یوم دستور پر نائب صدر اور وزیراعظم کی عوام کو مبارکباد

26 نومبر کے ممبئی دہشت گرد حملے کی یاد ، صدر ، نائب صدر، وزیراعظم ، چیف جسٹس کے بیانات

نئی دہلی 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو اور وزیراعظم نریندر مودی نے آج ملک کے عوام کو ’یوم دستور‘ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ دستور میں جن اقدار کو شامل کیا گیا ہے، اُن پر عمل آوری شخصی طور پر اور عوامی زندگی میں ضروری ہے۔ صدرجمہوریہ ہند رامناتھ کووند نے ’یوم دستور‘ پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں بار بار خلل اندازی پر اظہار تشویش کیا اور کہاکہ جب مقدمہ عدالت میں زیردوران ہو تو اِسے پارلیمنٹ میں موضوع بحث نہیں بنایا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ 26 نومبر کے ممبئی دہشت گرد حملے کی جھلکیاں آج بھی ہندوستان کے ذہن میں تازہ ہیں اور اُنھوں نے 26 نومبر کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کی حکومت سے خواہش کی۔ اُنھوں نے اِس بات پر بھی اظہار مسرت کیاکہ سپریم کورٹ نے مسلمہ فیصلے کے ترجمے کی نقول فریقین کو جاری کرنا شروع کردیا ہے۔ نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو اور وزیراعظم نریندر مودی نے آج ممبئی کے 26 نومبر کو دہشت گرد حملے میں مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری متحد ہوکر دہشت گردی کی لعنت کا مقابلہ کرے اور ایسے ممالک کو الگ تھلگ کردے جو دہشت گردوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ یہ ہمارے بہترین مفاد میں ہوگا کہ دستور کی نصیحتوں پر کان دھریں۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے آج کہاکہ ایسا نہ کرنے کے نتیجہ میں ملک میں انتشار مسلط ہوجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ دستور ہند محروم طبقات کی اور اکثریت اور اُن افراد کی آواز ہے جو صرف بحران کے دوران ملک کو یاد آتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ یوم دستور تقاریب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوم دستور جسے سمودھان دیوس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور 26 نومبر کو منایا جاتا ہے جبکہ دستور اختیار کیا گیا تھا۔ دستور ساز اسمبلی نے دستور ہند 26 نومبر 1949 ء کو تسلیم کیا تھا اور اِس پر عمل آوری 26 جنوری 1950 ء سے شروع ہوئی تھی۔ دستور ہماری زندگیوں کا اٹوٹ حصہ بن گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ کسی کو بھی مختلف مسائل میں جن کی سماعت روزآنہ عدالتوں میں کی جاتی ہے، یہ بات جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے کہ دستور نظرانداز طبقات اور اکثریت کی آواز ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ یہ بحران کے وقت اور بے یقینی کی حالت میں ہماری رہنمائی کرتا رہے۔ جب دستور پر عمل آوری شروع ہوئی تھی تو وسیع پیمانے پر اِس پر تنقید کی گئی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنقید کرنے والی آوازیں کمزور ہوتی گئیں اور یہ ایک عظیم فخر کی بات ہے کہ دستور کا حوالہ گزشتہ کئی سال سے عظیم جوش و ولولہ کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دستور ایسی دستاویز نہیں ہے جو وقت کے ساتھ منجمد ہوجائے۔ کوئی بھی تقریب کا موقع نہیں ہے جس میں دستور کے تیقنات کی آزمائش کی جاسکے۔ کیا ہم ہندوستانی ہیں؟ جو آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مساوات اور باوقار زندگی دستور کی رہنمایانہ خصوصیات ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT