Sunday , September 23 2018
Home / جرائم و حادثات / یوم شہادت بابری مسجد کے موقع پر آج شہر میں پولیس چوکسی

یوم شہادت بابری مسجد کے موقع پر آج شہر میں پولیس چوکسی

یوم شہادت بابری مسجد کے موقع پر آج شہر میں پولیس چوکسی تلنگانہ کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد خوشی اور غم کی ملی جلی صورتحال

یوم شہادت بابری مسجد کے موقع پر آج شہر میں پولیس چوکسی
تلنگانہ کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد خوشی اور غم کی ملی جلی صورتحال

حیدرآباد۔ 5 ڈسمبر (سیاست نیوز) بابری مسجد شہادت کی 21 ویں برسی کے موقع پر شہر میں پولیس نے سخت چوکسی اختیار کرلی ہے۔ آج شام 10 اضلاع پر مشتمل تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے مرکزی کابینہ کے اعلان کے بعد شہر میں مزید چوکسی بڑھا دی گئی ہے اور نیم فوجی دستوں کو اہم چوراہوں اور اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے۔ 6 ڈسمبر کے خصوص میں آج رات سے پولیس نے حساس علاقوں میں طلایہ گردی میں اضافہ کردیا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے تعلق سے رائل تلنگانہ کی تجویز پر تعطل ختم ہونے کے بعد تلنگانہ بھر میں جشن کا ماحول ہے اور 6 ڈسمبر یوم سیاہ منانے کے اعلان کے بعد ایک طرف خوشی اور غم حالات پر اثرانداز ہونے کا پولیس کو خوف ہے۔ تاہم اس خصوص میں سٹی پولیس کمشنر انوراگ شرما نے کہا ہے کہ پولیس نے ہر قسم کے حالات پر قابو پانے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اب جبکہ ایک سیاسی جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے مرکزی کابینہ کے فیصلے پر احتجاجاً 6 ڈسمبر کو ریاست میں بند منانے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس اور انٹلیجنس اداروں کو پہلے ہی سے اس بات کے خدشات ہیں اور ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ شہر کے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کی سازش ہوسکتی ہے۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات مکمل کرلئے ہیں۔ کمشنر پولیس انوراگ شرما نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے بیان میں اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے آج سیاست نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سٹی پولیس کی فورس کے علاوہ زائد فورس کو طلب کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی ایس پی کے 20 پلاٹونس، 5 نیم فوجی دستوں کی کمپنیوں کے علاوہ سرحدی فورس، آر اے ایف، کیو آر ٹی پولیس کو متعین کردیا گیا ہے اور ساری فورس چوکس رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سٹی پولیس حالات کو پرامن رکھنے موثر اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے امن کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ کے فیصلے پر جشن کے دوران فرقہ پرست اور فسطائی طاقتیں جشن کے نام پر امن کو بگاڑنے کی کوششیں کرسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT