Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / یونیورسٹی سلیکان ویلی میں داخلہ پانے والے طلبہ میں تشویش کی لہر

یونیورسٹی سلیکان ویلی میں داخلہ پانے والے طلبہ میں تشویش کی لہر

اوورسیز اسکیم اسکالر شپس کے تحت مشتبہ یونیورسٹی میں داخلہ ، حکومت امریکہ کی وضاحت کا انتظار
حیدرآباد 23 ڈسمبر (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے توسط سے اوورسیز اسکالرشپس حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہونے والے طلبہ میں 17 نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والوں کی ہے جس کے متعلق کئی شبہات پیدا ہوچکے ہیں۔ اسی طرح 7 ایسے طلبہ ہیں جوکہ ایک اور مشتبہ یونیورسٹی سلیکان ویلی میں داخلہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایر انڈیا نے اِن یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو سفر کی اجازت نہ دیتے ہوئے اس مسئلہ کو منظر عام پر لایا تھا جس کے بعد اِن یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اوورسیز اسکالرشپس کے ذریعہ تعلیمی امداد حاصل کرتے ہوئے اِن یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ اپنے مستقبل کے متعلق متفکر ہوچکے ہیں۔ چونکہ وہ نہ صرف تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ اُنھیں حکومت کی جانب سے اسکالرشپس بھی منظور ہوچکی ہیں۔ لیکن تاحال یونیورسٹی کے متعلق اٹھائے گئے مسئلہ پر محکمہ کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آج امریکی قونصل خانہ متعینہ حیدرآباد کے اعلیٰ عہدیداروں کے ایک وفد نے محکمہ اقلیتی بہبود کے ایک ذمہ دار عہدیدار سے ملاقات کی اور مذکورہ یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کے سلسلہ میں مشاورت کی گئی۔ مشاورتی عمل کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے حقیقی صورتحال سے آگہی حاصل کرنے کی کوشش کی جس پر قونصل خانہ کے ذمہ داروں نے غیر سرکاری طور پر اُنھیں بعض مشورے دیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹیز کے داخلوں کے عمل میں کچھ کوتاہیاں ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹیز کے متعلق اس طرح کی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں۔ مرکزی وزارت خارجہ نے آج جاری کردہ ایک اڈوائزری میں مذکورہ یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال اپنے سفر کو موخر رکھیں کیوں کہ مرکزی حکومت نے امریکی حکومت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اس مسئلہ پر وضاحت طلب کی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد مسئلہ کا حل نکال لیا جائے گا۔ مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اڈوائزری میں اس بات کا بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ طلبہ جو امریکہ تعلیمی اداروں میں حصول علم کے خواہشمند ہیں وہ تمام دستاویزات کے ساتھ ساتھ ضروری انتظامات بھی کریں تاکہ اُنھیں کسی قسم کی دشواریاں پیش نہ آئیں۔ اڈوائزری میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ جن دو تعلیمی اداروں کا تذکرہ کیا جارہا ہے اُن کے متعلق حکومت امریکہ کی وضاحت موصول ہونے کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود پر بھی اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اوورسیز اسکالرشپس کے لئے منتخبہ داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کے مسئلہ کو فی الفور حل کرنے کے اقدامات کا آغاز کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے فوری طور پر اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنک یونیورسٹی، سلیکان ویلی یونیورسٹی کے جملہ 24 طلبہ کی اسکالرشپس کی رقومات روک دی جائیں۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کررہے طلبہ کو ہونے والی پریشانیوں سے انھیں محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سابق میں ٹرائی ویلی یونیورسٹی کے اچانک بند ہونے کے بعد طلبہ کو دیگر یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اسی طرح کسی بھی قسم کے خدشات کی صورت میں طلبہ کو یہ موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ گزشتہ یوم اتحاد ایرویز کی جانب سے بھی کیلی فورنیا کی اِن یونیورسٹیز میں داخلہ کے لئے سفر کرنے والے طلبہ کو سفر سے روک دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایرلائنز کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی امریکی ایمگریشن عہدیداروں کی جانب سے پہونچنے والے طلبہ کو واپس کئے جانے کے بعد تیز کردی گئی ہیں جس کی بنیادی وجہ واپسی کا ٹکٹ نہ ہونے کے باوجود بھی کسی ملک میں داخلہ کی اجازت نہ دیئے جانے کی صورت میں جس پرواز سے مسافر پہونچتا ہے اُسی پرواز سے مسافر کو واپس روانہ کردیا جاتا ہے خواہ اُس کے پاس واپسی کا ٹکٹ ہو یا نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT