Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / یوپی اسمبلی میں خطرناک دھماکہ خیز مواد دستیاب، این آئی اے تحقیقات کا حکم

یوپی اسمبلی میں خطرناک دھماکہ خیز مواد دستیاب، این آئی اے تحقیقات کا حکم

سکیورٹی میں بدترین کوتاہی، یوگی ادتیہ ناتھ کا اظہار تشویش، دہشت گردی کی خطرناک سازش بے نقاب کرنے پر زور، اسٹاف کی پولیس جانچ کی ہدایت
لکھنؤ 14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں سکیورٹی میں سنگین کوتاہی کے ایک واقعہ میں ریاستی اسمبلی سے خطرناک پلاسٹک دھماکو اشیاء برآمد ہوئیں۔ چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے ایوان میں اس کا اعلان کیا اور تمام ارکان نے اس واقعہ کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کی متفقہ سفارش کی۔ چیف منسٹر جنھوں نے قبل ازیں سکیورٹی پر ہنگامی اجلاس کی صدارت کی تھی، جیسے ہی آج صبح کارروائی شروع ہوئی ایوان میں اعلان کیاکہ اپوزیشن لیڈر رام گوئند چودھری کی نشست کے قریب سفید پاؤڈر دستیاب ہوا جو پلاسٹک میں لپٹا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ صفائی عملہ کو یہ دھماکو مواد 12 جولائی کو دستیاب ہوا تھا جس کو بغرض معائنہ فارنسک لیاب بھیجا گیا تھا جس سے پتہ چلا کہ یہ خطرناک پی ای ٹی این (پنٹا ریتھرائیول ٹٹرانائٹریٹ) ہے۔ ڈاگ اسکواڈ اس دھماکو مواد کا پتہ چلانے میں ناکام ہوگیا تھا۔

چیف منسٹر نے مزید کہاکہ ابتداء میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہ کوئی پاؤڈر یا کیمیائی مادہ ہے لیکن فارنسک جانچ کے بعد پتہ چلا کہ یہ انتہائی اعلیٰ معیاری ہیگزوجین اور پلاسٹک دھماکو مواد ہے۔ اسمبلی میں دستیاب دھماکو مواد کی مقدار 150 گرام تھی اور ماہرین کے مطابق 500 گرام دھماکو مواد سارے ایوان کو اُڑانے کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہاکہ ’’ایوان کی سلامتی پر ہمیں تشویش ہے۔ یہ ایک خطرناک دہشت گرد سازش ہے جس کو بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ ریاستی حکومت اس واقعہ کی این آئی اے تحقیقات چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں ودھان بھون (ایوان مقننہ) میں کام کرنے والے ملازمین اور عہدیداروں کے بارے میں پولیس کے ذریعہ توثیق چاہتی ہے‘‘۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سکیورٹی پر کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی، چیف منسٹر نے کہاکہ اس کو یقینی بنانے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’یہ ایک خطرناک رجحان ہے کہ اسمبلی کی سکیورٹی میں ایک ایسے وقت کوتاہی ہوئی ہے جبکہ ایوان کا اجلاس جاری ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ محض مذمت کرنے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔

اس دوران اسپیکر نے کہاکہ ’’ہم تمام اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے برآمد شدہ دھماکو اشیاء کے ضمن میں این آئی اے تحقیقات کروائی جائیں۔ چیف منسٹر نے یہ بھی کہاکہ ’’ارکان اسمبلی اور مارشلوں کے سواء دوسروں کو ایوان میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے کیوں کہ یہ معاملہ کافی سنگین ہوگیا ہے جو ریاست کے 22 کروڑ عوام کے جذبات سے تعلق رکھتا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہاکہ اسمبلی ارکان کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی اسمبلی ہے اور ہم 503 ارکان مقننہ کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ اپوزیشن لیڈر گوئیند چودھری نے چیف منسٹر کی طرف سے معلنہ سخت سکیورٹی اقدامات سے اتفاق کیا۔ بہوجن سماج پارٹی کے رکن اوما شنکر سنگھ نے کہاکہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ جامرس رہنے کے باوجود ایوان میں موبائیل فون کی گھنٹیاں بجا کرتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT