Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / یمن :معیشت کی بحالی اور انسانی حقوق کا تحفظ ترجیح

یمن :معیشت کی بحالی اور انسانی حقوق کا تحفظ ترجیح

عرفان جابری
یمن میں بغاوت کو ختم کرنے اور باقاعدہ منتخب حکومت اور سرکاری اداروں کو باغیوں کے کنٹرول سے آزاد کرانے کیلئے مارچ 2015ء سے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی جو مساعی شروع ہوئی ، اُس کے نتیجے میں اب یمن کی 80% سرزمین دوبارہ یمنی حکومت کے کنٹرول میں واپس آچکی ہے۔ تاہم جہاں کہیں کسی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت ہوتی ہے اور طول پکڑنے کی وجہ سے وہاں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے تو بنیادی طور پر دو بڑی منفی تبدیلیاں پیش آتی ہیں: مملکت کی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور وہاں لا اینڈ آرڈر کے ساتھ مجموعی طور پر انسانی حقوق کے معاملے میں حالات دگرگوں ہوجاتے ہیں۔ یہاں اِن سطور میں یہی دو پہلوؤں کے زاویہ سے یمن کی صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
گزشتہ ایک دہے میں معاشی عدم توازن اور کمزور سرکاری اداروں نے یمن کو مفلس مملکت بنا دیا اور اسے عدیم النظیر معاشی اور اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ ستمبر 2014ء سے لڑائی میں شدت پیدا ہوجانے کا نتیجہ ہے۔ ترقی کے معاملے میں پہلے سے ہی کمتر یمن اور کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے مجموعی معاشی سرگرمی پر اثر پڑا ہے۔ عوامی بھروسہ میں کمی اور انفراسٹرکچر کو نقصانات دونوں باتوں کے نتیجے میں سال 2015ء کے دوران یمن کی معیشت میں 33% انحطاط ہوا۔ دارالحکومت صنعا پر حوثی بالادستی نے اکثر و بیشتر سرکاری اداروں پر حکمرانی کے نئے قواعد مسلط کردیئے اور سنٹرل بینک آف یمن (سی بی وائی) بھی بچ نہیں پایا۔ بغاوت سے قبل سی بی وائی کسی طرح اپنی بیالنس شیٹ سنبھال پارہا تھا۔ درحقیقت، بیرونی زرمبادلہ کے خالص ذخائر ابتدائے 2013ء میں 5 بلین امریکی ڈالر تھے جو ستمبر 2016ء تک گھٹتے ہوئے محض 600 ملین ڈالر رہ گئے۔ اس سے عوام اور بینکنگ سسٹم کے درمیان بھروسہ پر کاری ضرب لگی اور سی بی وائی اپنے بنیادی کام انجام دینے سے قاصر ہوا۔
تاریخی طور پر دیکھیں تو یمن کی معاشی سرگرمی کا انحصار تیل اور گیس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بل بوتے پر ہونے والے سرکاری خرچ پر ہے۔ 2008ء سے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے نتیجے میں ناقابل برداشت بجٹ خسارے سامنے آئے، جس سے نمٹنے کیلئے حکومت یمن نے 2013ء میں بڑی امیدوں کے ساتھ معاشی اصلاحی پروگرام شروع کیا۔ حکومت کو چند معاملوں میں کامیابی ملی اور نوجوانوں کو روزگار دلانے کی سمت کام ہونے لگا تھا کہ 2014ء میں بغاوت ہوگئی۔ اس کے بعد ماضی قریب کی تمام تر معاشی پیشرفت رک کر معاملات پیچھے کی طرف لوٹنے لگے۔ یمن کا ہائیڈرو کاربن سیکٹر شدید متاثر ہوا جس سے معیشت میں ابتری پیدا ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت یمن نے اپنی سرگرمیوں میں ترجیحی طور پر ہائیڈروکاربن اکسپورٹ سیکٹر کی بازآبادکاری اور دوبارہ شروعات کو رکھا ہے۔ بازآبادکاری 2017ء کے موسم گرما تک ختم ہوجانے کی توقع ہے۔

یمن کی معیشت میں عوامی شعبہ کو سب سے بڑا آجر سمجھا جاتا ہے، جہاں زائد از 1.5 ملین رجسٹرڈ سرکاری ملازمین ہیں۔ حکومت یمن نے ٹھوس عزم کررکھا ہے کہ جو کچھ بھی بن پڑے کیا جائے گا تاکہ سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی اور کوئی بقایاجات ہوں تو وہ ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے۔ سنٹرل بینک آف یمن کی منتقلی کے فوری بعد نئے طبع کردہ بینک نوٹس کو بحفاظت اوائل جنوری 2017ء میں عدن پہنچایا گیا۔ تب سے حکومت یمن نے تمام گورنری علاقوں سے تنخواہ کی ادائیگی کے اعداد و شمار کے حصول پر کام شروع کیا ہے اور ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو حکومت یمن کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔
یمن اپنی غذائی ضروریات کا 90% حصہ درآمد کرتا ہے اور بیرونی زرمبادلہ کے سبب افراط زر کو محدود رکھنے کی کوشش میں سنٹرل بینک آف یمن گیہوں اور چاول کی درآمدات کیلئے بیرونی زرمبادلہ کی شرح میں رعایت کرتا ہے۔ سی بی وائی کی رعایتی درآمدات کے زمرہ میں بس یہی دو غذائی اجناس باقی رہ گئے ہیں۔ سی بی وائی کے خالص بیرونی زرمبادلہ ذخائر 600 ملین ڈالر تک گھٹ چکے ہیں، جس کے سبب غذائی درآمدات کیلئے مالیہ کی فراہمی جاری رکھنے کی اس کی قابلیت میں بڑا انحطاط آگیا ہے۔ ستمبر 2014ء کی بغاوت کے نتیجے میں صنعا میں متعدد سفارت خانے بند ہوگئے، جن میں سب سے نمایاں G18 رکن ممالک کی ایمبسیاں شامل ہیں۔ G18 میں خلیج تعاون کونسل کی مملکتیں، پانچ مستقل یو این سکیورٹی کونسل ارکان ( چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ)، مصر، جرمنی، نیدرلینڈز، ترکی اور جاپان شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اکثر و بیشتر بین الاقوامی تنظیموں نے اپنے دفاتر بند کردیئے اور ملک چھوڑ کر چلے گئے جن میں ورلڈ بینک گروپ بھی ہے۔ ڈبلیو بی جی جو بڑا ہمہ رخی عطیہ دہندہ ہے، اس نے یمن میں مختلف شعبوں میں اپنے 32 پراجکٹس معطل کردیئے جن کی قدر زائد از 500 ملین ڈالر ہے۔ نیز باہمی امدادی تنظیموں جیسے یونائیٹیڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ نے بھی اپنے پروگراموں کو معطل کردیا۔ اس طرح یمن کیلئے بیرونی امدادی راحت پر بھی کاری ضرب لگی ہے۔

یمن میں جہاں تک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، حوثی اور صالح کی ملیشیاؤں کے جرائم اور خلاف ورزیاں مختلف النوع رہے ہیں جیسے قتل ، اپاہج بنانا، جسمانی ہیئت بگاڑ دینا ، مغویہ افراد کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کرنا، انھیں اذیتیں دیتے ہوئے موت کے گھاٹ اُتارنا،  من مانی پکڑ دھکڑ، جبری طور پر لاپتہ کرنا، مختلف اقسام کے ہتھیاروں اور گولہ باری سے  رہائشی علاقوں اور مصروف بازاروں کو نشانہ بنانا وغیرہ۔ جنوری 2015ء سے جنوری 2017ء تک وزارت انسانی حقوق کے پاس جو اعداد و شمار جمع ہوئے، ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہلاک یا زخمی ہونے والے عام شہریوں کی جملہ تعداد 37,888 تک پہنچ گئی جن میں 10,811 شہریوں کی مصدقہ ہلاکت شامل ہے۔ ان میں سے 649 خواتین ہلاک ہوئیں، 1,002 بچے اور 9,160 مرد بھی مارے گئے۔ زخمی شہریوں کی تعداد 27,077 درج ہوئی۔ زیادہ تر جانی نقصان 2015ء میں ہوا، جب 29,084 جانیں تلف ہوئیں جو جملہ ہلاکتوں کا 77% ہوتا ہے۔
حوثی اور صالح ملیشیاؤں نے رہائشی علاقوں، دیہاتوں، کھیتوں اور عام راستوں پر بارودی سرنگیں بچھائے اور ایسا کرنے میں ان کا ارادہ یہی رہا کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شہریوں کو ہلاک کیا جاسکے۔ بارودی سرنگوں کا شکار بننے والوں کی تعدد زائد از 673 معاملوں تک پہنچ گئی ہے۔ کئی صحافیوں، طلباء، ماہرین تعلیم اور سیاست دانوں کو حوثی اور صالح ملیشیاؤں نے جیلوں اور حراستی مراکز میں بند رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کے 16,804 معاملے درج ہوچکے ہیں۔ زبردستی غائب کردینے کے بھی 2,866 معاملے پیش آچکے ہیں۔ ایسے محروسین کو زدوکوب کیا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر سسکتے ہوئے فوت ہوجاتے ہیں۔ باغیوں اور ملیشیاؤں نے یمنی انفراسٹرکچر کو چن چن کر نقصان پہنچایا ہے، چاہے وہ سرکاری ہو کہ خانگی اور اس طرح کی خلاف ورزی کے 29,422 معاملے ہوئے ہیں۔ حوثی اور صالح ملیشیاؤں کے کنٹرول والے علاقوں میں اب رائے زنی اور اظہار خیال کی کوئی آزادی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے مخالفت کرنے والے سرکاری اور خانگی ذرائع ابلاغ کو تباہ کردیا، زیادہ نیوز سائٹس بلاک کردیئے اور زبان بندی کی پالیسی اپناتے ہوئے درجنوں جرنلسٹوں کو محروس کرلیا ہے۔
عام شہریوں کو نشانہ بنانا کو بین الاقوامی قانون خیرخلق کی شرمناک خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے اور ماورائے قانون ہلاکت کو بین الاقوامی قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی مانا جاتا ہے۔ حوثی باغیوں اور صالح ملیشیاؤں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور ماورائے قانون ہلاکت تو ہزاروں میں پہنچ چکی ہے، نیز اس دوران ہزاروں دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی مستقل طور پر اپاہج ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر باغیوں اور ملیشیاؤں نے عدن میں 6 مئی 2015ء کو دن بھر ہولناک شل باری کے ذریعہ پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا۔ کئی مورٹار شل چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے گروپ پر گرے جو بے آسرا شہریوں کو وہاں سے منتقل کررہے تھے۔ اس غیرانسانی کارروائی میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔ عدن میں اسی سال وقفے وقفے سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے مزید تین سنگین واقعے پیش آئے جن میںعام شہریوں کی زیادہ تعداد میں جانیں تلف ہوئیں۔ شہر تعز کو بھی 2015ء سے 2017ء تک وقفے وقفے سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس شہر میں عام شہریوں کی ہلاکت کے چھوٹے بڑے درجنوں واقعات پیش آئے جو حوثی باغیوں اور صالح ملیشیاؤں کی شرمناک حرکتوں کا کھلا ثبوت ہے۔ معصوم بچہ فرید کی ہلاکت کا اندوہناک واقعہ بھی اسی شہر میں 13 اکٹوبر 2015ء کی شام پیش آیا تھا۔ فرید کے والد نے بتایا کہ اُس روز وہ گھر پر تھا اور قریب ہی سب بچوں کے ساتھ فرید بھی کھیل رہا تھا۔ یکایک وہاں ایک شل گرا اور بڑا زور کا دھماکہ ہوا جس کی زد میں فرید اور دیگر بچے آگئے۔ زخمی بچوں کو فوری اسپتال پہنچایا گیا۔ جب فریدکو اس کے والد نے اسپتال میں پایا تو دیکھا کہ اُس کے سر سے خون رِس رہا تھا۔ اسے کئی آپریشنس سے گزرنا پڑا اور وہ واقعہ کے تین روز بعد فوت ہوگیا۔ اسپتال میں زیرعلاج ساڑھے پانچ سالہ فرید نے اپنے باپ سے سرگوشی میں معصوم التجا کی کہ اسے دفن نہ کیا جائے!

بارودی سرنگیں بچھانا بین الاقوامی قانون خیرخلق اور دیگر متعلقہ کنونشنس کی مجرمانہ خلاف ورزی ہے۔ حوثی باغیوں اور صالح ملیشیاؤں نے بارود کو تمام تر تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال کرتے ہوئے یمن کو زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انسانیت کے دشمنوں نے من مانی حراستوں، زدوکوبی اور جبری طور پر غائب کردینے کی بھی طویل فہرست بنا ڈالی ہے۔ اسی طرح شہریوں کو ان کے رہائشی علاقوں سے جبری بے دخلی کے بھی بے شمار واقعات سامنے آئے ہیں۔ باغیوں اور ملیشیاؤں نے نابالغ بچوں کو لالچ یا زبردستی سے بھرتی کرنے کا جرم بھی کیا ہے۔

جب سے بغاوت اور خانہ جنگی کی صورتحال شروع ہوئی، لاکھوں بچے تمام سطحوں پر حصول تعلیم کے اپنے حق سے محروم ہوئے ہیں۔ نقل مقام پر مجبور بچوں کی تعداد 1.4 ملین ہے اور مجموعی طور پر 2 ملین بچے اسکولوں سے دور ہوچکے ہیں۔ یونیسف کا بیان ہے کہ اگر یمنیوں کی ایک نسل اسکول ہی نہ جائے تو ایسی صورتحال کا بہت ہی خراب نتیجہ برآمد ہوگا۔ نہ صرف تعلیم بلکہ بچوں کو نگہداشت صحت، غذا ، اور فلاحی اعانت سے محروم کیا گیا ہے۔ خواتین بھی کمزور گروپوں میں سے ہیں جو اُن کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے جسمانی، نفسیاتی اور مالی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ یمنی سماج نے صدیوں سے خیال رکھا تھا کہ خواتین کا احترام کیا جائے اور انھیں کسی طرح نقصان نہ پہنچایا جائے نیز انھیں لڑائی جھگڑے سے دور رکھا جائے۔ لیکن جب سے حوثی باغیوں اور صالح ملیشیاؤں نے اپنی جنگ اور شورش پسندی شروع کی، خواتین مختلف نوعیت کے ظلم و ستم کا شکار ہوئی ہیں۔ انھیں بھی ہلاک اور زخمی کیا گیا، اپاہج بنایا گیا، مار پیٹ کی گئی اور ہتک و ذلت کی شکار بنایا گیا۔ یمن انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کے معاملے میں کئی بین الاقوامی کنونشنس اور دیگر قوانین کی تعمیل کرنے والا فریق ہے۔ تاہم باغیوں اور ملیشیاؤں نے عالمی سطح پر یمن کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔
بہرحال یمنی صدر عبدالرب منصور ہادی کی درخواست پر سعودی عرب زیرقیادت عرب اتحاد کی یمن میں صدر ہادی کی حکومت کو باغیوں اور سابقہ صدر صالح کی ملیشیاؤں کے خلاف غالب کرنے کی سعی جاری ہے اور 80% فیصد یمن پر حکومت کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ نہ صرف اقوام متحدہ سلامتی کونسل، انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی ادارے یمن میں ضروری مداخلت کرتے ہوئے وہاں مکمل امن و امان کے قیام کو یقینی بنائیں بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی خانگی شعبہ کی یمن کو واپسی ہوجائے تاکہ وہاں اشد ضروری انفراسٹرکچر اور معیشت کی بحالی میں مدد کی جاسکے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT