Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / یونیورسٹیز میں پسماندہ طبقات کیساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے پر زور

یونیورسٹیز میں پسماندہ طبقات کیساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے پر زور

روہت کی خودکشی کا یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار، قومی سمینار سے پروفیسر کودنڈا رام و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔7فروری(سیاست نیوز)حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی بلکہ ہندوستان بھر کی تمام یونیورسٹیز کے حالات نہایت ابتر ہیں بالخصوص تعلیمی اور معاشی پسماندگی کاشکار طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی زندگی اجیرن بنادی جارہی ہے مرکزی ویاستی حکومتو ںکو چاہئے کہ وہ یونیورسٹی میںذات پات کے نام پر معاشی اور تعلیمی پسماندہ طبقات کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو ختم کرنے کے لئے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی ان سفارشات پرعمل آوری کو یقینی بنائے جس میں یو جی سے ایس ایس سی‘ ایس ٹی طلبہ کو خصوصی مراعات پیش کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام نے پروانہ ہال گن فاونڈری میں’’یونیورسٹیز میںسماجی انصاف کو یقینی بنانے اور ذات پات کے نام پرجاری استحصال‘‘ کے عنوان پرمنعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر ہرا گوپال‘ پروفیسر چکرا دھر رائو‘رمیش پٹنائک‘رمیش بجکور‘ بی رمنا کے علاوہ مختلف ریاستوں کے دانشواروں نے بھی اس قومی سمینار سے خطاب کیا۔ پروفیسر کودانڈرام نے کہاکہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم کے خودکشی کے واقعہ کا ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے جس نے ہمیشہ ہی یو جی سی کی سفارشات کو نظراندازکرتے ہوئے دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یوجی سی کی سفارشات سے قبل امبیڈکر اسوسیشن کا قیام عمل میںآیا جس سے ہندوستان بھر کے دلت طلبہ جوڑے اوریونیورسٹیز میں دلت طلبہ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف منظم احتجاج بھی کیا۔ پروفیسر کودنڈارام نے مزیدکہاکہ امبیڈکر اسوسیشن کے احتجاج کے بعد ہی پارلیمنٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی وہ ہندوستا ن بھر کی یونیورسٹیز میںدلت طلبہ کیساتھ جاری زیادتیوں کا جائزہ لیکر ایک رپورٹ تیار کرے اور مذکورہ رپورٹ کی بنیادپر ہی یونیورسٹی گرانٹ کمیشن نے دلت طلبہ کے ساتھ انصاف کاماحول بناتے ہوئے مذکورہ طبقات کے طلبہ کو یونیورسٹیز میں خصوصی مراعات پیش کی ۔پروفیسر کودنڈارام نے مزید کہاکہ یوجی سی کی سفارشات کے بعد ہی ہندوستان بھر کی یونیورسٹیز میں دلت طلبہ کی تعداد میںاضافہ ہوا جو آج تک بھی اپنے وجود کے احساس کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یعقوب میمن کی پھانسی کے خلاف امبیڈکر اسوسیشن نے نہ صرف حیدرآبادسنٹر ل یونیورسٹی بلکہ ملک کی تمام یونیورسٹیز میں ریالی نکالی او رمذکورہ پھانسی کوغیرجمہوری قراردیا کارکنوں نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی امبیڈکر اسوسیشن سے وابستہ طلبہ کے خلاف فیس بک پر نازیبا ریمارکس لکھتے ہوئے امبیڈکر اسوسیشن کی تذلیل کی کوشش کی جس کے بعد ایک تناز عہ پیدا ہوا جو روہت ویمولہ کی خودکشی کا سبب بھی بنا۔ کودنڈارام نے کہاکہ پہلے تو یونیورسٹی نے عدالت میںداخل کردہ اپنی درخواست میںمذکورہ واقعہ معمولی قراردیتے ہوئے مسئلہ کو حل کرنے کا تیقن دیا تھا مگر بعد میںسیاسی دبائو کی وجہہ سے یونیورسٹی نے امبیڈکر اسوسیشن سے وابستہ طلبہ کو برطرف کرتے ہوئے ان کے ساتھ انصافی کی جس میںایک پی ایچ ڈی طالب علم روہت ویمولہ نے اپنے وجود کا احساس دلانے اور امبیڈکر اسوسیشن کے برطرف طلبہ کے ساتھ انصاف کے لئے اپنی جان دیدی۔ کودنڈا رامنے کہاکہ پورے واقعہ میںایچ سی یو انتظامیہ کا رول نہایت مشکوک رہا اور خصوص کر وائس چانسلر اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے روہت ویمولہ جیسے ہونہا ر طالب علم کو خودکشی پر آماد ہ کیا۔کودنڈارام نے کہاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے اپا رائو جیسے وائس چانسلر کو رخصت پر نہیںبلکہ استعفیٰ پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی امور سے خود کوعلیحدہ کرنے کی ضرورت ہے اورکہاکہ دلت طلبہ کے لئے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی فراہم کردہ سفارشات کو ایچ سی یو کے علاوہ ملک کی تمام یونیورسٹیز میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT