Friday , December 15 2017
Home / عرب دنیا / یورپی یونین بلقان کا راستہ بند کرنے کی خواہاں

یورپی یونین بلقان کا راستہ بند کرنے کی خواہاں

یوروپ میں تارکین وطن کے بحران پر غور کرنے برسلز میں ہنگامی اجلاس
برسلز۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے سب سے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے رہنما ایک ہنگامی اجلاس کے لیے برسلز میں جمع ہیں۔ یورپی یونین پناہ گزینوں کی آمد پر روک چاہتی ہے اور بلقان کی ریاستوں سے گزر کر یورپ جانے والے راستے کو بند کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ ترکی پر معاشی حالات سے دو چار پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے زور دے گی اور اس کے عوض اس نے انقرہ کو تین ارب یورو دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس اجلاس کے دوران یورپی رہنما ترکی پر زور دیں گے کہ وہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر ترکِ وطن کرنے والے ایسے افراد کو ملک میں داخلے کی اجازت دے جنھیں یورپی ممالک سے بیدخل کیا گیا ہے۔ اس کے عوض میں یورپی یونین کچھ ایسے پناہ گزینوں کو یورپ میں بسانے پر تیار ہے جو اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔ گذشتہ سال دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین غیرقانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہوئے جن میں سے ایک بڑی تعداد ترکی سے یونان آنے والوں کی تھی۔ یورپی یونین کے رہنما ترک رہنماؤں سے ملاقات کے علاوہ پیر کو ایک اور اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جس میں پناہ گزینوں کے بحران پر مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاقِ رائے کی کوشش کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق یونان اور مقدونیہ کے درمیان واقع کچھ یورپی ممالک اس اجلاس میں اپنی سرحدیں بند کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ آسٹریا اور بلقان ریاستوں کی جانب سے سرحدی پابندیوں کے نفاذ کے بعد مقدونیہ سے متصل یونان کی سرحد پر تقریباً 13 ہزار پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT