Wednesday , August 22 2018
Home / شہر کی خبریں / یونیورسٹیوں میں پروفیسرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات

یونیورسٹیوں میں پروفیسرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات

پی ایچ ڈی داخلوں کوشفاف بنانے 420کروڑ روپئے خرچ کرنے وائس چانسلرس کو ہدایت

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے جون کے اواخر تک یونیورسٹیز میں پروفیسرس کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے پی ایچ ڈی داخلوں کو شفاف بنانے اور مالیاتی سال کے اختتام تک 420 کروڑ روپئے خرچ کرنے کی وائس چانسلر کو ہدایت دی۔ آج وزیر تعلیم و ڈپٹی چیف منسٹر نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے گورنر کے ساتھ وائس چانسلرس کے منعقدہ اجلاس میں جو 10نکاتی ایجنڈہ تیار کیا گیا تھا اس کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔طئے پائے گئے ایجنڈہ کو عملی جامہ پہنانے پر ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے وائس چانسلرس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیز میں معیار تعلیم کو فروغ دینے کیلئے اکیڈیمک شیڈول پر عمل کرنے، پی ایچ ڈی داخلوں کے عمل کو سخت کرتے ہوئے اس میں شفافیت لانے جون کے اواخر تک پروفیسرس وغیرہ کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے یونیورسٹیز کی سہولتوں کیلئے جو 420 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے اس کو مالیاتی سال کے اختتام سے قبل خرچ کرنے کی ہدایت دی۔ یونیورسٹیز اور یونیورسٹیز ملحقہ کالجس میں سی سی کیمرے اور بائیو میٹرک مشینس نصب کرنے کی ہدایت دی۔ یونیورسٹیز کی اراضیات کا تحفظ کرنے کیلئے کمپاونڈس وال تعمیر کرنے اور ڈاکیومنٹیشن کرنے کی بھی ہدایت دی۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ آج کے اجلاس میں 14 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس نے شرکت کی۔ چند ناگزیر وجوہات کے باعث ہیلت یونیورسٹی والے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں 1551 جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹفیکیشن کی عدم اجرائی پر وضاحت طلب کی گئی۔ چند جائیدادوں میں تبدیلی کیلئے وقت لگنے کا وائس چانسلرس نے جواب دیا ہے۔ اجلاس میں جائیدادوں کی تبدیلی کیلئے وائس چانسلرس کو منظوری دی گئی۔ فوری تبدیلی کے ساتھ رول آف ریزرویشن، روسٹر تیار کرتے ہوئے جون کے اواخر تک پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہمارے 6 یونیورسٹیز ہیں اور اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد اضلاع کی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔ وائس چانسلرس نے یونیورسٹیز کے حدود میں بھی تبدیلی لانے کی تجاویز پیش کی ہیں جس سے حکومت نے اتفاق کیا ہے۔ یونیورسٹیز کے تحت سینکڑوں ایکر اراضیات ہیں ان اراضیات کو ناجائز قبضوں سے بچانے کیلئے باونڈری وال تعمیر کرنے اور سوشیل فاریسٹ کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے وائس چانسلرس کو ہدایت دی کہ وہ یونیورسٹیز میں ایکویشن سنٹرس قائم کریں۔ انٹرنیٹ، وائی فائی اور لائبریری ڈیجیٹلائزیشن پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT