Monday , October 15 2018
Home / کھیل کی خبریں / یوم خواتین کے موقع پر ہندوستانی کھلاڑیوں سے ناانصافی؟

یوم خواتین کے موقع پر ہندوستانی کھلاڑیوں سے ناانصافی؟

نئی دہلی۔8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں کے معاہدے میں جہاں مرد کرکٹروں پر دولت نچھاور کی ہے تو وہیں ورلڈ کپ میں رنراپ خاتون کرکٹروں کو خواتین کے عالمی دن پر معمولی سی سوغات دی ہے ۔بی سی سی آئی نے مرد معاہدے میں ایک نئے گریڈ ‘اے پلس’ کی شروعات کی ہے جس میں پانچ کھلاڑیوں کو فی کس سات کروڑ روپے دیئے جائیں گے ۔نئیزمرے میں کپتان ویراٹ کوہلی، روہت شرما، شکھر دھون، بھونیشور کمار اور جسپریت بمراہ کو رکھا گیا ہے ۔اس کے علاوہ اے گریڈ میں پانچ کروڑ روپے ، بی گریڈ میں تین کروڑ روپے اور سی گریڈ میں ایک کروڑ روپے دیئے جائیں گے ۔بی سی سی آئی نے اگرچہ سینئر خواتین کرکٹ کے لیے بھی گریڈ سی کا نیا زمرہ شروع کیا ہے لیکن خاتون کرکٹروں کو دی جانے والی معاہدے کی رقم مرد کھلاڑیوں کے مقابلے بہت ہی کم ہے ۔ خاتون کرکٹرس کو گریڈ ایک میں50 لاکھ روپے،گریڈ بی میں30 لاکھ روپے اورگریڈ سی میں10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے ۔کرکٹ بورڈ جہاں چاروں معاہدہ میں شامل26 مردکھلاڑیوں کو کل 98 کروڑ روپے فیس کے طور پر دے گا وہیں خاتون معاہدہ میں شامل 19 کھلاڑیوں کو صرف 4.70 کروڑ روپے دیے جائیں گے جو مرد اے گریڈ کے ایک کھلاڑی کے پانچ کروڑ روپے سے بھی کم ہے ۔خواتین کے گریڈ اے میں متھالی راج، جھولن گوسوامی، ہرمن پریت کور اور سمرتی مدھانا، گریڈ بی میں پونم یادو، ویدا کرشنامورتی، راجیشوري گایکواڈ، ایکتا بشٹ، شکھا پانڈے اور دیپتی شرما اور گریڈ سی میں مانسی جوشی، انوجا پاٹل، مونا میشرام، نذھت پروین، سشما ورما، پونم راوت، جیمما روڈرگز، پوجا وسترکر اور تانیا بھاٹیہ کو رکھا گیا ہے ۔یہ بھی دلچسپ ہے کہ نئے معاہدے کا اعلان کرنے والے سي اواے میں سابق ہندستانی خواتین کپتان ڈیانا اڈلجي بھی شامل ہیں۔اس معاہدے سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ کرکٹ بورڈ خواتین کرکٹروں کو مرد کرکٹرس کی برابری پر لانے کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا ہے جبکہ خاتون کرکٹرس نے گزشتہ ورلڈ کپ میں رنر اپ رہنے کی تاریخ بنائی ہے ۔خواتین ٹیم نے حالیہ جنوبی افریقہ کے دورے میں ونڈے اور ٹوئنٹی20 سیریز جیت کر بھی تاریخ رقم کی لیکن جس طرح کا معاہدہ انہیں ملنا چاہئے تھا وہ انہیں نہیں مل پایا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT