Wednesday , December 12 2018

یوپی اسمبلی میں وقفہ سوالات شور و غل کی نذر، کارروائی ملتوی

لکھنؤ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) یوپی اسمبلی میں وقفہ سوالات آج دوسرے دن اپوزیشن سماج وادی پارٹی کی جانب سے برقی شرح میں اضافہ کے مسئلہ پر شدید تنقیدوں کے درمیان منعقد نہیں کیا جاسکا۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھپ نے ایوان میں شوروغل کے لئے اپوزیشن پر سخت نکتہ چینی میں کہاکہ یہ ایوان کے 350 ارکان کے مفاد پر حملے کے مترادف ہے۔ وزیر برقی شریکانت شرما نے اپوزیشن پر تنقید میں کانگریس اور ایس پی کو ترقی کے خلاف زہر آلود زہریلی پارٹیاں قرار دیا۔ صبح میں جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن کے لیڈر رام گووند چودھری نے یہ مسئلہ اُٹھایا اور برقی شرحوں میں اضافہ کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اِس سے سماج کے ہر گوشے پر بوجھ پڑا ہے۔ چودھری کی تائید میں جلد ہی دیگر اپوزیشن ارکان بھی آگے آئے اور ایوان میں شوروغل کا ماحول برپا ہوگیا۔ اسپیکر ہردے نرائن ڈکشٹ نے مشتعل ارکان سے اپیل کی کہ دن کے مقررہ کام کو پہلے نمٹانے کا موقع دیں اور اپنے مسائل وقفہ صفر کے دوران اُٹھائیں۔ تاہم مشتعل ارکان خاموش نہیں ہوئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہونچ گئے۔ اسپیکر اُن سے اپنی نشستوں پر واپس ہونے کی اپیل کرتے رہے لیکن اُن کی درخواست سنی اَن سُنی کردی گئی۔ چودھری نے مطالبہ کیاکہ کرسیٔ صدارت پہلے اس معاملے سے نمٹے کیوں کہ اِس فیصلہ سے عام آدمی پر مضر اثر پڑا ہے۔ ڈکشٹ نے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لئے ملتوی کی لیکن مزید 15 منٹ کی توسیع کی اور پھر وقفہ صفر تک آگے بڑھادیا۔ ایوان جب دوبارہ مجتمع ہوا تب صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور پھر سے گڑبڑ ہونے لگی جس پر کرسیٔ صدارت نے کارروائیوں کو دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔ شوروغل کے درمیان وزیر پارلیمانی اُمور سریش کھنہ کو اپوزیشن ایس پی پر لفظی حملے کرتے سناگیا جس میں اُنھوں نے کہاکہ یوپی کے رائے دہندوں نے انھیں 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں مسترد کردیا، 2017 ء اسمبلی انتخابات اور اب بلدی چناؤ میں بھی اُنھیں ٹھکرایا جاچکا ہے۔ اُن کے پاس کچھ بھی تعمیری تجویز نہیں سوائے اس کے کہ ایوان میں بُے تکے مسائل اُٹھائیں، یہ ریمارکس ایس پی بنچوں کو مشتعل کرنے کا سبب بنے اور وزیر موصوف کے علاوہ حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا۔

TOPPOPULARRECENT