Sunday , February 18 2018
Home / شہر کی خبریں / یونانی علاج نعمت غیر مترقبہ ‘ نوجوان داخلہ لیں

یونانی علاج نعمت غیر مترقبہ ‘ نوجوان داخلہ لیں

 

آرتھو۔ نیرو۔ کان 2017ء انٹرنیشنل کانفرنس کا افتتاح ۔ جسٹس جی چندریا کا خطاب
حیدرآباد ۔ 18 نومبر (سیاست نیوز) جسٹس جی چندریا نے طلباء و نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ یونانی طریقہ علاج پر توجہ مبذول کریں اور اس میں داخلہ لیں۔ اس لئے کہ اطبا، حکماء نے بڑی محنتو و جستجو کے ذریعہ یونانی طریقہ علاج میں تمام بیماریوں کی کھوج کرکے دواؤں کی تیاری میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں ہوٹلس اور گھروں اور دعوتوں میں لذید ڈشیس اور حیدرآباد کی بریانی نے جہاں لطف و ذائقہ پیدا کیا وہیں اس کے استعمال سے بیماریاں بھی جنم لینی شروع کیں۔ نوجوان غذا اور مزہ دونوں کو ترک کریں گے تو وہ صحت کو بہتر بناسکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آج جسٹس جی چندریا آرتھو۔ نیرو۔ کان 2017ء انٹرنیشنل کانفرنس برائے آرتھوپیڈک اینڈ نیورو سائنس کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ یہ دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس ویشویشوریا بھون، خیریت آباد میں جاری ہے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر رئیس الرحمن مشیر یونانی حکومت ہند، ڈاکٹر سید یوسف علی ایڈیشنل ڈائرکٹر یونانی (تلنگانہ)، حکیم محسن ریلوی، ڈاکٹر سید شہاب الدین سابق رکن سی سی آئی ایم نئی دہلی)، ٹی آر ایس قائد پریم سنگھ راٹھور صدرنشین موسیٰ ریور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے شرکت کی۔ واضح رہیکہ کانفرنس میں یونانی میڈیکل اسوسی ایشن اور یونانی طبی کانفرنس کا تعاون ہے۔ جسٹس جی چندریا نے کہاکہ یونانی نظام اور اسکے طریقہ علاج سے کئی انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ آج سماج میں ڈاکٹر کو بڑی اہمیت کی نظروں سے دیکھاجارہا ہے مگر بعض نام نہاد ڈاکٹرس اس پیشہ کو بدنام کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے یونانی طرز علاج کو انسانیت کیلئے نعمت غیرمترقبہ قرار دیا اور کہا کہ اللہ کو وہ لوگ بڑے پسند ہیں جو طب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس مقدس پیشہ کے ذریعہ خدمت خلق انجام دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہیکہ طلباء طبی میدان میں تحقیقاتی امور پر اپنی تعلیم جاری رکھیں۔ یہ کانفرنس حکیم غلام رسول کی دوسری برسی کے موقع پر رکھی گئی پروفیسر رئیس الرحمن مشیر یونانی حکومت ہند نے کہاکہ آج یونانی طریقہ علاج اقطاع عالم میں اپنی شناحت بنا چکا ہے اور 75 فیصد انگریزی طریقہ علاج پر مبنی ادویات یونانی تحقیق کی ہی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں طب کے تین گہوارہ لکھنؤ، دہلی اور حیدرآباد ہیں۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ تحقیقی امور میں دلچسپی پیدا کریں ۔ڈاکٹر میر یوسف علی ایڈیشنل ڈائرکٹر یونانی (تلنگانہ) نے کہا کہ حکومت یونانی میڈیسن کو بڑھاوا دینے بڑی سنجیدہ ہے جس کیلئے انہوں نے تجویز رکھی کہ آرتھوپیڈک سرٹیفکیٹ کورس متعارف کروایا جائے تاکہ طلباء کو معلومات کے ساتھ روزگار کے مواقع مل سکے۔ ڈاکٹر سید شہاب الدین سابق رکن CCIM نیو دہلی نے کہا کہ جو طلباء یونانی طریقہ علاج سے کامیابی حاصل کرکے فارغ ہورہے ہیںوہ اپنے میں اسلامی کردار پیدا کریں اور یونانی ادویات کے ذریعہ طریقہ علاج کو اہمیت دیں۔ ماضی میں حکماء نے تحقیق پر زور دیا اور کامیابی حاصل کی اور کہا کہ جس طرح پرندہ اپنے پروں کو کھول کر اونچائی کی طرف دیکھتا ہے اسی طرح طلباء کو تحقیق کے پروں کو کھولنا چاہئے۔ ڈاکٹر وید پرکاش، حکیم محسن دہلوی اور دیگر نے مخاطب کیا۔ اس موقع پر مہمانان کو ان کی طبی خدمات پر تہنیت پیش کی گئی۔ ڈاکٹر محمد رفیع حیدر شکیب نے کارروائی چلائی۔ حافظ احتشام کی قرأت اور نعت شریف سے پروگرام کا آغاز ہوا۔

TOPPOPULARRECENT