Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / یونیورسٹی آف ٹیکساس امریکہ میں اُردو کو فروغ

یونیورسٹی آف ٹیکساس امریکہ میں اُردو کو فروغ

اُردو شاعری و ادب میں دلچسپی، ڈاکٹر سید اکبر حیدر کا بیان
حیدرآباد 21 فروری (سیاست نیوز) اُردو زبان مغربی ممالک میں بھی تیزی سے فروغ حاصل کررہی ہے۔ اُردو زبان کی چاشنی امریکی یونیورسٹی ’’یونیورسٹی آف ٹیکساس‘‘ میں تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد کا دورہ کرنے والے امریکی طلبہ نے جو اُردو زبان کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، بتایا کہ اُردو زبان سے اُن کی وابستگی زبان کی تاثیر کے سبب ہوئی ہے اور وہ اِس زبان میں مہارت حاصل کرنے کے لئے اُردو زبان سیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر سید اکبر حیدر کے ہمراہ حیدرآباد کا دورہ کرنے والے ٹیمی فام ، لارینس واکر اور روشان ٹیلکاٹ نے بتایا کہ امریکہ میں اُردو کے ساتھ ترقی کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اِس کے باوجود زبان کی اہمیت کی وجہ سے اُنھیں اُردو سے کافی دلچسپی ہے۔ ابتداء سے ہی علیحدہ زبانوں کو سیکھنے کے شوق نے اِن طلبہ کو اُردو کی جانب راغب کیا ہے جو نہ صرف اُردو بول رہے ہیں بلکہ لکھنا اور پڑھنا بھی سیکھ چکے ہیں۔ ان طلبہ نے بتایا کہ اُن کی دلچسپی نہ صرف اُردو شاعری کی حد تک محدود ہے بلکہ وہ اُردو کو اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جناب سید اکبر حیدر نے بتایا کہ مغربی ممالک میں اردو کو جس طرح سے پذیرائی حاصل ہورہی ہے اُسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُردو زبان کا مستقبل روشن ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لوگ اُردو زبان کی چاشنی سے آشنا ہونے لگے ہیں۔ جو لوگ میرؔ، غالبؔ، کیفیؔ کو سنتے ہیں اُنھیں اُردو زبان سیکھنے کا ذوق پیدا ہوتا ہے۔ اکبر حیدر نے کہاکہ امریکی یونیورسٹیوں میں اُردو کی تعلیم حاصل کررہے طلبہ میں بھی اِس بات کو محسوس کیا جارہا ہے کہ یہ زبان نہ صرف چاشنی رکھتی ہے بلکہ نفرتوں کے خاتمہ میں بھی شاعری کے ذریعہ اہم رول ادا کرتی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ مغربی ممالک میں اُردو سیکھ رہے طلبہ و طالبات کے علاوہ اُردو کے فروغ کی کوشش کرنے والوں کو ہمیشہ ہی ہند ۔ پاک کے اُردو داں طبقہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہر وقت ہندوستانی کالم نگار، شعراء، افسانہ نویس مغربی ممالک میں اُردو سیکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ سید اکبر حیدر نے بتایا کہ طلبہ سے اُردو کا تعلق صرف شعر و شاعری کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ مغربی ممالک میں اردو سیکھنے والے طلبہ فیضؔ، منٹوؔ کے علاوہ مزاحیہ ادب بھی پڑھا کرتے ہیں جس میں اُنھیں جعفرؔ، دلاور فگارؔ اور مجتبیٰ حسین جیسی شخصیات کو پڑھایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے شعبہ اردو میں میرؔ، انیسؔ پر کلاس ہوتی ہے جس سے اِس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُردو کو کس قدر اہمیت حاصل ہورہی ہے۔ جناب سید اکبر کے ہمراہ حیدرآباد کا دورہ کرنے والے طلبہ کے بموجب وہ اُردو سیکھنے کی حد تک خود کو محدود رکھنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اُردو ادب میں تقابلی جائزہ جیسے عنوانات پر خدمات انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اِن طلبہ کے بموجب زبان کا رشتہ ہندی، عربی اور فارسی سے ہونے کے سبب وہ اُردو کے ذریعہ دیگر کئی زبانوں پر عبور حاصل کرنے کے متحمل بن رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT