Saturday , September 22 2018
Home / عرب دنیا / یمن میں جھڑپیں، 100 سے زیادہ افراد ہلاک

یمن میں جھڑپیں، 100 سے زیادہ افراد ہلاک

عدن ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آج جنوبی یمن میں باغیوں اور حکومت کے وفاداروں کے درمیان خوفناک جھڑپیں شروع ہوگئیں، جن سے 24 گھنٹوں کے اندر 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ریڈکراس کی امداد کی سربراہی جس کی اس جنگ زدہ ملک کو سخت ضرورت ہے، جھڑپوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگئی۔ راحت رساں کارکنوں نے انتباہ دیا ہیکہ غربت زدہ یمن میں صورتحال سنگی

عدن ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آج جنوبی یمن میں باغیوں اور حکومت کے وفاداروں کے درمیان خوفناک جھڑپیں شروع ہوگئیں، جن سے 24 گھنٹوں کے اندر 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ریڈکراس کی امداد کی سربراہی جس کی اس جنگ زدہ ملک کو سخت ضرورت ہے، جھڑپوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگئی۔ راحت رساں کارکنوں نے انتباہ دیا ہیکہ غربت زدہ یمن میں صورتحال سنگین ہوجائے گی۔ سعودی عرب زیرقیادت مخلوط اتحاد ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 124 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ باغیوں اور صدر عبدالرحمن منصور ہادی کے حامیوں کے درمیان جنوبی شہر عدن میں خوفناک جھڑپیں ہوئیں۔ عدن میں 53 افراد ہلاک ہوئے جن میں 17 شہری شامل ہیں۔ باغی عدن کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے کوشاں ہیں۔ کم از کم 19 حوثی باغی اور 15 ہادی کے حامی نیم فوجی جنگجو رات بھر کی جھڑپوں میں جو قصبہ دالیب میں ہوئی تھیں، ہلاک کردیئے گئے۔ مزید 7 افراد جنوبی صوبہ ابھیان میں ہلاک ہوئے جہاں ہادی کے حامی جنگجوؤں نے ایک فوجی بریگیڈ کے اڈہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ یہ بریگیڈ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ہے، جن پر حوثیوں کی تائید کا الزام ہے۔ قریبی علاقہ لہج میں دفاعی اہمیت کے حامل الاحد فضائی فوجی اڈہ پر فضائی حملوں میں کم از کم 10 باغی ہلاک ہوگئے اور دیگر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ صوبہ شبوا میں 8 باغی ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے جبکہ قبائیلیوں سے ان کی جھڑپ ہوگئی۔ صدر ہادی اقوام متحدہ کی جانب سے یمن کے جائز قائد تصور کئے جاتے ہیں جو فبروری سے عدن میں پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ حوثیوں نے جو شمالی پہاڑی علاقہ میں مقیم ہیں، صنعا میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ صدر ہادی گذشتہ ماہ سعودی عرب فرار ہوگئے جبکہ باغیوں نے ان کے مستحکم گڑھ پر حملے کئے جس کی وجہ سے سعودی عرب زیرقیادت فوجی اتحاد میں اپنی کارروائی کا آغاز کردیا۔ آج اس کارروائی کا بارہواں دن تھا۔ یمن دفاعی اعتبار سے بحری گذرگاہ پر واقع ہے اور تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب سے متصل ہے۔ یہاں کثیر جہتی خانہ جنگی جاری ہے جس میں کئی مسلح گروپس بشمول حوثی، ہادی کی حامی نیم فوجی تنظیم، صالح کی وفادار فوج، جنوبی علاقہ کے علحدگی پسند، سنی قبائل اور القاعدہ کے عسکریت پسند شامل ہیں۔ ریڈکراس نے فوری صلح کی اپیل کی ہے تاکہ عوام تک امداد پہنچائی جاسکے جنہیں پانی، غذا اور ادویہ کی سخت ضرورت ہے۔ ریڈکراس فضائی ہنگامی سربراہی کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن طیارہ ہنوز ایرپورٹ میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT