Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / یوپی : مذہبی ، عوامی مقامات پر لاؤڈاسپیکروں کیخلاف کارروائی

یوپی : مذہبی ، عوامی مقامات پر لاؤڈاسپیکروں کیخلاف کارروائی

تمام ضلع حکام کیلئے ہدایات جاری، 15 جنوری کی مہلت کے بعد غیرمجاز لاؤڈاسپیکرس کو نہ ہٹانے پر کارروائی کی جائے گی
لکھنؤ ۔ 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش نے آج ضلع حکام کو مندروں، مسجدوں اور دیگر عوامی مقامات پر لاؤڈاسپیکروں کی غیرقانونی تنصیب کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے جہاں ایمپلی فائرس کو نکالنے کی مہلت ختم ہوچکی ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے حکمنامہ پر کارروائی کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے 7 جنوری کو 10 صفحات پر مشتمل آرڈر جاری کرتے ہوئے مستقل طور پر نصب لاؤڈاسپیکروں کا سروے کرنے کی ہدایت دی تھی اور ساتھ ہی ان تمام کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی جاری کی جو ان لاؤڈاسپیکروں کا درکار اجازت کے بغیر استعمال کررہے ہیں۔ حکمنامہ میں کہا گیا کہ اگر مذہبی یا عوامی مقامات پر لاؤڈاسپیکروں کو نصب کرنے کی اجازت 15 جنوری سے قبل طلب نہیں کی گئی تو حکومت ایسے لاؤڈاسپیکروں کو 20 جنوری سے ہٹا دے گی۔ اس کے بعد صوتی آلودگی پر قابو پانے سے متعلق قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پرنسپل سکریٹری (داخلہ) اروند کمار نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ایمپلی فائرس ہٹانے کی مہلت گذشتہ روز ختم ہوگئی۔ یہ پوچھنے پر کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی جنہوں نے نہ تو اجازت نامہ کیلئے درخواست دی ہے اور نہ ہی اجازت نامہ کیلئے درکار قواعد و شرائط کی تعمیل کرتے ہیں، اروند کمار نے کہا کہ ضلع سطح پر کارروائی کی جائے گی۔ حکومت پہلے ہی اس طرح کے اجازت نامہ کیلئے درخواست دینے کا طریقہ کار جاری کرچکی ہے۔ ہائیکورٹ نے گذشتہ ماہ ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ آیا مسجدوں، مندروں، گرجاگھروں اور گردواروں کے بشمول دیگر مقامات میں نصب لاؤڈاسپیکروں یا پبلک اڈریس سسٹمس متعلقہ حکام سے تحریری اجازت حاصل کرنے کے بعد نصب کئے گئے ہیں؟ عدالتی حکمنامہ کا مطلب ہیکہ عوامی یا نجی مقام کے آس پاس آواز کی شدت مقررہ سطح سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ آرڈر میں کہا گیا کہ ضلع مجسٹریٹس کو صنعتی، تجارتی، رہائشی اور خاموشی والے زونس کی زمرہ بندی کرنا ہوگا۔ ہر علاقہ میں قابل اجازت سطح پر آواز کی علحدہ اعظم ترین قدریں ہوتی ہیں۔ عوامی مقامات پر نصب لاؤڈاسپیکروں کی آواز کی حد 10decibels سے زیادہ نہیں ہوسکتی اور خانگی مقام پر یہی حدdecibels 5 سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 20 ڈسمبر کو جاننا چاہا تھا کہ اس طرح کی غیرمجاز تنصیبات کے خلاف کیاکارروائی کی گئی ہے اور متعلقہ عہدیداروں کے خلاف بھی کیا کارروائی ہوئی جو تحریری اجازت نامہ کے حصول کی لازمی شرط کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT