Thursday , November 23 2017
Home / عرب دنیا / یمن کو دوسرا لیبیا نہیں بننے دیں گے: سعودی مشیر دفاع

یمن کو دوسرا لیبیا نہیں بننے دیں گے: سعودی مشیر دفاع

اتحاد کی بڑی کارروائیاں اختتام کے قریب ۔ آئندہ مراحل میں امن و استحکام کی بحالی اور تعمیر نو پر توجہ ہوگی
ریاض؍ قاہرہ ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وزیر دفاع کے فوجی مشیر اور عرب اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا ہے کہ یمن میں اس اتحاد کی بڑی کارروائیاں اختتام کے قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کو طویل المدت تائید و حمایت کی ضرورت رہے گی تاکہ وہ دوسرا لیبیا نہ بن جائے۔ ریاض میں ایک مغربی خبر رساں ادارہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عسیری نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کی کارروائی کے بعد سعودی عرب اور یمن کی سرحدی پٹی پر لڑائی کا سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔ سعودی عرب کے زیرقیادت اتحادی افواج میں کئی عرب ممالک شامل ہیں۔ اس اتحاد نے 26 مارچ 2015ء کو یمن میں وسیع علاقے پر قبضہ کر لینے والے باغیوں اور ان کے حلیفوں کے خلاف بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اتحادی افواج کے مدد سے یمن کی سرکاری فوج ملک کے جنوب میں ایک بڑے حصے کو واپس لینے میں کامیاب ہو گئی اور اب وہ دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ بریگیڈیئر جنرل عسیری کا کہنا ہے کہ ’’ہم اس وقت بڑے معرکوں کے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ مراحل میں یمن میں امن و استحکام کی واپسی اور ملک کی تعمیر نو شامل ہوں گے۔ عسیری نے باور کرایا کہ یمن کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مغربی افواج کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہتا، جنہوں نے 2011ء میں کرنل معمر قذافی کی حکومت ختم کرانے میں مدد کیلئے پہلے تو لیبیا میں فضائی حملے کئے اور پھر ملک کو افراتفری میں چھوڑ دیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب کتنے عرصے تک یمن میں رہے گا، عسیری نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ہم 30 روز میں مشکلات کو حل کر لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی علاقہ گزشتہ ہفتے سے پرسکون ہے۔ سعودی مشیر دفاع کے مطابق فائربندی سے یمنی دیہاتوں میں انسانی امداد بھیجنے اور بارودی سرنگیں ختم کرنے کا موقع میسر آیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT