Monday , January 22 2018
Home / دنیا / یورپ میں اردو زبان کا جادو سرچڑھ کر بولنے لگا اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن نیوزی لینڈ کامشاعرہ ‘ کوی سمیلن اور شام غزل ‘ بارش ا

یورپ میں اردو زبان کا جادو سرچڑھ کر بولنے لگا اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن نیوزی لینڈ کامشاعرہ ‘ کوی سمیلن اور شام غزل ‘ بارش ا

آکلینڈ۔24مئی ( سید مجیب کی رپورٹ ) موسلادھار بارش ‘ تیز رفتار آندھی بھی اردو زبان کی شیرینی اور لطافت کے آگے پھیکی پڑگئی ۔ اردو کا جادو دیار غیر نیوزی لینڈ میں سرچڑھ کر بولنے لگا ۔ یورپ کے کسی بھی ملک میں اردو زبان کا اتنا پُرہجوم مشاعرہ کہیں بھی نہیں دیکھا جاتا جتنا کہ نیوزی لینڈ میں نظر آتا ہے ۔ اس پُرہجوم مشاعرہ کا ناخوشگوار موسم ک

آکلینڈ۔24مئی ( سید مجیب کی رپورٹ ) موسلادھار بارش ‘ تیز رفتار آندھی بھی اردو زبان کی شیرینی اور لطافت کے آگے پھیکی پڑگئی ۔ اردو کا جادو دیار غیر نیوزی لینڈ میں سرچڑھ کر بولنے لگا ۔ یورپ کے کسی بھی ملک میں اردو زبان کا اتنا پُرہجوم مشاعرہ کہیں بھی نہیں دیکھا جاتا جتنا کہ نیوزی لینڈ میں نظر آتا ہے ۔ اس پُرہجوم مشاعرہ کا ناخوشگوار موسم کے باوجود کامیابی کا سہرا بے شک اردو زبان کی سحرانگیز شاعری اس زبان کی شیرینی اور لطافت کے سربندھتا ہے ۔ اس کے بعد اگر کوئی اس کامیاب مشاعرہ کیلئے ستائش کا مستحق ہے تو وہ ہے اردو ۔ ہندی کلچرل اسوسی ایشن نیوزی جس نے انگریزی کی بالادستی والے اس یورپی ملک میں اردو اور ہندی کے گنگا جمنی تمدن کو زندہ رکھا ہے ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن نیوزی لینڈ کے زیراہتمام اسوسی اشین کے ترجمان ’’ دھنک ‘‘ سالانہ کے رسم اجراء کے موقع پر اردو کا کلام ساز پر ’’ شام غزل‘‘ کے زیر عنوان پیش کیا گیا ۔ اردو مشاعرہ اور ہندی کوی سمیلن منعقد ہوا ۔ یہ تقریب چوتھی مرتبہ 23 مئی شام 6بجے فری میسن ڈے کمیونٹی ہال آکلینڈ میں شروع ہوئی ۔

موسلادھار بارش اور تیز رفتار آندھی بھی سامعین کو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور تقریب کے آغاز سے پہلے ہی ہال میں تل دھرنے کو جگہ باقی نہیں تھی ۔ صر اسوسی ایشن نفیس اختر نے سامعین اور شعراء کا خیرمقدم کیا ۔ رسالہ ’’ دھنک‘‘ کا رسم اجراء رکن پارلیمنٹ نیوزی لینڈ جناب کنول جیت سنگھ بخشی نے انجام دیا ۔ مشاعرہ کی صدارت آسٹریلیا کے ممتاز شاعر ادیب اور نقاد جناب رضا عباسی علوی نے کی ‘ نظامت کی ذمہ داری محمد توقیر خان کے ذمہ تھی ۔ شعراء میں پاکستان سے عطاء الرحمن قریشی ‘ غوث مجید ‘ فرح علوی‘سید مجیب حیدرآبادی ( نیوزی لینڈ) نے اپنا کلام پیش کیا ۔ پاکستان سے پروفیسر رئیس علوی نے ٹیلیفون پر مبارکباد پیش کی اور اپنا کلام سنایا ۔ ہندی کوی سمیلن میں سومناتھ گپتا ‘ ڈاکٹر مونا ورما ‘ سمن کپور ‘ بال مدن ‘ شیوبھاگیرت نے اپنی کویتائیں پیش کیں ۔ پریتا ویاس نے کوی سمیلن کی نظامت کی ۔

ڈاکٹر ایم ایم بیگ تیموری نے اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن کے ارکان عاملہ اور مشیروں کو شہ نشین پر مدعو کر کے ساعمین سے ان کا تعارف کروایا ۔ ’’ دھنک‘‘ کا رسم اجراء انجام دینے کے بعد عزت مآب رکن پارلیمنٹ کنول جیت سنگھ بخشی نے اپنے خطاب میں اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر اسوسی ایشن کے معتمد عمومی سید مجیب کو تہنیت پیش کی اور کہا کہ اس یوروپی ملک میں اردو زبان و تمدن کا تشخص برقرار رکھنا اور اس کا فروغ جوئے شیر لانے سے کم کوئی کارنامہ نہیں ۔ انہوں نے اس کی برقراری اور فروغ کو ضروری قراد دیا ۔ انہوں نے اسسٹنٹ پروفیسر اردو انوار العلوم کالج ایم اے لطیف خان کا جو نیوزی لینڈ کے نجی دورہ پر آئے ہوئے تھے تعارف کروایا ۔ بعد ازاں ساز پر کلام پیش کیا گیا ۔ گلوکاروں میںایلا کمار ‘ جسٹس آف پیس جیت سچدیو ۔ نثار مرزا ‘ کرم جیت سنگھ ‘ عظیم انور ‘ واسودیو ‘ یش یامنی ‘میور تلنڈولکر ‘ پریتی برٹوال ‘سندیپ سنگھ ‘ راجنی بخشی اور موسمی شامل تھے ۔ ہارمونیم پر کشن ‘ طلبہ پر بسنت مدھر ‘ گٹار پر اکھلیش مدھر اور وائلن پر انہوں نے سنگت کی ۔ حالانکہ پروگرام 6بجے سے 9بجے تک مقرر تھا لیکن سامعین پروگرام سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ پروگرام کے وقت میں دو گھنٹے تک توسیع کرنی پری اور 9بجے کے بجائے 11بجے شب تک پروگرام جاری رہا ۔پروفیسر رئیس علوی کی ٹیلیفون پر سنائی ہوئی نظم’’ تنہا تنہا ‘‘ عصر حاضر پر تمثیلی نظم ’’ پتنگ‘‘ جو صدر مشاعرہ آسٹریلیا کے جناب رضا عباس علوی اور سید مجیب کی غزلوں’’ … اب بھی وہی ہے‘‘ اور ’’… کیا سے کیا ہوگئے ‘‘ کو سامعین نے بہت پسند کیا اور دل کھول کر داد دی ۔ سامعین میں ہندو اور سکھ حضرات کی تعداد مسلم حضرات سے زیادہ تھی ۔ زبردست بارش اور تیز آندھی بھی شائقین کو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے نہ روک سکی ۔پارکنگ کے مسئلہ کی وجہ سے سامعین 280میٹر دور گاڑیاں پارک کر کے بارش میں بھیگتے ہوئے جلسہ گاہ تک پہنچے۔اس طرح اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن کی یہ یادگار چوتھی سالانہ تقریب یورپ کی تاریخ میں اپنا ایک سنگ میل قائم کر کے نصف شب کے قریب اختتام پذیر ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT