Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / یونانی طریقہ طب دنیا میں مقبول ، ہندوستان میں سرکاری سرپرستی سے محروم

یونانی طریقہ طب دنیا میں مقبول ، ہندوستان میں سرکاری سرپرستی سے محروم

حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے موقع پر ورلڈ یونانی لیگ کا اجلاس ، ملک و بیرون ملک کے ممتاز ڈاکٹرس کا خطاب

حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے موقع پر ورلڈ یونانی لیگ کا اجلاس ، ملک و بیرون ملک کے ممتاز ڈاکٹرس کا خطاب
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : طب یونانی میں کئی ایسے پیچیدہ امراض کا کامیاب علاج موجود ہے جو دوسرے طریقے طب میں موجود نہیں لیکن سرکاری سطح پر سرپرستی و حوصلہ افزائی سے محرومی کے باعث اس کی اہمیت و افادیت کھل کر منظر عام پر نہیں آرہی ہے تاہم حیدرآباد میں یونانی اطباء یونانی طب کے فروغ کے لیے جان توڑ کوشش کررہے ہیں اور اس کے بہتر نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ’ عالمی یوم یونانی ‘‘ کے موقع پر منعقدہ ورلڈ یونانی لیگ کے خصوصی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین طب نے کیا ۔ واضح رہے کہ حکیم اجمل خان کی 147 ویں پیدائش تقریب کو ہر سال عالمی یوم یونانی کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حیدرآباد کو ہندوستان میں طب یونانی کا مرکز کہاجاتا ہے ۔ جہاں ایشیاء کا سب سے بڑا طبی شفاخانہ نامساعد حالات اور لاکھ رکاوٹوں کے باوجود بڑی کامیابی سے چلایا جارہا ہے ۔ نظامیہ طبی شفاخانہ سے نہ صرف ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش بلکہ سارے ہندوستان سے مریض رجوع ہوتے ہیں ۔ ورلڈ یونانی لیگ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر معین انصاری نے جو پالمیر یونیورسٹی امریکہ کے شعبہ نیوٹریشن کے سربراہ بھی ہیں کہا کہ یونانی طریقہ علاج کی خوبی یہ ہے کہ اس کے کوئی ذیلی اثرات نہیں ۔ اس میں خاص طور پر امراض قلب ، امراض جگر ، رگوں و نسوں کے امراض کا کامیاب علاج موجود ہے ۔ اگر اطباء کے ساتھ ساتھ حکومتیں یونانی طب پر توجہ مرکوز کرتی ہیں تو یونانی طریقہ علاج سے خاص و عام سب استفادہ کرسکتے ہیں ۔ صدر ورلڈ یونانی لیگ ڈاکٹر رفیع حیدر شکیب نے مہمانوں اور شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یونانی طریقہ علاج صرف ہندوستان ، پاکستان یا ایران میں ہی مقبول نہیں ہے بلکہ مغرب میں بھی ماہرین طب یونانی طریقہ علاج کی خوبیوں کے معترف ہیں ۔ عالمی حقوق انسانی کے سفیر جناب ایم اے نجیب نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جب کہ ڈپٹی ڈائرکٹر دوردرشن جناب شجاعت علی شجیع مہمان اعزازی تھے ۔ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی ممتاز شخصیت مولانا عبدالرحیم نے بھی طب یونانی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باوجود طب یونانی اپنی اہمیت و افادیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ۔ اس کے لیے ہمارے اطباء کی کاوشوں کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ اس بامقصد اجتماع میں ایک ہزار سے زائد اطباء و میڈیکوز کے علاوہ طب یونانی سے دلچسپی رکھنے والوں نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر معین انصاری نے یونانی ڈاکٹروں کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو طب کے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کریں ۔ اس اہم ترین اجلاس کی کارروائی ڈاکٹر محمد وقار حیدر نے انتہائی پر اثر انداز میں چلائی ۔ اس موقع پر ورلڈ یونانی لیگ کا پرچم لہرایا گیا اور اس کے لوگو کی رونمائی بھی انجام پائی ۔ طب یونانی کے فروغ میں نمایاں رول ادا کرنے والے ڈاکٹر غلام یزدانی خاں اور سابق ڈائرکٹر سی سی آر یو ایم ڈاکٹر ایم اے وحید کو پہلا حکیم اجمل خاں گلوبل ایوارڈس پیش کئے گئے ۔ مہمان خصوصی کے ہاتھوں اوما کی یونانی میڈیکل جنرل کی رسم اجراء انجام پائی ۔ میگزین کے ایڈیٹر ڈاکٹر زین العابدین خاں اور ورلڈ یونانی لیگ کے کنوینر ڈاکٹر عبدالرحمن خاں نے کہا کہ ہمارے ملک میں عالمی سطح کی آیورویدا کانفرنسوں کا انعقاد عمل میں لایاجاتا ہے طب کے دیگر دیسی طریقوں کی سرپرستی کی جاتی ہے لیکن برصغیر ہند و پاک ، ایران اور مشرق وسطیٰ میں مقبول طب یونانی کی سرپرستی سے حکومتیں گریز کرتی ہیں ۔ ان ڈاکٹروں نے ورلڈ ایورویدا کانفرنس کی طرح حکومت کی سرپرستی میں عالمی یونانی کانفرنس کے اہتمام کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر خواجہ بدر الدین صدیقی ، ڈاکٹر احسن فاروقی ، ڈاکٹر واسعہ نوید پرنسپل نظامیہ طبی کالج ، ڈاکٹر میر یوسف علی ایڈیشنل ڈائرکٹر یونانی ، ڈاکٹر واحد خاں و دیگر موجود تھے ۔ حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے ضمن میں ورلڈ یونانی لیگ مفت طبی کیمپس کا بھی اہتمام کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT