Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / یونان کے مہاجر کیمپ میں افغان خواتین پر جنسی تشدد

یونان کے مہاجر کیمپ میں افغان خواتین پر جنسی تشدد

ایتھنز ،18فروری(سیاست ڈاٹ کام )یونان میں ایک افغان پناہ گزین تنظیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یونانی مہاجر کیمپوں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں میں افغان خواتین بھی شامل ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق یونانی مہاجرین کیمپوں میں جنسی تشدد عام ہے ۔مہاجرین کے بارے میں خبریں فراہم کرنے والے یوروپی ادارے انفو مائیگرینٹس کے مطابق پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم’ دی یونین آف سولیڈیریٹی آف افغان مائیگرینٹس’ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونانی مہاجرین کیمپوں میں مقیم متعدد افغان خواتین کو بھی جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔اس تنظیم کے ایک رکن رضا غلامی کے مطابق مہاجرین ٹینٹوں میں رہ رہے ہیں اور ان کی حفاظتکو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے والا کوئی نہیں۔ غلامی نے انفو مائیگرنٹس کو مزید بتایاکہ 2015ء میں افغان خواتین پر جنسی تشدد کے کئی ایک واقعات سامنے آئے تھے ۔ ایسے دو مہاجر کیمپ جہاں خواتینکی عصمت ریزی کے واقعات زیادہ ہوئے ، بند کر دئیے گئے ہیں۔ افغان خواتین کو نہ صرف افغان مہاجرین نے بلکہ دیگر پناہ گزینوں نے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔”مسئلہ زیادہ سنگین اس لیے بھی ہوا ہے کیونکہ افغان خواتین اپنی عزت کے خیال سے
حکام کو ایسے واقعات کی اطلاع نہیں دیتیں۔ غلامی نے بتایا” 2015 یا 2016 میں ایک شادی شدہ افغان خاتون کو کئی مردوں نے چاقو دکھا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ہم نے اس واقعے کی رپورٹ حکام کو کرنا چاہی لیکن اس خاتون نے اپنی بے عزتی کے خیال سے ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا۔قوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ‘یو این ایچ سی آر’ نے گزشتہ ہفتہ بتایا تھا کہ اسے یونان کے مہاجر کیمپوں میں ایسے چھ سو افراد سے معلومات ملی ہیں جنہیں جنسی یا صنفی امتیاز کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مہاجرین کے لیے کام کرنے والی اس افغان تنظیم نے یونان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ تارکین وطن کے کیمپوں میں گنجائش سے زیادہ افراد نہ رکھے جائیں اور یہاں رہائش کی صورت حال بہتر بنائی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT