Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / یوم عاشورہ کے فضائل و اعمال

یوم عاشورہ کے فضائل و اعمال

جناب محمد صفی اللہ
۱۰؍ محرام الحرام عاشورہ کے روز حضرت سیدنا آدم صفی اللہ علیہ السلام کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن انھیں پیدا کیا گیا، اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن عرش و کرسی، آسمان و زمین، سورج، چاند، ستارے اور جنت پیدا کئے گئے۔ اسی دن حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن انھیں آگ سے نجات ملی۔ اسی دن حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اور آپ کی قوم کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا۔ اسی دن حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن آپ کو آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔ اسی دن حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام کو ملک عظیم عطا کیا گیا۔ اسی دن حضرت سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔ اسی دن حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے۔ اسی دن حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا ضعف دُور ہوا۔ اسی دن حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام کی تکلیف دفع کی گئی۔ اسی دن آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش نازل ہوئی۔ اسی دن امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مع شہزادگان و رفقاء تین دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد میدان کربلا میں انتہائی سفاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’رمضان کے بعد محرم کا روزہ افضل ہے اور فرض (نماز) کے بعد افضل نماز صلوۃ اللیل ہے‘‘۔

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کونسا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟‘‘۔ عرض کیا: ’’یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو دیا۔ لہذا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکرانہ اس دن روزہ رکھا‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تہارے ہم زیادہ حقدار اور زیادہ قریب ہیں‘‘۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمایا (صحیح بخاری) احادیث میں محرم الحرام کی دس تاریخ کے ساتھ نویں محرم یا گیارہویں محرم کے روزہ کی بھی تاکید آئی ہے، تاکہ یہودیوں سے مطابقت نہ رہے۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ عز و جل کوئی خاص نعمت عطا فرمائے تو اس کی یادگار قائم کرنا درست و محبوب ہے کہ اس طرح اس نعمت عظمیٰ کی یاد تازہ ہوگی اور اس کا شکر ادا کرنے کا سبب بھی ہوگا۔ خود قرآن عظیم میں ارشاد ربانی ہے: ’’اور انھیں اللہ کی یاد دلاؤ‘‘۔
( سورۂ ابراہیم)
ماہِ محرم الحرام کے جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کا روزہ ساٹھ برس کی عبادت کے برابر ہے اور عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ معاف کرادیتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
عاشورہ کے دن غسل کریں، کیونکہ اس دن آب زم زم دنیا کے تمام پانی میں آتا ہے اور غسل کرنے سے موت کے سواء کوئی بیماری نہیں آئے گی۔ عاشورہ کے دن سرمہ لگانے سے آشوب چشم یعنی آنکھ سے پانی جانے کی بیماری سے زندگی بھر حفاظت ہوگی۔ عاشورہ کے دن اپنے دستر خوان کو وسیع کرنے یعنی اپنے گھر میں عمدہ اور اچھا کھانا پکانے سے سال بھر روزی میں خیر و برکت ہوگی۔ عاشورہ کے دن صدقہ و خیرات کرنے، غریبوں کو کھانا کھلانے اور ان کی مدد کرنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT