Sunday , January 21 2018
Home / عرب دنیا / یمن میں اب تک 540 بشمول 74 بچے ہلاک

یمن میں اب تک 540 بشمول 74 بچے ہلاک

اقوام متحدہ 7 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن میں زائد از ایک لاکھ افراد اپنے مکانات چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں اور ملک میں دو ہفتہ قبل جنگ میں شدت پیدا ہونے کے بعد سے اب تک کم و بیش 74 بچے بھی ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ میں بچوں کی ایک ایجنسی یونیسیف نے بتایا کہ ملک میں تشدد اتنا بڑھ چکا ہے کہ جنوبی یمن کے علاقہ میں آبی سربراہی شد

اقوام متحدہ 7 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) یمن میں زائد از ایک لاکھ افراد اپنے مکانات چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں اور ملک میں دو ہفتہ قبل جنگ میں شدت پیدا ہونے کے بعد سے اب تک کم و بیش 74 بچے بھی ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ میں بچوں کی ایک ایجنسی یونیسیف نے بتایا کہ ملک میں تشدد اتنا بڑھ چکا ہے کہ جنوبی یمن کے علاقہ میں آبی سربراہی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے جبکہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں ڈرینج کاگندہ پانی بھی سڑکوں پر بہہ رہا ہے جس سے بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ ہاسپٹلس میں زخمیوں کا علاج کرنے کیلئے روایات ناکافی ہیں کیونکہ جتنے زخمی ہاسپٹلس سے رجوع ہورہے ہیں اتنی سہولت ہاسپٹلس میں دستیاب ہیں ہے ۔

دوسری طرف میڈیکل سنٹرس کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور ایسے ہی حملوں میں تین ہیلتھ ورکرس بشمول ایک ایمبولنس ڈرائیور ہلاک ہوچکے ہیں۔ یونیسیف کیلئے یمن کے نمائندہ جولین ہازینر نے کہا کہ بچوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ۔ معصوم بچے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ مکان چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔

جنیوا سے موصولہ اطلاع کے بموجب اقوام متحدہ کے راحت رساں اداروں نے گذشتہ چند ہفتے کے دوران یمن میں خانہ جنگی کے نتیجہ میں سنگین صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ جنگ زدہ یمن کو رسد کی سربراہی انحطاط پذیر ہے۔ یونیسیف نے کہا کہ اب تک 540 افراد بشمول 74 بچے ہلاک اور 1700 دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ عالمی تنظیم صحت کے ترجمان کرسچین لنز میئر نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ناممکن ہوگئی ہے کیونکہ سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔ باغیوں اور صدر عبدالرب ہادی کے حامیوں میں جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہے۔ امداد فراہم کرنے والے اداروںنے سنگین نتائج کا انتباہ دیا ہے اور کہا ہیکہ یمن کے زخمی اور بیمار افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے لیکن فضائی جنگ اور خانہ جنگی کی وجہ سے یمن کو امداد کی فراہمی ناممکن ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT