Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / یورپ میں ہائی الرٹ،فرانس کے بعد بلجیم میں بھی فوج طلب

یورپ میں ہائی الرٹ،فرانس کے بعد بلجیم میں بھی فوج طلب

برسلز ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے تحت مشتبہ اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف چھاپے اور حراست کے پیش نظر یورپ میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ بلجیم ، فرانس اور جرمنی میں کم از کم 20 افراد حراست میں لیے گئے ہیں جبکہ بلجیم نے فرانس کے بعد پولیس کے ساتھ فوج کو بھی تعینات کرنا شروع کردیا ہے۔دوسری جانب برطانیہ میں بھی پو

برسلز ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے تحت مشتبہ اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف چھاپے اور حراست کے پیش نظر یورپ میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ بلجیم ، فرانس اور جرمنی میں کم از کم 20 افراد حراست میں لیے گئے ہیں جبکہ بلجیم نے فرانس کے بعد پولیس کے ساتھ فوج کو بھی تعینات کرنا شروع کردیا ہے۔دوسری جانب برطانیہ میں بھی پولیس کو دہشت گردانہ حملے کے خدشے تحت ہوشیار کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پیرس میں گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد کئی ممالک میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بلجیم میں جمعہ کو پانچ لوگوں کو ایک دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعرات کو کئی چھاپے مارے گئے جن میں دو افراد ہلاک بھی ہوگئے۔گذشتہ رات ہونے والے چھاپوں میں پولیس کو اسلحہ، گولے بارود، یہاں تک کہ پولیس کی وردیاں اور بہت سے پیسے ملے۔

عدالت کے ایک عہدہ دار ایرک وان ڈر سیپٹ نے فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: ’’جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ کئی پولیس حکام کو مارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘‘انھوں نے بتایا کہ ’’مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن صرف پانچ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔‘‘فرانس میں پکڑے جانے والے دو مشتبہ افراد کو بلجیم اپنے ملک لانا چاہتا ہے اور جمعہ کو اس نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے نئے طریقوں کا اعلان کیا ہے۔ان میں دہشت گردوں کے بیرون سفر کو جرم قرار دیا جانا جہاں دوہری شہریت شامل ہے ایسے افراد کی شہریت کا دہشت گردی کا خطرہ پائے جانے پر منسوخ کیا جانا وغیرہ شامل ہیں۔بہرحال بلجیم کے دہشت گردی کے منصوبے اور فرانس میں ہونے والے حملے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا ہے۔

تاہم فرانسیسی وزیر اعظم مینوئل ولاس نے جمعہ کو کہا کہ ان کے باوجود دونوں ممالک کو ایک ہی طرح کے خطرات ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ان میں جو تعلق ہے وہ ہمارے اقدار پر حملہ کرنے کا ہے‘‘۔ پیرس میں گزشہ ایک ہفتے میں 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ آئی ٹیلے نے رپورٹ کیا ہے کہ پولیس نے پانچ شہروں میں چھاپے مارے اور جو لوگ حراست میں لیے گئے ہیں ان سے اب ممکنہ کلیدی تعاون جیسے ہتھیار، گاڑیاں وغیرہ فراہم کرنے کے بارے میں سوال کئے جار ہے ہیں۔ فرانس میں اب تک کی سب سے زیادہ چوکسی ہے اور تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ مبصرین نے کہا کہ فرانس اور بلجیم میں ہونے والے واقعات ان کے یورپی پڑوسیوں پر اہم اثرات رکھتے ہیں۔ اسپین نے فرانس میں حملے سے چند دن قبل امیدی کولیبلے کی میڈرڈ آمد کے بارے میں جانچ کا آغاز کیا ہے جبکہ جرمنی میں پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 11 مقامات پر چھاپے مارے ہیں جس میں 250 آفیسر شامل تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ شام میں ایک پر تشدد حملے کی تیاری کر رہے تھے لیکن جرمنی میں ’حملے کا کوئی عندیہ‘ نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما اور برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امریکی اور برطانوی حکام کا مشترکہ گروپ بنانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ دونوں ملک ’’پرتشدد شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرسکیں‘‘۔ قائدین کے مطابق یہ ٹاسک فورس چھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

جرمنی میں بھی سکیورٹی اقدامات میں شدت
برلن کی اطلاع کے بموجب سارے یورپ میں سخت چوکسی کے درمیان جرمنی نے بھی برلن اور ڈریسڈن کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں میں سکیورٹی اقدامات میں شدت پیدا کردی ہے جبکہ بیرونی انٹلیجنس ایجنسیوں سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ان مقامات کو کٹر اسلام پسندوں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ جرمنی کی انٹلیجنس سرویسز کو گزشتہ چند یوم میں بیرون ملک سے کئی پارٹنر سرویسز سے انتباہ موصول ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT