Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم تاسیس تلنگانہ پر چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب مسلمانوں کیلئے مایوس کن

یوم تاسیس تلنگانہ پر چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب مسلمانوں کیلئے مایوس کن

اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کا سرسری ذکر ، الیکشن میں ووٹ ، اقتدار کے بعد وعدہ خلافی
حیدرآباد۔/3جون، ( سیاست نیوز) یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خطاب نے تلنگانہ کے مسلمانوں کو مایوس کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے پریڈ گراؤنڈ پر اپنے طویل خطاب میں اقلیتوں و پسماندہ طبقات کی ترقی کا سرسری انداز میں ذکر کیا لیکن مسلمانوں سے کئے گئے کئی اہم وعدوں کو فراموش کردیا جن میں خاص طور پر 12 فیصد تحفظات کا وعدہ شامل ہے۔ مسلمانوں کو امید تھی کہ دو سال کی تکمیل کے بعد چیف منسٹر اپنے اس وعدہ کا ضرور تذکرہ کریں گے اور حکومت کے موقف کی وضاحت کی جائے گی لیکن چیف منسٹر نے لاکھوں مسلمانوں کو مایوس کرتے ہوئے اپنی حکومت کے دو سال کا جشن منایا۔ ایسا جشن کس کام کا جس میں ریاست کا اہم طبقہ شریک نہ ہو جس نے ٹی آر ایس کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ دو سالہ جشن کے موقع پر حکومت کی اسکیمات اور کارناموں کی تشہیر کیلئے کروڑہا روپئے خرچ کئے گئے اور ملک بھر کے تمام زبانوں کے اخبارات میں کئی صفحات کے اشتہارات جاری کئے گئے لیکن ان میں حکومت نے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں اور ان کی تکمیل کا ذکر نہیں کیا۔ مسلم تحفظات کے مسئلہ سے بچنے کیلئے چیف منسٹر نے 2سال کی تکمیل کے موقع پر اردو میڈیا کو انٹرویو دینے سے گریز کیا جبکہ انگریزی اور تلگو اخبارات کو چیف منسٹر نے خصوصی انٹرویو دیئے اور ان میں بھی کہیں مسلمانوں اور 12 فیصد تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اردو پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کے انٹرویو کیلئے مدعو کیا جاتا تو وہ یقینی طور پر 12فیصد تحفظات کے بارے میں سوال کرتے۔ یوم تاسیس تقاریب میں اپنی حلیف جماعت کے سفارش کردہ چند افراد کو ایوارڈ کی پیشکشی سے مسلمان خوش نہیں ہوں گے، انہیں چند مخصوص افراد کو ایوارڈ نہیں بلکہ ریاست کے لاکھوں مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی کیلئے تحفظات چاہیئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ  صحافت کے شعبہ میں مقامی جماعت نے اپنے ترجمان اخبار کے نمائندہ کے نام کی ایوارڈ کیلئے سفارش کی لیکن جس وقت نام کا اعلان ہوا تو اخبار کا نام ’سیاست‘ کہا گیا۔ اس طرح حکومت اور عہدیداروں کے ذہنوں پر اخبار ’’سیاست‘‘ چھایا ہوا ہے یا پھر چیف منسٹر کو یہ جتانے کی کوشش کی گئی کہ ’سیاست‘ کے صحافی کو ایوارڈ دیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ چیف منسٹر مقامی جماعت کے ترجمان اخبار کے نام اور اس کے نمائندے سے واقف بھی نہیں ہوں گے۔ یوم تاسیس تقاریب میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسلم عوامی نمائندے اور سینئر قائدین کسی بھی پروگرام میں پیش پیش دکھائی نہیں دیئے حتیٰ کہ انہوں نے اردو کے پروگراموں میں بھی شرکت نہیں کی۔ حکومت میں شامل واحد مسلم نمائندہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو نئی دہلی روانہ کردیا گیا تاکہ وہاں یوم تاسیس تقاریب میں حصہ لیں۔ انہیں حیدرآباد کی تمام تقاریب حتیٰ کہ اقلیتی بہبود کے پروگراموں سے بھی دور رکھا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ واحد مسلم نمائندہ کی جگہ کسی اور وزیر کو نئی دہلی روانہ کیا جاتا تاکہ حیدرآباد کی اہم تقاریب میں مسلم ڈپٹی چیف منسٹر کی موجودگی سے عوام میں مثبت پیام پہنچے۔ گذشتہ دو برسوں سے یوم تاسیس تقاریب کیلئے محمد محمود علی کو نئی دہلی روانہ کیا جارہا ہے۔ یوں بھی نئی دہلی کی تقاریب کیلئے وہاں موجود حکومت کے خصوصی نمائندے کافی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT