Monday , October 22 2018
Home / Top Stories / یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے ٹرمپ کا فیصلہ موخر

یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے ٹرمپ کا فیصلہ موخر

واشنگٹن/پیرس 5دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے کو التوا میں ڈال دیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق اس بابت اب کوئی بھی اعلان فوری طور پر سامنے نہیں آئے گا۔ ایسا پہلے بار نہیں ہوا۔ امریکی کانگریس پچھلی صدی کے اواخر میں میں 1995 میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کی منظوری دے چکی ہے ۔ اس پر ابتک اگر کوئی عمل نہیں ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کہ اب تک کے تمام امریکی صدور اس فیصلے کو چھ چھ ماہ کے لئے موخر کرتے رہے ۔ مسٹر ٹرمپ نے بھی بظاہر اسی راستے کو اپنایا ہے ۔ قبل ازیں فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ یروشلم کو یکطرفہ طور پر اسرائیلی راجدھانی تسلیم کرنے کے منصوبے پر اُنہیں ‘تشویش’ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس متنازعہ شہر کے موقف کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کے دائرے میں ہونا چاہیے ۔ کئی عرب اوردوسرے مسلم ملکوں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے ۔واضح رہے کہ اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی مقتدرہ دونوں ہی راجدھانی بنانے کے تعلق سے یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔بہر حال تازہ صورتحال یہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے دستاویزات پرفوری طور پر دستخط نہیں کر پائیں گے ۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کئے جانے کی امریکی غیر ملکی حکام اور امریکی اتحادیوں نے یہ کہہ کر مخالفت شروع کر دی ہے کہ اس سے تشدد بھڑک سکتا ہے ۔امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس کا اطلاق نہیں کیا جانا چاہئے ۔ یہ دہائیوں پرانی امریکی پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہوگی، جس میں یروشلم پر فیصلے کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے بھروسے پر چھوڑ دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یروشلم پر بات چیت کرنے اور فیصلہ سازی کی بنیاد پر ہی یہ پالیسی بنائی گئی تھی۔ حکام نے کہا کہ اگر مسٹر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کی حیثیت سے منظوری دے دیتے ہیں تو پوری دنیا کے مسلمان یا فلسطینی حامی پرتشدد مظاہرے شروع کر سکتے ہیں۔ یروشلم کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ وہاں یہودیوں کا مقدس معبد (ٹیمپل ڈوم) اور مسلمانوں کا مقدس حرم بھی موجود ہے ۔ اسلام میں تیسرا سب سے مقدس مقام مسجد اقصی وہیں قائم ہے ۔ ایک امریکی اہلکار نے گزشتہ ہفتہ بتایا تھا کہ مسٹر ٹرمپ اس بارے میں کل تک اعلان کر سکتے ہیں جبکہ اس مسئلہ پر مسٹر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر نے آج کہا کہ امریکی صدر نے یروشلم کو باضابطہ طور پر اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT