Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / یونیفارم سیول کوڈ اور عدلیہ کا رجحان

یونیفارم سیول کوڈ اور عدلیہ کا رجحان

محمد عثمان شہید ۔ ایڈوکیٹ
یونیفارم سیول کوڈ ، یکساں سیول کوڈ یا کامن سیول کوڈ ، آج ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کی بقا کیلئے بلکہ مسلمانوں کے وجود کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے ۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ہندوستان کے کروڑوں مسلمان ان کی سیاسی و غیر سیاسی و مذہبی تنظیمیں یا پھر مسلم قیادت کے دعوے دار ناکام ہوگئے تو پھر مسلمانوں کی شناخت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مٹ جائے گی ۔ کیونکہ مسلمانوں کی شناخت کی بنیاد اسلام ہے ۔
یونیفارم سیول کوڈ ابھی تجاویز کے مرحلے میں ہے ۔ یہ بذات خود کوئی قانون نہیں لیکن ایک ایسے قانون کی تدوین کیلئے راہ ہموار کررہا ہے جس کے تحت ہندوستان کے تمام عائلی مسلم قوانین کو جس کے ماخذ قرآن حدیث فقہ اور اجماع ہیں ، دستور ہند کے آرٹیکل 15 تا 19 کے تحت غیر دستوری قرار دیتے ہوئے ان پر عمل آوری کو تعزیری جرم قرار دیا جائے گا ۔
اسلام قوانین جن کا تعلق نکاح ، طلاق ، وراثت ، ترکہ ، مہر ، وقف اور اس کے علاوہ متبنیٰ کا قانون ہے ، عائلی قوانین کہلائے جاتے ہیں ۔ ان کے مجموعے کا نام مسلم پرسنل لاء ہے، جن کے لئے قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے Shariat Application Act 1937 (قانون  تحفظ مسلم شریعت) مدون کیا گیا ۔

مسلم پرسنل لاء یا شریعت محمدیؐ ، الہی قانون God made Law ہے ۔ یہ Man made Law انسانی ذہن کی اختراع نہیں ۔ پارلیمنٹ یا اسمبلی نے مسلم قوانین کو وضع نہیں کیا ہے ۔ مسلم پرسنل لاء صرف مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے ان ہی کے لئے قابل عمل ہے ۔ ہم کسی غیر مسلم سے بالجبر مطالبہ نہیں کرسکتے نہ اسے مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ مسلم پرسنل لاء  کو تسلیم کرے یا اس کی مطابقت میں زندگی گذارے ، اسی لئے فرمان الہی ہے ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ (تمہارے لئے تمہارا دین میرے لئے میرا دین)
اسی طرح دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو بزور طاقت یا بالجبر مجبور نہیں کرسکتی ہے کہ وہ قرآنی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے انسان کے وضع کردہ قوانین پر عمل کریں ۔ لیکن دنیا کی یہی طاقت بالفرض محال قانون کی شکل میں ہمارے سامنے آئے تو پھر ہمارا لائحہ عمل کیا ہوگا ؟ کیا ہم انسان کے وضع کردہ قانون کو جو ہمیں شریعت محمدیؐ پر عمل کرنے سے روکتا ہے تسلیم کرلیں یا پھر اس کے خلاف آمادہ پیکار ہوجائیں ؟
مسلم پرسنل لاء Codified Law نہیں ہے ۔ تاریخی شواہد سے ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود یا آمد 916 ء سے ثابت ہے لیکن کسی ہندو راجا نے مسلم قوانین میں مداخلت کی کوشش نہیں کی ۔ اسی طرح انگریز بھی ہندوستان میں سربرآرائے سلطنت ہونے کے بعد 1858 سے 1917 تک ایسی کوئی جرأت رندانہ نہیں کی جس کی رو سے مسلمانوں کو ان کے پرسنل لاء پر عمل کرنے سے روک دیا جائے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان ایسی کسی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔ ایسی کوشش ملک میں خانہ جنگی و نراج کو جنم دے گی ۔ جس کا مقابلہ کرنا حکومت کیلئے کارے دارد ثابت ہوگا ۔ اگرچہ کہ ہندوستان میں یونیفارم سیول کوڈ پر سب سے پہلے 1840 میں مباحث شروع ہوچکے تھے ۔
The Lex Loci Report of Oct 1940 کے مطابق اگرچہ کہ ہندوستانیوں کے لئے ان کے دیوانی و فوجداری مقدمات فیصل کرنے کے لئے یکساں سیول کوڈ کی تجویز رکھی گئی تھی اس کے تحت مندرجہ ذیل قوانین ہی وضع کئے گئے ۔
INDIAN PENAL CODE
CIVIL PROCEDURE CODE
CRIMINAL PROCEDURE CODE
INDIAN EVIDENCE ACT
TRANSFER OF PROPERTY ACT
LAW OF CONTRACT
اور اسی قبیل کے دوسرے قوانین ۔ لیکن مسلم پرسنل لاء اور ہندو لاء کو اس کوڈ کے حیطۂ عمل میں شامل نہیں کیا گیا ۔ اس رپورٹ میں صریحاً لکھا گیا تھا کہ ہندوؤں ، مسلمانوں ، پارسیوں ، سکھوں اور دیگر طبقات کے شخصی قوانین کو ہرگز نہ چھیڑا جائے ۔
اس طرح حکومت انگلشیہ نے QUEEN’S 1859 PROCLAMATIONS کے ذریعے اعلان کردیا کہ حکومت انگلشیہ ہندوستانیوں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی جبکہ دیگر Public Laws انگریزوں کے وضع کردہ قوانین کے تحت قابل عمل ہوں گے اور تابع رہیں گے ۔

ہندوستان آزاد ہونے کے بعد دستور ہند کی صورت گری کے مرحلے نے بعض پیچیدہ مسائل کو جنم دیا ۔ جن میں سب سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ تھا یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے خواب کی تعبیر ۔ دستور ساز اسمبلی میں اس مسئلے پر زوردار مباحث ہوئے ۔ ارکان کی اکثریت کا رجحان یہ تھا کہ جدید ہندوستان کی تعمیر کیلئے سماج میں سدھار وقت کی ضررت ہے ۔ اس کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے بیچ ایک ہی قانون کی تشکیل ضروری ہے تاکہ انھیں صحیح معنی میں سماجی انصاف کے ثمرات حاصل ہوں  ۔ بعض قوانین کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے ان میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ لیکن مسلم پرسنل لاء کو ایسی کسی ترمیم کے دائرے سے باہر رکھا گیا ۔ یہ وقت کی مصلحت تھی ۔
ایک طرف آرٹیکل 25 کے تحت دستور ہند نے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گذارنے کی مکمل ضمانت دی ۔ دوسری طرف آرٹیکل44 کی رو سے ریاستی حکومتوں کو رہنمایانہ اصول کے مطابق پابند کیا گیا کہ وہ یکساں سیول کوڈ کے لئے راہ ہموار کریں ۔
آرٹیکل 44 کے تحت یکساں سیول کوڈ کے لئے دروازے کھلے رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ مناسب وقت پر حکومت وقت حالات کے مدنظر یکساں سیول کوڈ مدون کرے گی ۔ تاکہ مرد و زن کے حقوق کے درمیان کوئی امتیاز باقی نہ رہے ۔ آرٹیکل 15 کے تحت مساوات equality کی ضمانت کی تکمیل ایسے ہی قانون کے ذریعے ہوسکتی ہے ، شاید یہی عدالتوں کا رجحان بھی ہے ، کیونکہ مسلم پرسنل لاء آرٹیکل 15 دستور ہند کے تحت دئے گئے مساویانہ برتاؤ کی ضمانت کی نفی کرتا ہے ۔ یہی دفعہ جو شہریوں کے بیچ ذات پات رنگ و نسل و مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا ، مسلم پرسنل لاء کے لئے سم قاتل ثابت ہورہا ہے ۔
ہندوستانی سماج کے بعض ٹھیکیداروں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہے کہ ہندو لاء کے تحت ایک سے زیادہ شادیاں ہندو مرد کیلئے غیر قانونی اور ساتھ ہی ساتھ دفعہ 494 تعزیرات ہند کے تحت مستوجب سزا ہیں لیکن مسلمانوں کیلئے ’’نعمت‘‘ ہے ۔ ہندو لاء کے تحت دوسری بیوی کو ’بیوی‘ تسلیم نہیں کیا جاتا ہے ، نہ اسے بیوی کا status (رتبہ) دیا جاتا ہے ۔ دوسری طرف مسلمان بیویوں کو نہ صرف قانوناً ’بیوی‘ کا status حاصل ہے بلکہ وہ شوہر کی وراثت میں حصہ دار بھی ہیں ۔ آیات 129, 21, 20 سورہ نساء اور آیات 33,7 سورہ نساء ۔

مسلمانوں کو چار شادیوں کی اجازت کو پابند سلاسل کرنے کے لئے 1950ء سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے ۔ خصوصاً آر ایس ایس اور سنگھ پریوار سے وابستہ سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں مسلسل تگ و دو کررہی ہیں کہ ملک میں ’’ایک قانون‘‘ کا نعرہ لگا کر اس ’’امتیازی سلوک‘‘ کو ختم کیا جائے تاکہ بالآخر ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کا وجود ہی منصۂ شہود سے مٹ جائے ۔ اور ہندوستانی مسلمان اللہ کے قانون کے بجائے ’’بندے کے قانون‘‘ کو ماننے پر مجبور ہو کر قرآن اور اسلام سے دور ہوجائیں تاکہ انھیں شدھی کرنے میں آسانی ہوسکے ۔ جیسا کہ اسپین کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا ۔
تعدد ازدواج ہی نہیں بلکہ قرآن کا یہ قانون کہ ماں باپ کی وراثت میں لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصے کا نصف ہو ۔ ایسے افراد کے لئے حلق کا کانٹا بنا ہوا ہے ۔ وہ اس قانون کی بنیاد پر مرد و زن میں عدم مساوات کا نعرہ لگا کر مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کے خواہاں ہیں ۔
انھوں نے مسلم خواتین کو گمراہ کرنا شروع کردیا ہے کہ ایک طرف اسلام ’مساوات‘ کی بات کرتا ہے اور عملی اعتبار سے مرد و زن میں تقسیم متروکہ کے معاملے میں مساویانہ سلوک نہیں کرتا۔
طرفہ تماشہ یہ کہ بعض ڈگری یافتہ افراد نے یہ بھی مطالبہ کیا بلکہ اعتراض کیا کہ جب مسلمان مرد چار شادیاں کرسکتاہے تو مسلم عورت کو ایسی نعمت بیش بہا سے اسلام نے کیوں محروم کردیا ؟
ایک اور زاویے سے بھی مسلم پرسنل لاء پر حملہ کیا جارہا ہے وہ یہ کہ مسلمان کو ایک ہی نشست میں سہ بارہ طلاق دے کربیوی کو اپنی زوجیت سے خارج کردینے کا حق غیر انسانی فعل ہے ۔ ملک کا قانون اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔
علاوہ اور قوانین کے یہی وہ اہم قوانین ہیں جو اغیار کے اعتراضات کے تیروں کا ہدف بنے ہوئے ہیں
ان قوانین کی تائید میں ہم صرف اتنا کہنے اور لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ہم یہ ببانگ دہل کہنے پر بلا خوف تردید کہنے پر تیار ہیں کہ یہ قوانین شرعی قوانین ہیں ۔ ان میں ایک نقطے کی ترمیم یا تبدیلی یا تنسیخ ایک مسلمان کے لئے منظور نہیں ۔ مسلم پرسنل لاء کے تعلق سے عدلیہ کا رجحان بھی ہمارے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے ۔
اسٹیٹ بنام نرسومالی AIR 1952 Bombay 84 کے مقدمے میں ہندوؤں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے روکنے کے لئے بنایا گیا قانون Hindu Bigamous Marriages Act زیر بحث لایا گیا تھا ۔ بمبئی ہائی کورٹ نے اس قانون کو دستور کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے اس کو یکساںسیول کوڈ کی تدوین کی سمت صحیح قدم قرار دیا  اور بلاوجہ مسلمانوں کیلئے ایسی آزادی پر غور کیا گیا جبکہ اس رٹ میں ایسا کوئی اعتراض عدالت کے سامنے نہیں کیا گیا تھا ۔
زہرہ خاتون بنام محمد ابراہیم AIR 1981 SC 1243 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں مسلم مطلقہ خاتون کو نفقہ پانے کا حقدار قرار نہیں دیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے رولنگ دی کہ مطلقہ کو بھی دفعہ 125 فوجداری کے تحت نفقہ پانے کا حق ہے ۔ یہ رولنگ قرآنی احکامات کے مغائر تھی ۔
سرلا مدگل بنام یونین آف انڈیا 1995(3)SCC635 کے مقدمے میں جسٹس کلدیپ سنگھ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی ناکامی پر حکومت ہند پر برس پڑے اور حکومت کے رویے پر سخت تنقید کی ۔ اس مقدمے میں ایک ہندو نے اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلم خاتون سے دوسری شادی رچائی تھی ۔

قانون سرپرستی نابالغ Indian Guardian & Wards ACT کے تحت راجستھان ، الہ آباد ہائی کورٹس کے علاوہ سپریم کورٹ نے علحدہ علحدہ مقدمات میں فیصلے صادر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ملکی قانون اور پرسنل لاء میں تصادم ہو وہاں ملکی قانون کو بالادستی حاصل رہے گی ۔
Where personal laws are in conflict with Law of the Land the later will prevail AIR65RAJ239 AIR85ALL27 AIR72SC2379
اس طرح عدلیہ نے پرسنل لاء کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ۔
رادھا کرشنا لکشمی نارائن بنام سریدھر AIR1960SC1368 کے مقدمے میں انتقال جائیداد کے تعلق سے فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ
The Transfer of property, where the TPACT applies has to be under the provision of that ACT only and Mohammedan Law cannot override the statute.
پھر شاہ بانو بنام احمد خاں 1985 (2) SCC 556 کے مقدمے میں سپریم کورٹ کا وہ تاریخی فیصلہ جس نے مسلم پرسنل لاء کی بنیادیں ہلادی تھیں صریحاً شریعت محمدیؐ کے خلاف تھا ۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں قرآنی آیات کا خود ہی توجیہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے مسلمانوں نے یکسر مسترد کردیا ۔ اس مقدمے میں مطلقہ کو تادم حیات یا تادم نکاح ثانی اپنے شوہر سے نفقے کے حصول کا حقدار قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلہ کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے حکومت ہند نے Muslims woman (Protection of Rights on Divorce) ACT 1986 وضع کیا ۔ لیکن سپریم کورٹ پھر ایک بار شاہ بانو کے مقدمے میں صادر کردہ فیصلہ کو دہراتے ہوئے دانیال لطیفی کے کیس میں پھر مسلم پرسنل لاء پر چوٹ کی بحوالہ 2001 (7) SCC 740
شمیم آراء بنام حکومت یو پی 2002 (7) SCC 518 کے مقدمے میں ایک ہی نشست میں سہ بارہ طلاق پر شدید تنقید کی اور اس کو خلاف قانون قرار دیا ۔
شبانہ بنام عمران خان Criminal appeal 2309/09 کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ پھر مطلقہ سے ہمدردی جتاتے ہوئے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ پر زور دیا ۔
مندرجہ بالا سرلا مدگل کیس میں جسٹس سہائے نے مدھوکشور بنام حکومت بہار 96(5) SCC 125 کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ یکساں سیول کوڈ وقت کی اہم ضرورت ہے ، جس کے لئے حالات میں تبدیلی ضروری ہے ۔ اولگاٹیلس کیس میں سپریم کورٹ نے مینکا گاندھی کے مقدمے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور ہند آرٹیکل 21 ہر فرد کو باوقار اور باعزت زندگی کی ضمانت دیتا ہے لیکن مسلم خاتون کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جارہا ہے ۔ مسلم ویمن ایکٹ 1986 مطلقہ خاتون کو وقف بورڈ یا پھر اسکے سابقہ شوہر کے بجائے اپنے رشتہ داروں سے نفقہ پانے کا حق دیا ہے ، جو سراسر ایک خاتون کی بے عزتی ہے اور اس کے وقار کے منافی ہے ، لہذا اس قانون کو منسوخ کیاجانا چاہئے ۔
پرکاش بنام پھول وتی Civil Appeal No. 7217/2013 کے مقدمے میں جو ہندو فریقین کے مابین تقسیم جائیداد کے مسئلے پر دائر کیا گیا تھا ،سپریم کورٹ نے جنس (gender) کی بنیاد پر غیر مساویانہ سلوک پر اعتراض کیا اور پرسنل لاء پر غیر واجبی حملہ کرتے ہوئے رولنگ دی کہ ایسے غیر مساویانہ سلوک کو ایک مسلم خاتون بنیادی حقوق کے حوالے سے عدالتی کارروائی کرستی ہے ۔
جاوید بنام ہریانہ حکومت 2003 (8) SCC 369 میں عدالت ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے فرمایا کہ تعدد ازدواج پر پابندی نہ لگائی جائے تو یہ غیر اخلاقی فعل ہوگا جیسے ستی کی رسم ختم کی گئی ، ایسے ہی اس غیر سماجی رسم (یعنی ایک سے زیادہ شادی کی اجازت) کو مٹادینا چاہئے ۔ ایک شادی کی حد تک قانونی پابندی (ہندو لاء کے تحت) بلالحاظ مذہب انتہائی واجبی قانون ہے ۔ ایک سے زیادہ شادیوں کی شرعی اجازت اور سہ بارہ طلاق کو عوامی مفاد کے تحت دائر کردہ PIL سپریم کورٹ میں تاحال زیر بحث ہے ۔
شرعی قانون کا ستی جیسی بے رحمانہ انسانی قانون سے تقابل اور اس کو غیر اخلاقی غیر سماجی اور قال تنسیخ سمجھنا الہی قانون میں مداخلت ہے ۔ اس سلسلے میں مسلمانوں سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ شریعت محمدی میں ترمیم یا اس کی تنسیخ برداشت کرنے تیار ہیں ؟ شریعت محمدی کی حفاظت کرنا ہر مسلم مرد و خاتون کا فرض ہے ۔ اگر مسلم پرسنل لاء پر عمل کرنے سے ہمیں قانوناً روک دیا جائے تو ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اپنے دیوانی مقدمات لیکر ہندوستانی عدالتوں سے رجوع نہیں ہوں گے بلکہ اپنے اپنے محلوں میں شرعی عدالتیں قائم کریں گے اور ایسی عدالتیں Arbitration Act کے قانون کے مطابق وجود میں لائی جائیں گی ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

TOPPOPULARRECENT