Wednesday , May 23 2018
Home / عرب دنیا / یمن انسانی بحران کو ٹالنے سعودی عرب پر وزیراعظم برطانیہ کا زور

یمن انسانی بحران کو ٹالنے سعودی عرب پر وزیراعظم برطانیہ کا زور

شاہ سلمان سے تھریسامے کی ملاقات، باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال، ٹرمپ کے مخالف مسلم ویڈیو پر تنقید

ریاض ۔ 30 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم برطانیہ تھریسامے نے سعودی حکمرانوں پر زور دیاکہ وہ یمن میں انسانی بحران کو ٹالنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔ یمن پر جاری ناکہ بندی کو نرم کرتے ہوئے وہاں پیدا شدہ بحران کو دور کیا جانا چاہئے۔ ان کے دفتر نے آج کہا کہ ان کا یہ خیال اقوام متحدہ سے ہونے والی سردست اپیلوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ تھریسامے نے دونوں شاہ سلمان اور طاقتور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ریاض میں اپنے مختصر دورہ کے دوران ملاقات کی تھی اور ان کے ایجنڈہ میں سرفہرست یمن کا بدترین بحران تھا۔ تھریسامے نے اپنے دورہ سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ یمن کے بحران سے متعلق عالمی تشویش سے عرب قائدین کو واقف کروائیں گے۔ یمن میں سعودی عرب زیرقیادت فوجی اتحاد نے جزوی طور پر امدادی رکاوٹوں میں نرمی لائی ہے۔ وزیراعظم برطانیہ نے یہ واضح کردیا کہ اس ملک میں تجراتی سربراہوں کو بہتر بنایا جائے اور وہاں معاشی ناکہ بندی کو فوری ختم کردیا جائے۔ وزیراعظم برطانیہ کے دفتر نے مزید کہا کہ تھریسامے نے انسانی تباہی کو ٹالنے پر زور دیا۔ اس پر شاہی حکمرانوں نے اتفاق کیا اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی حلیف ملک ہے۔ لندن اور ریاض کے درمیان زائد از (4.4 بلین ڈالر 3.71 بلین یورو) کے معاہدوں پر دستخط ہونے میں مارچ 2015ء سے ریاض کو اسلحہ فروخت کئے جارہے ہیں۔ اسی مماہ سے ہی ریاض نے یمن باغیوں کے خلاف اپنی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ یمن کے دارالحکومت صنعا پر یمن کے باغیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے شمالی حصہ پر بھی یمن کے باغی قابض ہیں جب سے جنگ شروع ہوئی ہے اب تک 8600 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیضہ سے 2000 افراد فوت ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پیر کے دن سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد پر زور دیا تھا کہ وہ یمن میں معاشی ناکہ بندی کو کم کرنے زیادہ سے زیادہ نرمی پیدا کرے اور باغیوں کے زیرکنٹرول اہم بندرگاہ کو مکمل طور پر کھول دے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے خبردار کیا تھا کہ یمن کو اس دنیا سے سب سے بدترین فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT