Monday , December 18 2017
Home / عرب دنیا / یمن میں طویل لڑائی کے بعد جنگ بندی کا آغاز

یمن میں طویل لڑائی کے بعد جنگ بندی کا آغاز

صنعا ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) یمن میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی کے بعد پیر سے جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل شیخ احمد نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ملک کی ازسرِ نو تعمیر کا بہترین موقع ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جاریہ ماہ کویت میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے بہتر انداز میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ اس سے قبل یمن کی حکومتی فوج کی مدد کرنے والے سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کرے گا۔ ادھر یمن میں موجود حوثی باغی جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور جو یمنی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے بھی اس معاہدے کی پاسداری کا اعلان کیا ہے۔ اسماعیل شیخ احمد نے اپنے ایک بیان میں اس جنگ بندی کو ’اہم، فوری اور ضروری‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یمن مزید جانوں کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔‘ اسماعیل شیخ احمد نے مزید کہا کہ اس جنگ بندی کے معاہدے میں ملک کے تمام حصوں میں امدادی سامان اور کارکنوں کی رسائی میں خلل نہ ڈالنا بھی شامل ہے۔ خیال رہے کہ یمن میں گذشتہ برس شروع ہوئی والی جنگ کے نتیجے میں اب تک 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ یمن میں جاری تنازعہ کے خاتمے کے لئے کویت میں جاریہ ماہ کے اختتام پر مذاکرات ہوں گے۔ عرب اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر منصور ہادی کے کہنے پر اتوار کی نصف شب سے شروع ہونے والی فائربندی کا احترام کرتا ہے تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے بعد کیے جانے والے حملے پر ردِعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی ایسا ہی بیان دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اتوار کو جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے سے کچھ ہی گھنٹے پہلے ہونے والے حملوں میں مزید 20 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے تعاون سے ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے لیے کوئی بھی پیشرفت کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

TOPPOPULARRECENT