Tuesday , December 11 2018

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کا فیصلہ مسترد

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں امریکہ یکا و تنہا ، ٹرمپ کا اعلان مشرقی وسطی میں تشدد کا باعث
اقوام متحدہ ۔ 9 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے یروشلم کو اسرئیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کے فیصلہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ سے مشرقی وسطی میں تشدد بھڑک اٹھے گا ۔ امریکی نمائندہ رنکی ہیلے نے کہا کہ کئی برسوں سے اقوام متحدہ ہمیشہ اسرائیل کے تعلق سے برہمی رکھتا ہے ۔ امریکہ کے خلاف اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے 15 ارکان کے منجملہ 8 نے ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ فیصلہ پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مسئلہ پر سلامتی کونسل اجلاس میں امریکہ یکا و تنہا رہ گیا ہے ۔ اس اقدام سے مشرقی وسطیٰ میں تشدد بھڑک اٹھا ہے ۔ یوروپی یونین نے واضح طور پر اپنے متحدہ موقف کو ظاہر کیا اور کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جھگڑے کا حقیقی حل اور ریاستوں کی بنیاد پر ہی ہوگا ۔ یروشلم کو دونوں مملکتوں کا دارالحکومت بنایا جائے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرس پر منعقدا ہوا ۔ جس میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں شریک رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کی اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے سے فلسطین میں خونی تصادم کی راہ ہموار ہوگی ۔ سویڈن کے نمائندے اولوف اسکوگ نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے ایندھن کا کام کرے گا ۔ ٹرمپ کا اعلان امریکہ اور اسرائیل کے کئی دوستوں کی درخواست کے مغائر ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT