Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / یوم عاشورہ کا عقیدت و احترام کے ساتھ انعقاد

یوم عاشورہ کا عقیدت و احترام کے ساتھ انعقاد

مختلف مقامات پر نوحہ و ماتم ، بی بی کے علم کے جلوس میں نذر و ڈھٹی پیش کی گئی
حیدرآباد۔25 اکتوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں یوم عاشورہ کا بصد عقیدت و احترام انعقاد عمل میں آیا۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف مقامات بالخصوص خانقاہوں میں دعائے یوم عاشورہ کا اجتماعی اہتمام عمل میں لایا گیا۔ تاریخی بی بی کے علم کے جلوس کا آغاز بی بی کا الاوہ دبیرپورہ سے ہوا جو کمان شیخ فیض، کوٹلہ عالیجاہ، سردار محل، تاریخی چارمینار، گلزار حوض، چار کمان،  قدم رسول ، پنجہ شاہ، منڈی میرعالم، پرانی حویلی، دارالشفاء ، چادرگھاٹ سے ہوتا ہوا کالی قبر پہونچا۔ بی بی کے علم کو مختلف مقامات پر عقیدت مندوں کی جانب سے نذر و ڈھٹی پیش کی گئی۔ تاریخی بی بی کے علم کے جلوس کے ہمراہ کئی ماتم دار، عزاداری کرتے دیکھے گئے۔ ماتم داروں کی مختلف انجمنوں کی جانب سے بی بی کے علم کے ہمراہ نوحہ خوانی کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ دبیرپورہ سے جلوس گذرنے کے تمام راستوں پر عقیدت مندوں اور مشاہدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ چارمینار کے قریب محکمہ پولیس کی جانب سے عہدیداروں نے بی بی کے علم کو ڈھٹی پیش کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے دیگر قائدین کے ہمراہ بی بی کے علم کو پیش کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے دیگر قائدین کے ساتھ دارالشفاء کے قریب بی بی کے علم کو نذر و ڈھٹی پیش کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراج ادا کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مسٹر اَنجن کمار یادو، انیل کمار یادو، واجد حسین اور دیگر موجود تھے۔ پرنس شہامت جاہ نے پرانی حویلی میں خاندان آصفیہ کی جانب سے بی بی کے علم کا استقبال کیا اور ڈھٹی پیش کی۔ اس موقع پر شہزادہ عظمت جاہ بہادر فرزند مکرم جاہ بہادر، جناب کمال الدین علی خاں سیکریٹری مکرم جاہ ایجوکیشنل ٹرسٹ و ڈائریکٹر تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مرکزی وزیر مسٹر بنڈارو دتاتریہ کے علاوہ مسٹر بدم بال ریڈی و دیگر قائدین نے منڈی میر عالم کے قریب بی بی کے علم کو ڈھٹی پیش کی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کمشنر جی ایچ ایم سی مسٹر سومیش کمار کی نگرانی میں بی بی کے علم کو ڈھٹی پیش کی گئی۔ دونوں شہروں کے مختلف مقامات بالخصوص عاشور خانوں میں مجالس عزا کا انعقاد عمل میں آیا۔ علاوہ ازیں شہر کی خانقاہوں میں جلسہ ہائے یاد حسینؓ منعقد کئے گئے۔ ان جلسوں سے خطاب کے دوران علمائے کرام و مشائخین عظام نے یوم عاشورہ کے فضائل بیان کئے اور معرکہ کربلا کے دوران پیش آئے واقعات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے شہدائے کربلا کے صبر و شہادت کو خراج پیش کیا۔تاریخی چارمینار کے پاس مختلف انجمنوں کی جانب سے بی بی کے علم کو ڈھٹی پیش کی گئی اور ماتم داروں نے سینہ زنی اور خونی ماتم کے ذریعہ شہدائے کربلا کو خراج پیش کیا۔ محکمہ پولیس کی جانب سے جلوس گذرنے کے راستوں پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ کئی مقامات پر ٹریفک پولیس نے ٹریفک کیلئے متبادل راستے اختیار کرنے کے خصوصی انتظامات کے ذریعہ حمل و نقل میں آسانیاں پیدا کیں۔ جلوس کے اختتام کے بعد بالسٹی کھیت میں مرکزی مجلس شام غریباں کا انعقاد عمل میںآیا۔

TOPPOPULARRECENT