Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم انضمام حیدرآباد کے نام ریاست کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش

یوم انضمام حیدرآباد کے نام ریاست کی فضاء کو مکدر کرنے کی کوشش

جی کشن ریڈی اور مدھوگوڑیشکی کے بیانات کی مذمت ، ڈاکٹر کے چرنجیوی اور کیپٹن پانڈو رنگاریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز)تلنگانہ میں 17ستمبر کو یوم جشن کے طور پر منانے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں اور یہی وجہہ ہے کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے دوسال قبل ہی نئی ریاست میںبرسراقتدار حکمران جماعت ٹی آر ایس پارٹی نے اس حساس موضوع پر شدت پسندی اختیار کرنے کے بجائے مصلحت پسندی سے کام لیااور مذکورہ دن کو یومِ انضمام کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے اور تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی ٹی آر ایس اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کو فرو غ دے رہی ہے مگر ریاست میں بعض سرگرم فرقہ پرست سیاسی جماعتیں اس دن ریاست کے فضاء کو مکدر کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیںجس کی تمام سکیولر ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے مذمت ضروری ہے۔تلنگانہ ڈیموکرٹیک اینڈ سکیولر الائنس کے قائدین ڈاکٹر چرنجیوی‘ کیپٹن پانڈورنگاریڈی‘ رام داس‘ کے وینکٹیش‘ راجندر‘ محمد علی نے آج سوماجی گوڑ پریس کلب میں’’ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میںانضمام پر جشن منانا کس حد تک انصاف ہوگا‘‘ پر پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ تاثرات پیش کئے۔ڈاکٹر چرنجیوی نے تلنگانہ میں 17ستمبرکو یوم جشن کے طور پر منانے والوں کو تلنگانہ کی عوام کا غدر قراردیا۔انہوں نے کہاکہ 17ستمبر یعنی ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میں شامل کرنے کا دن ہے اس دن ہندوستان کی چھ سو سے زائد چھوٹی بڑی خو د مختار ریاستوں کو انڈین یونین میں ضم کیا گیا تھااس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ آج کے دن سوائے تلنگانہ کے کسی بھی ریاست میں یوم جشن منانے کا مطالبہ نہیںکیا جاتا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے فرقہ وارانہ ہم اہنگی کو متاثر کرنے کافرقہ پرست طاقتوں پر الزام عائد کیااور کہاکہ ریاست حیدرآباد کو انڈین یونین میں شامل کرنے کے لئے حکومت ہند کو کسی بھی قسم کی زیادتی کرنے کی ضرورت نہیںپڑی۔ڈاکٹر چرنجیوی نے کہاکہ اس دوران پیش آنے ناخوشگوار واقعات ریاست حیدرآباد کی سیکولر تاریخ پر ایک بدنما داغ ہیں۔انہوں نے پولیس ایکشن کے دوران پیش آئے واقعات کو کمیونسٹوں و رضاکاروں کے درمیان تصادم قراردیا جن کا آصف جاہی حکومت سے کوئی تعلق نہیںتھا۔ ڈاکٹر چرنجیوی نے یہ بھی کہا کہ اگر نظام ہشتم جابر او رظالم حکمران ہوتے تو انڈین یونین میںشمولیت اختیار کرنے والی ریاست حیدرآباد کا پہلا راج پرمکھ آصف جاہ صابع کو مقرر نہیںکیا جاتا۔ نظام ہشتم کو جاگیردارانہ دور حکومت کا پہلا سکیولر حکمران بھی قراردیا۔کیپٹن پانڈورنگار ریڈی نے آصف جاہی حکمرانوں بالخصوص نظام ہشتم کے تعلق سے تلنگانہ کے غیر مسلم افراد کے اندر پیدا کی گئی بدگمانیوں کودور کرنے کے لئے ریاستی سطح پر ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ رضاکاروں میں ہر مذہب اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔انہوں نے پولیس اور آندھرائی کمیونسٹ قائدین پر بھی رضاکاروں کے بھیس میں ظالم وزیادتیاں کرنے کا الزام عائد کیا تاکہ اس کی وقت کی رضاکار تحریک کو آسانی کیساتھ بدنام کیاجاسکے۔ بی جے پی کے ریاستی قائد کشن ریڈی کی جانب سے رضاکاروں پر لگائی گئے الزامات پر ثبوت طلب کرتے ہوئے کہاکہ رضاکار تحریک کے متعلق کشن ریڈی کے الزامات کی حقیقت اُس وقت کے کسی بھی اخبار میں شائع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ آندھرائی مورخین کی لکھی گئی تاریخی کتابوں کے حوالے سے کی گئی بات تلنگانہ کی عوام کے لئے ناقابلِ قبول ہوگی۔ کانگریس کے سابق ایم پی مدھویشکی گوڑ کے بیان پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ آیا مدھو یشکی گوڑ کا بیان پارٹی کی قومی کمیٹی کی ایماء پر جاری کیاگیا ہے یا پھر وہ ذاتی طور پر ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ قومی سطح پر کانگریس پارٹی سیکولر زم کو فروغ دینے کی بات کرتے ہوئے بی جے پی کو اپنی سخت تنقید کانشانہ بنارہی ہے جبکہ پارٹی کے ریاستی قائدین 17ستمبرسے متعلق متناز عہ بیانات کے ذریعہ پارٹی کی شبہہ کو متاثر کررہے ہیں ۔سماجی جہدکار اورتلنگانہ تحریک علمبردار رام داس نے ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میںانضمام کو تلنگانہ کا عظیم نقصان قراردیتے ہوئے کہاکہ انضمام کے بجائے ریاست حیدرآباد خودمختار مملکت ہوتی تو آج ہم سعودی عرب سے زیادہ مالدار ہوتے۔

TOPPOPULARRECENT