Wednesday , December 13 2017
Home / سیاسیات / یوپی اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلہ کی مہم کا اختتام

یوپی اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلہ کی مہم کا اختتام

پارلیمانی حلقہ وارانسی سمیت 7 اضلاع کی 40 نشستوں کیلئے کل ووٹ ڈالے جائیں گے
لکھنؤ6مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی الیکشن کے ساتویں اور آخری مرحلے میں وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی سمیت سات اضلاع کی 40 اسمبلی نشستوں میں سیاسی پارٹیوں کی طوفانی انتخابی مہم آج شام تھم گئی۔ اس مرحلے میں غازی پور، وارانسی ، چنداولی، مرزا پور، بھدوہی، سون بھدر اور جونپور سے ’کرو یا مرو‘ کی طرز پر سیاسی جماعتوں نے مہم چلائی۔ وزیراعظم نریندر مودی خود تین دنوں تک یہاں کیمپ کئے رہے ۔ ان اضلاع میں 8 مارچ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ آخری مرحلے کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود وزیراعظم مودی وارانسی میں ڈٹے رہے ۔ انہوں نے روڈ شو کیا۔ لوگوں سے ملاقات کی اور جلسے کئے ۔ مودی نے بابا وشواناتھ اور کاشی کے کوتوال کہلانے والے بھیروناتھ کے درشن کئے۔ اس کے بعداکھلیش یادو نے اپنی اہلیہ ڈمپل یادو کے ساتھ بابا وشوا ناتھ کے درشن کئے ۔ بابا وشواناتھ کے آشیرواد لینے والوں میں کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی بھی شامل تھے ۔سماج واد ی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے بھی اس مرحلے میں جونپور میں ایک جلسہ کیا۔ انہوں نے پلہنی سے سماج وادی پارتی کے امیدوار پارس ناتھ یادو کی حمایت میں جلسہ سے خطاب کیا ۔ اس سے قبل ملائم سنگھ نے تیسرے مرحلے کی پولنگ میں جسونت نگر میں اپنے بھائی شیو پال یادو اور لکھنؤ کینٹ سے الیکشن لڑنے والی چھوٹی بہو اپرنا یادو کی حمایت میں جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ دریں اثنا سماج وادی پارٹی کے سربراہ وزیر اعلی اکھلیش یادو اور انکی اتحادی کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے گزشتہ 4 مارچ کو مشترکہ طور پر روڈ شو کیا۔ روڈ شو میں اکھلیش کی اہلیہ ڈمپل یادو بھی شامل ہوئیں۔ مشرقی اترپردیش کو تمام پارٹیاں حکومت بنانے کا دروازہ سمجھ رہی ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کی نگاہ خاص طور پر مسلم ووٹروں پر رہی۔انہیں یقین ہے کہ ریاست کے مشرقی حصے کا مسلمان بی ایس پی کے حق میں ووٹ دے گا۔ انہیں ممبر اسمبلی مختار انصاری کے کنبہ سے کافی امید ہے ۔غازی پور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں انصاری کا ایک خاص فرقہ پر کافی اثر ہے۔ بی جے پی کے چوٹی کے رہنما اور مرکزی وزراء وارانسی میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر انتخابی مہم میں کافی زور شور رہا۔وارانسی میں آر ایس ایس کے کیڈر نے بھی بی جے پی کے حق میں خاموشی سے کام کیا ہے۔ جبکہ ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کے لئے غیر سیاسی والینٹرس سارے شہر میں سرگرم نظر آئے۔

TOPPOPULARRECENT