Thursday , December 13 2018

یمن کا جنگ کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ

صنعاء۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ مسلح شیعہ گروپ اور مقامی شدت پسند سنیوں کے درمیان مذاکرات کے باوجود یمن میں تشدد کی آگ پھر بھڑک اُٹھی ہے۔ لڑائی میں یمن کی سرکاری ٹی وی کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مقامی آبادی اس خوف سے بھی پریشان ہے کہ تشدد کی یہ لہر بتدریج بڑھتی جائے گی۔ دارالحکومت صنعاء میں لڑاکا جہازوں کی نیچی پروازوں سے مق

صنعاء۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ مسلح شیعہ گروپ اور مقامی شدت پسند سنیوں کے درمیان مذاکرات کے باوجود یمن میں تشدد کی آگ پھر بھڑک اُٹھی ہے۔ لڑائی میں یمن کی سرکاری ٹی وی کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مقامی آبادی اس خوف سے بھی پریشان ہے کہ تشدد کی یہ لہر بتدریج بڑھتی جائے گی۔ دارالحکومت صنعاء میں لڑاکا جہازوں کی نیچی پروازوں سے مقامی آبادی میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ مسلح شیعہ گروپ حوثی اور سنی قبائل اور شدت پسند ملیشیا کے درمیان گلی کوچوں میں جاری لڑائی پھیلنے کے خوف سے لوگ یا تو گھروں میں دبک کر رہ گئے ہیں اور یا دارالحکومت چھوڑکر جارہے ہیں۔ ان گروپوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا اور ان کے حامی، صنعاء اور اطراف و اکناف میں مظاہرے کررہے ہیں۔

یہ لوگ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مظاہرے 9 ستمبر تک تو پرامن تھے، لیکن اُسی دن فوج نے حوثی مظاہرین پر فائرنگ کرکے 7 مظاہرین کو ہلاک کردیا۔ 18 ستمبر کو حالات پھر بگڑ گئے، جب حوثی مظاہرین سرکاری ٹی وی کی عمارت کے قریب والے علاقہ پر کنٹرول کرنا چاہتے تھے۔ فرقہ واریت، قبائیلی سیاست اور ذاتی جنگ، جھگڑے صنعاء میں جاری لڑائی کی وجوہات ہیں۔ فوجی کمانڈر جنرل علی محسن گزشتہ دس سال سے حوثی ملیشیا کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اس وقت سنی ملیشیا کو متحد کررہے ہیں۔ جنرل محسن سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قریبی حلیف رہے ہیں اور حالیہ حکومت میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ حوثی ملیشیا کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ یہ گروپ حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، لیکن حوثی ملیشیا کے سیاسی گروپ کے رکن علی البخاتی کا کہنا ہے کہ حکومت میں مساوی حصہ ہی امن کی ضمانت ہے۔

حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان کسی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکامی کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی اس سلسلہ میں کردار ادا کرنے کے لئے گزشتہ ہفتے یمن پہنچے ہیں، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حوثی ملیشیا کے مطالبات کی منظوری سے قبل صنعاء سے نکل جائے گی یا نہیں۔ حوثی ملیشیا اب اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے جس میں فائرنگ کرکے کئی مظاہرین کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ تجزیہ کار غنی الاریانی پُرامید ہیں کہ فریقین کے درمیان سمجھوتہ طئے پا جائے گا جس کے بعد لڑائی ختم ہو جائے گی، لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ شیعہ ملیشیا کے سارے لوگ دارالحکومت صنعاء چھوڑکر نہیں جائیں گے، کیونکہ ان میں سے کچھ مقامی شیعہ بھی ہیں۔ خوف میں مبتلا یمن کے عوام اس وقت سہمے ہوئے ہیں، کیونکہ انھیں اندازہ ہے کہ اسلحہ سے لیس یمنی عوام میں اگر عراق اور شام کی طرح فرقہ واریت پر مبنی جنگ چھڑ جائے تو اس سے تباہی آ سکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT