Thursday , May 24 2018
Home / Top Stories / یوپی حکومت ترقی کے نام پر نفرت پھیلانے میں مشغول

یوپی حکومت ترقی کے نام پر نفرت پھیلانے میں مشغول

پیشرو سماج وادی حکومت کے پراجکٹوں کا افتتاح کیا جارہا ہے ، جی ایس ٹی میں ترامیم انتخابات کے سبب ، اکھلیش یادو کا دعویٰ

لکھنو ۔ 11 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو نے آج اُترپردیش کی حکومت کو ترقی کے نام پر نفرت پھیلانے کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ سماج میں ’’عمودی تقسیم ‘‘ پیدا کرنے کے معاملے میں بی جے پی سے بہتر کوئی نہیں ۔ سابق چیف منسٹر یوپی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سابقہ سماج وادی پارٹی حکومت کے پراجکٹوں کاافتتاح یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کررہی ہے ۔ اکھلیش نے یہاں ایک اخبار کے زیراہتمام منعقدہ ایونٹ میں کہا کہ بی جے پی کے لوگ مسائل پیدا کرنے ، نفرت پھیلانے کے ماہر ہیں اور عمودی تقسیم کے معاملے میں اُن سے بہتر کوئی نہیں ، چاہے وہ خاندان کی بات ہو یا سیاسی پارٹی کا معاملہ ہو ۔ آپ گجرات ، بنگال اور اُترپردیش کی مثال لے سکتے ہیں۔ ’’ ہندو۔ مسلم یا ذات پات کے نام پر انتشار پیدا کرنے کے معاملے میں اُن سے بہتر کون ہیں ۔ لوگ ہم پر ذات پات کی تائید کرنے والی پارٹی ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں لیکن اُنھیں ذات پات کے معاملے میں کوئی الزام نہیں دیا جاتا ‘‘ ۔ اکھلیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اُنھوں نے کبھی ذات پات اور مذہب کی اساس پر ووٹ نہیں مانگے ۔ سابق چیف منسٹر نے یہ بھی کہا کہ کیا حکومت یوپی ترقی کے نام پر نفرت پھیلانے کے لئے تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ حکومت محض نفرت کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے ۔ سماج وادی پارٹی میں داخلی خلفشار کے بارے میں اکھلیش نے کہاکہ چونکہ اُن کی پارٹی اقتدار سے محروم ہوئی اس لئے اُن کی فیملی کے مسائل خود بخود ختم ہوگئے ۔ ابھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ، کیونکہ اقتدار نہیں ہے ۔ جب اقتدار حاصل ہوتا ہے تو مسائل بھی ساتھ ہی پیدا ہوجاتے ہیں ۔ یوپی کی بی جے پی حکومت پر تنقید میں سابق چیف منسٹر نے کہاکہ اُن کی میعاد کے دوران اُنھوں نے ایسے پراجکٹوں کا کبھی افتتاح نہیں کیا جن کی شروعات پیشرو حکومتوں نے کی تھی ۔ لیکن اب سماج وادی پارٹی حکومت کے کئے گئے کاموں کا افتتاح موجودہ حکومت کررہی ہے ۔

اگر انھوں نے ریاست کے لئے اپنے طورپر کچھ بھی کیا ہے تو اُنھیں ( یوگی حکومت ) کو چاہئے کہ عوام کو واقف کروائیں۔ صدر سماج وادی پارٹی جنھوں نے یوپی اسمبلی چناؤ سے قبل کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا تھا، انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ راہول گاندھی کے ساتھ اُن کی دوستی برقرار رہے گی ۔ ’’ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو دوست بدلتے رہتے ہیں اور اس معاملے میں اب سب کچھ واضح ہوجانا چاہئے ۔ سیاسی محاذ پر ہم دوست رہے اور اسی طرح برقرار رہیں گے جیسا کہ یہ اتحاد اب ہے ، اسی طرح جاری رہے گا ‘‘ ۔ اس سوال پر کہ کانگریس نے انھیں گجرات میں مہم چلانے کے لئے نہیں کہا ہے ، اکھلیش نے جواب دیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ مجھے وہاں جانے اور انتخابی میدان میں موجود میری پارٹی کے امیدواروں کی مہم چلانے سے کون روکے گا ۔ گجرات کے پاٹیدار لیڈر ہاردیک پٹیل سے اُن کی شناسائی کے بارے میں پوچھنے پر اکھلیش نے کہاکہ اگرچہ ابھی تک اُن سے تعارف نہیں ہوا ہے لیکن جب کبھی وہ چاہیں دوست بن سکتے ہیں ۔ اکھلیش نے بی ایس پی کے ساتھ انتخابی اتحاد کے امکان پر تبصرے سے انکار کیا۔ نوٹ بندی کے حوالے سے اکھلیش نے کہاکہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ جو ماہر معاشیات ہے اور تمام دیگر ماہرین معاشیات کا بھی کہنا ہے کہ اس سے معیشت کو نقصان پہنچا ہے ، لیکن بعض اوقات عوام کے لئے سچائی قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ ذات پات اورمذہبی مصلحتوں کے سبب کئی باتوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ جی ایس ٹی میں جاری ترامیم کے حوالے سے اکھلیش نے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آتے جائیں گے اس طرح کے مزید اقدامات کئے جاتے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT