی سے قبل وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’جھوٹ کا گھر‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس رائے دہی کو مسترد کرتا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک جن کا تعلق تقریباً تمام براعظموں سے ہے، اقوام متحدہ کی دیواروں کے باہر تبدیل ہورہے ہیں۔ چنانچہ اقوام متحدہ میں بھی اصلاح ضروری ہے۔ سفارتکاروں کی کثیر تعداد نے قرارداد کی تائید کی۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے جنرل اسمبلی کے رکن ممالک سے کہاکہ وہ ٹرمپ کی دھمکی سے خوفزدہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں پوری دنیا سے کہہ رہا ہوں کہ اپنی جمہوریت کو حقیر ڈالروں کے عوض فروخت نہ کریں۔ انہوں نے یہ تقریر انقرہ میں کی تھی جسے دنیا بھر میں دکھایا گیا۔ اردغان نے کہا کہ انہیں یقین ہیکہ پوری دنیا امریکہ کو آج ایک اچھا سبق سکھائے گی۔ سلامتی کونسل کے سفارتکار نے کہا کہ کینیڈا، ہنگری اور چیکوسلواکیہ ممکن ہیکہ امریکہ کے دباؤ میں ہوں

لیکن یہ اقدام یقینی طور پر منظور نہیںکیا جاسکتا۔ کسی بھی ملک کو اس بات کا اختیار نہیں ہیکہ 15 رکنی سلامتی کونسل کے برعکس کسی قرارداد کو ویٹو کرسکے جبکہ سلامتی کونسل نے یہ اختیار امریکہ، روس، برطانیہ، چین اور فرانس کو حاصل ہے۔ وزیرخارجہ فلسطین ریاض المالکی نے امریکہ پر الزام عائد کیاکہ وہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کتنے ممالک کے نمائندے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیں گے۔ یہ قرارداد جو جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی ہے کسی رکن ملک کو اس کا پابند نہیں کرتی لیکن فلسطین چاہتا تھا کہ مشرقی علاقہ کا یروشلم مجوزہ مملکت فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔ اسرائیل کے سفیر برائے اقوام متحدہ نے عہد کیا کہ ان کے ملک کو یروشلم سے کوئی بھی باہر نہیں نکال سکتا۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی جنرل اسمبلی کی قرارداد یروشلم پر عائد نہیں ہوگی۔ امریکہ کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے ویٹو کی جاچکی ہے۔ دریں اثناء جوہانسبرگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب افریقن نیشنل کانگریس نے جو جنوبی افریقہ پر برسراقتدار ہے، کل رات دیر گئے کہا تھاکہ وہ اسرائیل میں اپنے ملک کے سفارتخانہ کا درجہ کم کرنے پر غور کررہی ہے۔ مودی اور ٹرمپ کی شخصی قربت کے باوجود ہندوستان نے اپنا ’’فلسطین حامی موقف ‘‘ برقرار رکھتے ہوئے ٹرمپ کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رائے دہی کے دوران مسترد کردیا۔ اس نے امریکہ اور ہندوستان کی قربت کے باوجود قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا اور نہ رائے دہی سے غیرحاضر رہا۔

ہندوستان کا یروشلم پر امریکی فیصلے کے خلاف ووٹواشنگٹن۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان آج دیگر 127 ممالک کیساتھ شامل ہوگیا جنہوں نے یروشلم کے بارے میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ایک قرارداد جو اس فیصلے کی مخالفت کرتی ہے، رائے دہی کیلئے پیش کی گئی تھی۔ قبل ازیں اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 مستقل رکن ممالک کی تائید حاصل ہوئی، تاہم ایک رکن امریکہ نے اس قرارداد کو ویٹو کردیا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک ہنگامی اجلاس آج طلب کیا گیا تھا تاکہ اس قرارداد پر رائے دہی ہوسکے، تاہم جنرل اسمبلی میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود کسی بھی رکن ممالک پر اس کی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ قرارداد کی مخالفت میں 9 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ 35 ممالک رائے دہی کے دوران غیرحاضر رہے۔ ہندوستان کے نمائندہ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب نہیں کیا، تاہم رائے دہی کے موقع پر اس نے دیگر 128 ممالک کے ساتھ اس قرارداد کی تائید میں ووٹ دیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اُمید ہے کہ اس قرارداد پر رائے دہی کے نتیجہ کا امریکی فیصلہ پر اثر مرتب ہوگا۔ امریکہ ، اقوام متحدہ میں یکا و تنہا ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT