Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / یونیورسٹی میں آر ایس ایس نظریات مسلط کرنے کی کوشش

یونیورسٹی میں آر ایس ایس نظریات مسلط کرنے کی کوشش

احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ، وائس چانسلر اَپا راؤ کو سیاسی تائید

حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں جاری تنازعہ آخر ہے کیا؟ اِس سلسلہ میں بہت کم لوگ واقف ہیں کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ایسا کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے طلبہ اِس قدر برہم ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ بالخصوص وائس چانسلر کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں؟ 17 جنوری کو روہت ویمولہ کی موت کے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ روہت نے اپنے کمرے میں پھانسی لیتے ہوئے خودکشی کرلی تھی اور جو مکتوب روہت نے تحریر کیا تھا اُس میں اِس بات کی شکایت کی تھی کہ وہ دلت ہونے کے سبب ہراسانی کا شکار ہے اور اِس ملک میں پچھڑے طبقے سے تعلق رکھنا اُسے جرم محسوس ہونے لگا ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف حیدرآباد پروفیسر پی اپا راؤ کی شخصیت کے متعلق متضاد رائے پائی جاتی ہے، وہ ایک مائیکرو بیالوجی کے پروفیسر ہیں اور اُن کے نظریات کچھ حد تک ایسے ہیں جنھیں  عام ہندوستانی پسند نہیں کرتا۔ اُن پر ذات پات اور بھید بھاؤ کے الزامات طلبہ کی جانب سے لگائے گئے ہیں لیکن بعض طلبہ ایسے بھی ہیں جو اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اخبارات میں جو اطلاعات شائع ہورہی ہیں، اِن کے مطابق پروفیسر پی اپا راؤ وائس چانسلر یونیورسٹی کو زبردست سیاسی حمایت حاصل ہے اور ماضی میں بھی اُنھیں زبردست سیاسی حمایت حاصل رہی ہے۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد کیونکر مرکزی حکومت کے نشانہ پر ہے یہ بات واضح طور پر نہیں کہی جاسکتی لیکن یہ ضرور ہے کہ کسی حد تک یونیورسٹی پر آر ایس ایس کے نظریات بادل بن کر منڈلا رہے ہیں اور یونیورسٹی میں بالواسطہ طور پر زعفرانی ذہنیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے سترہویں کانوکیشن کے موقع پر جو طلبہ ڈگری حاصل کررہے تھے اُن کے لئے جو ڈریس کوڈ لگایا گیا تھا اُس پر بھی تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے والے طلباء کے لئے کرتا پاجامہ یا دھوتی کرتا پہننے کا لزوم عائد کیا گیا تھا جبکہ طالبات کے لئے شلوار قمیص یا ساڑی کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ کئی طلبہ نے اِس فیصلہ کے خلاف بھی زبردست احتجاج کرتے ہوئے کانوکیشن کا بائیکاٹ کرنے کا انتباہ دیا تھا اور اُس کے بعد سے بتدریج حالات تبدیل ہوتے گئے جوکہ  17 جنوری کو روہت ویمولہ کی موت کے بعد شدت اختیار کرگئے۔ روہت کی موت کے فوری بعد آخری رسومات کی انجام دہی پر بھی طلبہ میں شبہات پائے جاتے ہیں اور طلبہ متعدد مرتبہ یہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ موجودہ وائس چانسلر کے رویہ کے سبب روہت کی موت واقع ہوئی ہے اور روہت کی موت کے بعد پروفیسر اپا راؤ پر ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج ہوچکا ہے لیکن اُنھیں حاصل سیاسی پشت پناہی کے سبب وہ طویل رخصت کے بعد کنہیا کے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے دورہ سے ایک دن قبل اپنے عہدہ پر واپس ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر یونیورسٹی کے حالات کشیدہ ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT