Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرنے پرپوپ فرانسیس سے اردغان کا اظہارتشکر

یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرنے پرپوپ فرانسیس سے اردغان کا اظہارتشکر

وٹیکن سٹی ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج یہاں پوپ فرانسیس سے ملاقات کی جبکہ پولیس نے وسطی روم میں کسی بھی نوعیت کے احتجاجی مظاہرہ پر امتناع عائد کردیا ہے کیونکہ شام میں کرد ملیشیا کے خلاف ترکی نے جو فوجی کارروائی کی ہے، اس کی وجہ سے ترکی کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ ترکی کے کسی بھی قائد کی جانب سے 59 سال کے طویل عرصہ کے بعد روم کا دورہ کیا جارہا ہے، جس کے دوران اطالوی عہدیداروں نے کسی بھی نوعیت کے احتجاجی مظاہروں پر 24 گھنٹوں تک امتناع عائد کردیا ہے جس کی مدت اردغان کی کل رات دیر گئے آمد اور آج شام ان کی روانگی تک برقرار رہے گا۔ اردغان کے دورہ کیلئے 3500 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ البتہ اٹلی کی ایک کرد اسوسی ایشن کی جانب سے وٹیکن سے کچھ فاصلہ پر 200 افراد کو دھرنا دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ یاد رہیکہ 20 جنوری کو ترکی نے سیرین کردش پیوپلز پروٹکشن یونٹس (YPG) کے خلاف ’’اولیو برانچ‘‘ آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کے بارے میں ترکی کا یہ خیال ہیکہ یہ ایک دہشت گرد گروپ ہے جو ترک سرحدوں کیلئے خطرہ ہے۔ لہٰذا ترک فوج اور انقرہ کی حمایت والی اتحادی شامی باغی فوج وائی پی جی کو اس کے مضبوط مغربی سرحد آفرین سے نکال باہر کرنا چاہتی ہیں تاہم اس آپریشن کے خلاف کافی مزاحمت کی گئی۔ کردش اسوسی ایشن نے بھی ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے سب کو حیرت زدہ کردیا تھا جس کے مطابق ایک اور انسانیت سوز جرم کا ارتکاب ہونے والا ہے۔ دوسری طرف پوپ فرانسیس نے جنگ اور عام تباہی کے ہتھیاروں کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ اردغان سے ملاقات کے دوران آفرین کے موضوع پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔ ملاقات سے قبل اردغان کا قافلہ سینٹ پیٹرس اسکوائر پہنچا۔ یہ علاقہ بالکل سنسان تھا اور صرف پولیس کی جمعیت ہی وہاں نظر آرہی تھی۔ یہ بات بھی قابل غور ہیکہ وائی پی جی جسے ترکی ایک دہشت گرد گروپ تصور کرتا ہے، وہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے خلاف امریکہ کی لڑائی میں اس کا حلیف ہے۔ آفرین میں ترکی نے جو حملے کئے تھے اس میں جنگجوؤں کے علاوہ بے قصور شہریوں کی موت کا سوگ منانے ہفتہ کے روز ہزاروں کرد جمع ہوئے تھے۔ جن لوگوں کو ہلاک کیا گیا تھا ان میں ایک خاتون جنگجو بارین کوبانی بھی شامل ہے جس کی کٹی پھٹی نعش ملنے کے بعد اس کے ارکان خاندان اور کرد عہدیداروں نے ترک حامی باغیوں پر کوبانی کو شدید اذیتیں دینے کا الزام عائد کیا تھا۔ بہرحال، اردغان پوپ فرانسیس سے اس بات کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کریں گے کہ انہوں نے (پوپ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ کل شائع ہوئے ایک انٹرویو میں اردغان نے کہا کہ معزز پوپ کے ساتھ ہم یہ اتفاق کرتے ہیں کہ یروشلم کے موقف کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے اور اس کے تحفظ کیلئے ہمارے عزائم بھی بلند ہیں۔ یاد رہیکہ اردغان پوپ فرانسیس سے ملاقات کے علاوہ اپنے اطالوی ہم منصب سرجیو ماتریلا اور وزیراعظم پاؤلوجینئی لونی سے ملاقات کرتے ہوئے غیرقانونی امیگریشن، دفاع اور یوروپی یونین کی رکنیت جیسے موضوعات پر بات چیت کرسکتے ہیں۔ اس دورہ پر اردغان کی اہلیہ آمنہ اردغان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ پوپ فرانسیس جنہوں نے ہمیشہ بین مذہبی مذاکرات کی تائید ہے، نے نومبر 2014ء میں ترکی کا دورہ کیا تھا اور اردغان سے دوستانہ ماحول میں ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس وقت ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے جو موجودہ حالات ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو ہر معاملہ میں آسان نشانہ تصور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ایسے عناصر کی بھی شدید مذمت کی جو یہ کہتے ہیں کہ ہر مسلمان دہشت گرد ہوتا ہے۔ بہرحال یہی تعلقات 2016ء میں معمولی طور پر کشیدہ ہوگئے تھے جب پوپ فرانسیس نے آرمینیا کا دورہ کیا تھا اور 1915-17ء میں خلافت عثمانیہ کی فوج کے ذریعہ آرمینیائی عوام کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT