Saturday , June 23 2018
Home / ادبی ڈائری / یونیورسٹی آف حیدرآباد میں سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کا انعقاد

یونیورسٹی آف حیدرآباد میں سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کا انعقاد

رپورتاژ : ڈاکٹر عرشیہ جبین

رپورتاژ : ڈاکٹر عرشیہ جبین
شعبہ اردو ، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایک اہم موضوع پر سہ روزہ بین الاقوامی سمینار بعنوان ’’اردو کی نظریاتی تنقید: پس منظر و پیش منظر‘‘ کا کامیاب انعقاد 11تا 13 فروری 2014 کو عمل میں آیا جس میں پاکستان ، انگلستان اور ہندوستان کے لکھنؤ ، دہلی ، کشمیر ، کلکتہ ، بنگلور ، گلبرگہ اور تروپتی سے تشریف لائے ہوئے مہمانوں کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، جامعہ عثمانیہ اور حیدرآباد یونیورسٹی کے اساتذہ نے شرکت کی ۔

اس سمینار کا افتتاحی اجلاس 11 فروری کی صبح ساڑھے دس بجے وائس چانسلر پروفیسر راما کرشنا راما سوامی کے ہاتھوں شمع روشن کرکے ہوا ۔ انچارج ڈین اسکول آف ہیومانیٹیز نے ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اس کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ پروفیسر مظفر علی شہ میری صدر شعبہ اردو ، یونیورسٹی آف حیدرآباد نے تمام مہمانوں اور مندوبین کا جامع تعارف اپنے انفرادی انداز میں پیش کیا ۔ ڈاکٹر عرشیہ جبین نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اردو تنقید کا موجودہ منظر نامہ اس کے مختلف نظریات ، مختلف ناقدین کے نقطہ نظر پر اس سمینار کے ذریعے سمجھنے اور ان پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے مقصد کے تحت اس سمینار کا انعقاد عمل میں لایا جارہاہے اور امید ظاہر کی کہ اس سمینار کے ذریعے اردو کی نظریاتی تنقید کے سلسلے میں بہت سے نئے مباحث اور نئے پہلو سامنے آسکیں گے ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اقبال مرزا (لندن) اور محترمہ عظمی انجم (پاکستان) نے سمینار کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور اس کی کامیابی کے لئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ مہمان اعزازی پروفیسر محمد زماں آزردہ نے بھی اس سمینار کے انعقاد پر شعبہ کے اساتذہ اور صدر شعبہ کو دلی مبارکباد پیش کی ۔ کلیدی خطبہ عصر حاضر کے ممتازو معتبر نقاد پروفیسر شارب ردولوی نے پیش کیا ۔ پروفیسر موصوف نے اپنے خطبے میں حالی سے لیکر عصر حاضر کے تمام نظریات پر بڑے جامع اور مبسوط انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے ان کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف حیدرآباد کے ہاتھوں ریسرچ اسکالر ناہیدہ سلطانہ کی کتاب ’’علی باقر : شخص اور شاعر‘‘ کی رسم رونمائی عمل میں آئی ۔ اپنے صدارتی خطبہ میں وائس چانسلر صاحب نے اس سمینار کی اہمیت کو بتاتے ہوئے ایسے سمیناروں کی ضرورت پر زور دیا اور شعبہ اردو کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کی کامیابی کے لئے دعا کی ۔ شکریہ کا فریضہ پروفیسر رضوانہ معین نے انجام دیا اور نظامت شعبہ کی ریسرچ اسکالر ناہیدہ سلطانہ نے انجام دی ۔ اس طرح بڑی کامیابی سے افتتاحی اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔

سمینار کا پہلا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد دوپہر ساڑھے بارہ بجے جناب اقبال مرزا (لندن) کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ پہلا مقالہ اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی آف فارن لینگجویجز کی محترمہ عظمی نے ہئیتی، ساختیاتی اور پس ساختیاتی تنقید پر دریدا اور دیگر مغربی مفکرین کے حوالے سے نظریات پیش کرتے ہوئے اپنی بات پیش کی ۔ دوسرا مقالہ پروفیسر ن م سعید نے بعنوان اردو تنقید کے ابتدائی نقوش پیش کیا جس میں انھوں نے دکنی ادب خاص طور پر وجہی کے کلام سے مثالیں پیش کرتے ہوئے اردو تنقید کے ابتدائی نقوش کی نشاندہی کی ۔ پروفیسر محمد علی اثر کا مقالہ شعبہ اردو کی ایک ریسرچ اسکالر شبانہ انجم نے پیش کیا ۔ انھوں نے باقر آگاہ کے تنقیدی نظریات کے حوالے سے اردو تنقید کے ابتدائی نقوش کا بڑی تفصیل سے مدلل انداز میں جائزہ لیا ۔
دوسرا اجلاس دوپہر 2:30 منٹ پر شروع ہوا ۔ اس میں پہلا مقالہ تروپتی یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر ستار ساحر نے مجنوں گورکھپوری کے نظریات پر بحث کرتے ہوئے جمالیات سے مارکسی تنقید کی طرف رجوع ہونے اور زمانے کا اثر قبول کرنے کی بات بتائی ۔ ڈاکٹر محمد کاشف ، حیدرآباد یونیورسٹی کے استاد نے آل احمد سرور کے تنقیدی نظریات اور تصورات کی وضاحت کی ۔ پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر محمد اختر نے حامدی کاشمیری کی نظریاتی تنقید کا جائزہ پیش کیا ۔
اسی روز تقریباً 6:30 بجے ’’شام افسانہ‘‘ کے عنوان سے ایک محفل آراستہ کی گئی جس کی صدارت پدم شری جیلانی بانو نے کی ۔ محترمہ قمر جمالی ، فریدہ زین ، محمد حامد ، یسین احمد ، محمود شاہ اور شبینہ فرشوری نے افسانے پیش کئے ۔اس کے بعد جیلانی بانو نے اپنے صدارتی تقریر میں اردو افسانہ نگاری کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے افسانے میں عورت کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی ۔

سمینار کا دوسرا اجلاس دوسرے دن 12 فروری کو 10:30 بجے شروع ہوا ۔ اس اجلاس میں گلبرگہ یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر حمید سہروردی نے ’’حالی کی معنویت‘‘ کے عنوان سے حالی کے تنقیدی نظریات کو بڑے جامع انداز میں پیش کیا ۔ ڈاکٹر حبیب نثار ، اسوسی ایٹ پروفیسریونیورسٹی آف حیدرآباد نے مغنی تبسم کے نظریات اور ان کی خدمات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ۔ ڈاکٹر پرویز احمد اعظمی ، اسسٹنٹ پروفیسر سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے ’’شبلی کے تنقیدی تصورات کا شعر العجم ، مقالات شبلی اور موازنہ انیس ودبیر کی روشنی میں جائزہ لیا ۔ ڈاکٹر مسرت جہاں اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے قمر رئیس کے نظریات و تصورات کو مارکسی تنقید کے حوالے سے پیش کرتے ہوئے ان کے نظریات تنقید پر روشنی ڈالی ۔ ڈاکٹر اقبال بیگم اسوسی ایٹ پروفیسر بنگلور یونیورسٹی کا مقالہ ریسرچ اسکالر سلمی سلطانہ نے پیش کیا ۔اس میں انھوں نے احتشام حسین کے تنقیدی نظریات کا جامع انداز میں جائزہ لیا ۔ ریسرچ اسکالر بلال احمد میر نے ’’شمس الرحمن کی نظریاتی تنقید‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ۔ چائے کے وقفہ کے بعد تقریباً پانچ مقالے پیش کئے گئے ، جن میں پہلا مقالہ ڈاکٹر اسمعیل خان اسسٹنٹ پروفیسر انوارالعلوم ڈگری کالج حیدرآباد نے بعنوان محمد حسن کی نظریاتی تنقید پیش کیا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر عرشیہ جبین اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نے ’’شارب ردولوی کی نظریاتی تنقید‘‘ پر بحث کرتے ہوئے ان کے فکر و تصورات پر روشنی ڈالی اور ان کے سائنٹفک اپروچ اور نظریہ کی وضاحت کی ۔ ریسرچ اسکالر ڈاکٹر واجدہ بیگم نے پروفیسر شمیم حنفی کے نظریاتی تنقید پر مبسوط اور مدلل مقالہ پیش کیا ۔نجمہ بیگم نے گوپی چند نارنگ کے نظریات کا مابعد جدید رجحانات کی روشنی میں جائزہ لیا ۔ پروفیسر انور الدین نے سمینار کی کوارڈینیٹر ڈاکٹر عرشیہ جبین کو ان کے پہلے سمینار پر مبارکباد دی اور ان کی تنظیمی صلاحیتوں کو سراہا اور تمام مقالوں پر بڑی تفصیل سے تبصرہ پیش کیا ۔ اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر محمد زماں آزردہ نے اس سمینار کی خاص خوبی یہ بتائی کہ ’’ریسرچ اسکالرس نے بڑی جرات سے ان موضوعات پر قلم اٹھایا اور مدلل انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

وقفہ طعام کے بعد دوپہر 2:30 بجے چوتھا اجلاس شروع ہوا ۔ ’’اردو کی نظریاتی تنقید: پس منظر‘‘ کے عنوان سے پروفیسر یوسف سرمست کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اس اجلاس میں اردو ادب کے ابتدائی نظریات پر بحث کی گئی ۔ اس میں پہلا مقالہ ڈاکٹر شیخ سلیم ، صدر شعبہ اردو ، انوارالعلوم ڈگری کالج ، حیدرآباد نے بعنوان ’’تاثراتی و جمالیاتی نظریہ تنقید‘‘پیش کیا ۔ دوسرا مقالہ کلکتہ سے تشریف لائی ہوئیں اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نصرت جہاں نے ’’نفسیاتی نظریہ تنقید: رد و قبول کی میزان پر‘‘ کے عنوان سے بڑے جامع اور مدلل انداز میں پیش کیا ۔ تیسرا مقالہ محترمہ ناہیدہ سلطانہ ریسرچ اسکالر نے ’’مارکسی نظریہ تنقید‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ۔ پی یچ ڈی ریسرچ اسکالر سراج احمد نے ’’وزیر آغا کے تنقیدی نظریات‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کرکے تعریفیں بٹوریں ۔ ڈاکٹر عبدالرب منظر اسسٹنٹ پروفیسر نے احتشام حسین کے تنقیدی نظریات پر جامع مقالہ پیش کیا ۔ آخر میں نور عالم پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر نے سائنٹفک نظریہ تنقید کی تعریف پیش کرتے ہوئے اردو ادب کے ناقدین کے حوالے سے اس نظریہ کو واضح انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ۔ اس اجلاس کے اختتام پر صدارتی کلمات سے نوازتے ہوئے پروفیسر یوسف سرمست نے تمام مقالوں پر تفصیلی تبصرہ کیا ۔ اس اجلاس کے بعد شام 6:30 بجے ایک بین الاقوامی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جس میں ملک و بیرون ملک سے تشریف لائے ہوئے اساتذہ ، شعبہ اردو کے ریسرچ اسکالرز اور حیدرآباد ، کڑپہ اور کدری کے نمائندہ شعراء نے شرکت کی ۔ اس کی صدارت لندن سے تشریف لائے ہوئے مشہور شاعر و ادیب اقبال مرزا نے کی اور نظامت پروفیسر ستار ساحر نے کی ۔

تیسرے روز سمینار کا چوتھا اجلاس بعنوان ’’اردو کی نظریاتی تنقید: پیش منظر‘‘ کے تحت رہا جس میں عصر حاضر کے بعض اہم تنقیدی نظریات پر گفتگو ہوئی ۔ اس اجلاس کا پہلا مقالہ پروفیسر خالد سعید کا تھا انھوں نے Power point Presentation کے ذریعہ ادبی متن کا ہئیتی مطالعہ کے عنوان سے بڑا مبسوط اور پرمغز مقالہ پیش کیا ۔ ڈاکٹر رئیسہ فاطمہ نے اسلوبیاتی نظریہ تنقید کا جامع انداز میں جائزہ لینے کی کوشش کی ۔ تیسرا مقالہ پروفیسر عتیق اللہ کا بعنوان ’’ساختیات اور پس ساختیات نظریہ تنقید‘‘ تھا جس میں انھوں نے ریسرچ اسکالر کے لئے بڑی آسان زبان اور واضح انداز میں ان نظریات کو اردو ادب کے حوالے سے پیش کرنے کی سعی کی ہے ۔ اس کے بعد پروفیسر محمد زماں آزردہ نے قاری اساس نظریہ تنقید پر بحث کرتے ہوئے بڑی عمدہ مثالوں کے ذریعہ اس نظریہ کو سمجھانے اور اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ۔ نئی تاریخیت اور نئی مارکسیت کے عنوان سے ڈاکٹر کہکشاں لطیف اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اپنا مقالہ جامع انداز میں پیش کیا ۔ چائے کے وقفہ کے بعد تانیثی نظریہ تنقید پر ڈاکٹر آمنہ تحسین نے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ ڈاکٹر آصف زہری ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے بعنوان پس نوآبادیاتی نظریہ تنقید پر بحث کرتے ہوئے بڑی عمدہ مثالوں کے ذریعہ اس نظریہ کی وضاحت کی ۔ امتزاجی نظریہ تنقید پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرشمس الہدی دریابادی نے اپنا مقالہ ’’امتزاجی نظریہ تنقید‘‘ کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے اردو ادب کے حوالے سے اس کی وضاحت کی کوشش کی ۔ ڈاکٹر نسیم الدین فریس ، سابق صدر شعبہ اردو مولانا آزاد یونیورسٹی نے ’’اکتثافی نظریہ تنقید پر مدلل انداز میں اپنے خیالات پیش کئے ۔ آخر میں جے محمد شفیع نے اپنا مقالہ بعنوان تخلیقی تنقید پیش کرکے داد تحسین حاصل کی ۔

وقفہ طعام کے بعد اختتامی اجلاس عمل میں آیا ۔ اس کی صدارت پروفیسر شارب ردولوی نے انجام دی اور اس میں مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر محمد عتیق اللہ ، پروفیسر زماں آزردہ ، پروفیسر حمید سہروردی ، پروفیسر محمد ظفر الدین اور ڈاکٹر محمد نسیم الدین فریس نے اپنے خیالات پیش کئے ۔ صدر شعبہ پروفیسر مظفر شہ میری نے اس سمینار کے لئے شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ کو مبارکباد دی ۔ صدارتی خطبہ میں ممتاز نقاد پروفیسر شارب ردولوی نے اس سمینار کی کامیابی پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف حیدرآباد اور انچارج ڈین آف اسکول آف ہیومانیٹیز اور شعبہ اردو کے اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کو ایک اہم اور تاریخ ساز سمینار قرار دیا ۔ آخر میں سمینار کی کوارڈینیٹر نے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں ، مہمانوں ، صدور اور طلبہ و ریسرچ اسکالرز کا شکریہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT