Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم تاسیس تلنگانہ کے تحت اقلیتی بہبود کے پروگرام محبان اردو کے لیے زحمت

یوم تاسیس تلنگانہ کے تحت اقلیتی بہبود کے پروگرام محبان اردو کے لیے زحمت

ممتاز گلوکار طلعت عزیز کا پروگرام ناکام ، جگہ کے انتخاب میں غلط فیصلہ سے منفی اثر ، مشاعرہ کے چند شعراء کا کلام ہی داد و تحسین کے لائق
حیدرآباد۔/3جون، ( سیاست نیوز) یوم تاسیس تلنگانہ کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے منعقدہ 3پروگرام محبان اردو کیلئے زحمت کا باعث بن گئے۔ ایک ہی دن میں تین مختلف مقامات پر پروگراموں کے انعقاد سے اردو داں عوام کو پروگراموں سے مستفید ہونے کا موقع نہیں ملا جس کے نتیجہ میں ’ شام غزل‘ کا اہم پروگرام غیر متوقع طور پر ناکام ثابت ہوا۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ممبئی میں مقیم ممتاز گلوکار طلعت عزیز کو مدعو کیا گیا تھا لیکن جگہ کے انتخاب میں غلط فیصلہ نے اس پروگرام کو ناکام کردیا۔ انڈور اسٹیڈیم فتح میدان جہاں کئی ہزار افراد کی گنجائش ہے وہاں طلعت عزیز کو سننے کیلئے بمشکل200 تا 500 افراد موجود تھے اور یہ تعداد بھی پروگرام کے اختتام تک کافی کم ہوگئی۔ طلعت عزیز نے اس پروگرام میں اپنی مشہور غزلیں پیش کیں اور خاص طور پر مخدوم محی الدین کا کلام اور فلموں میں گائی ہوئی غزلیں پیش کرتے ہوئے سماں باندھنے کی کوشش کی لیکن انہیں بھی کم شائقین کے سبب مایوسی ہوئی۔ طلعت عزیز سے قبل مقامی فنکاروں کو موقع دیا گیا تھا لیکن اس وقت سامعین کی تعداد اور بھی کم تھی۔ الغرض ’ شام غزل ‘ میں شریک شائقین کا احساس تھا کہ منتظمین نے پروگرام کیلئے جگہ کے انتخاب میں غلطی کی ہے اگر یہی پروگرام چو محلہ پیالیس یا پھر پرانے شہر کے کسی اور آڈیٹوریم میں کیا جاتا تو یقینی طور پر کامیاب ہوتا۔ حکومت کی ہدایت کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود نے ایک ہی دن میں 3 پروگرام منعقد کئے جن میں کُل ہند مشاعرہ اور بزم قوالی کا پرانے شہر میں انعقاد عمل میں آیا۔ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم میں کُل ہند مشاعرہ کامیاب رہا جو صبح تقریباً 4 بجے تک جاری رہا۔ مشاعرہ میں 10بیرونی شعراء کو مدعو کیا گیا تھا لیکن ان میں صرف چند شعراء ہی کامیاب ثابت ہوئے جن میں جوہر کانپوری، ماجد دیوبندی، ہاشم فیروز آبادی، حامد بھنساولی، لتا حیا شامل ہیں۔ شعراء کے انتخاب میں مخصوص گروپ کی شمولیت کی شکایات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی شعراء میں اچانک 2 کا اضافہ کردیا گیا جو حکومت میں شامل افراد کی سفارش کا نتیجہ تھا۔ شعراء کی پیشکشی کے سلسلہ میں ناظم مشاعرہ بری طرح ناکام رہے اور ترتیب کی غلطی کے سبب کئی استاد مقامی شعراء داد حاصل کرنے سے محروم رہے۔ بیرونی شعراء کے بعد مقامی شعراء کو پیش کرنے سے عوام کا کوئی خاص رد عمل نہیں ملا اور مشاعرہ کا تسلسل ٹوٹ رہا تھا۔ مقامی شعراء کو شکایت رہی کہ انہیں پیش کرنے سے قبل مناسب تعارف تک نہیں کرایا گیا جبکہ بیرونی شعراء کو ان کی قابلیت اور صلاحیت سے زیادہ تعریف و توصیف سے نوازا گیا۔ مشاعرہ میں اس وقت بدمزگی اور گڑبڑ ہوگئی جب ناظم مشاعرہ نے اُٹھ کر جانے والے سامعین کی ٹوپیوں پر ریمارک کیا۔ اس پر سامعین برہم ہوگئے اور اُٹھ کر احتجاج کرنے لگے۔ اس مرحلہ پر مشاعرہ کو برقرار رکھنا دشوار کن دکھائی دے رہا تھا اور ہر کوئی ناظم مشاعرہ سے ناراضگی کا اظہار کررہا تھا۔ ایسے میں جوہر کانپوری اور ماجد دیوبندی نے سامعین کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ منتظمین اور اقلیتی بہبود کے عہدیدار بھی ناظم مشاعرہ کے ریمارک اور مشاعرہ میں شعراء کی ترتیب میں ناکامی پر ناخوش دکھائی دے رہے تھے۔ تینوں تقاریب میں حکومت کے کسی بھی وزیر اور برسر اقتدار پارٹی کے عوامی نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔ مشاعرہ میں جن بیرونی شعراء نے کلام پیش کیا ان میں جوہر کانپوری، شبینہ ادیب، لتا حیا ، ماجد دیوبندی، حامد بھنساولی، ضیاء ٹونکی، ہاشم فیروزآبادی، صبا بلرام پوری شامل ہیں جبکہ مقامی شعراء میں محسن جلگانوی، ڈاکٹر محمد علی رفعت، صوفی سلطان شطاری، جلال عارف، آغا سروش، فاروق شکیل، مسرور عابدی، سردار سلیم، تسنیم جوہر اور دوسروں نے کلام سنایا۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے شخصی طور پر انتظامات کی نگرانی کی اور ’ شام غزل ‘ کے بعد کُل ہند مشاعرہ میں اختتام تک موجود رہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل اور ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں بھی رات دیر گئے 3 بجے تک مشاعرہ سے محظوظ ہورہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT