Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / یوپی اے حکومت نے آگسٹا کی ہر ممکن مدد کی کوشش کی

یوپی اے حکومت نے آگسٹا کی ہر ممکن مدد کی کوشش کی

وزیردفاع منوہر پاریکر کی لوک سبھا میں تقریر، سابق حکومت پر تنقید
نئی دہلی ۔ 6 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس پر تنقید جاری رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے آج کہا کہ سابق یو پی اے حکومت نے اہم شخصیات کیلئے ہیلی کاپٹرس کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں آگسٹا ویسٹ لینڈ کی ہر ممکن مدد کی۔ رشوت خوری سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی برسراقتدار پارٹی کو ہی سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ وزیردفاع منوہر پاریکر نے لوک سبھا میں کہا کہ سابق سربراہ فضائیہ ایس پی تیاگی اور گوتم کھیتان دونوں نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہیکہ وہ ’’چھوٹے لوگ‘‘ ہیں جنہوں نے صرف بہتی گنگا (جاری کرپشن) میں اپنے ہاتھ دھوئے تھے اور حکومت کو پتہ چلانا چاہئے کہ یہ دریا کہاں جارہی تھی۔ تحریک توجہ دہانی پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر تنقید کی اور کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ گنگا کہاں جارہی تھی۔ اب معلوم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے آگسٹا ویسٹ لینڈ کو ٹھیکہ حاصل ہونے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ کمپنی کے خلاف کارروائی کرپشن انکشاف کے بعد شروع کی گئی اور یہ حالات کی مجبوری تھی۔ کارروائی میں سرگرمی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو اس کی فکر کیوں ہے۔

 

ہم نے کسی کا نام نہیں لیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہیکہ آپ جانتے ہیں کہ گنگا کہاں جارہی تھی۔ منوہر پاریکر نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے مباحث کے دوران راجیہ سبھا میں اس موضوع پر ایک بیان دیا ہے۔ ان میں سے بیشتر نے برجستہ تقریر کی ہے اور کہا ہیکہ ٹھیکہ سے متعلق واقعات کا تسلسل کیا تھا اور کس وجہ سے اسے بعد میں منسوخ کردیا گیا۔ ایک فوجداری مقدمہ نومبر 2011ء میں اٹلی میں درج کیا گیا جو اس سودے کے سلسلہ میں مبینہ رشوت کی ادائیگی کے بارے میں تھا لیکن حکومت نے ہیلی کاپٹرس کی خریداری جاری رکھی اور تین ہیلی کاپٹرس حکومت کے حوالہ بھی کردیئے گئے۔ 2013ء میں صرف کمپنی کے عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے اس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق حکومت نے کمپنی کو مکتوب بھی روانہ کیا تھا اس کے بجائے کہ یہ معاملہ سفارتخانہ کے ذریعہ طئے کیا جاتا۔ کیا کمیٹی قائم کی جاتی۔ اگر آپ کچھ نہ کرنا چاہتے تھے۔ یو پی اے کی کارروائی محکمہ فینانس کے عہدیداروں کی گرفتاری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مجبوری تھی۔ تاہم اس نے کوئی سرگرم کارروائی نہیں کی۔ پاریکر نے کہا کہ انٹونی نے 12 مئی 2014ء کو سودا معطل کردیا تھا جبکہ لوک سبھا انتخابات کا آخری دن تھا۔ انہوں نے اظہار حیرت کیا کہ اگزٹ پول کے نتائج کی بناء پر جس میں یو پی اے کو بڑے پیمانے پر نقصان کی پیش قیاسی کی گئی تھی ، یہ کارروائی تو نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سودے میں مشکلات کے پیش نظر کنٹراکٹ کا ٹنڈر اٹلی کی آگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی کو دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT