Tuesday , July 17 2018
Home / ہندوستان / یوپی میں ایک ندی کی صفائی کیلئے ہندو، مسلم اور سکھوں کا مثالی اتحاد

یوپی میں ایک ندی کی صفائی کیلئے ہندو، مسلم اور سکھوں کا مثالی اتحاد

موہالی (یوپی) 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب بین مذہبی اور بین ذات پات فسادات ملک بھر میں ایک عام بات ہوچکے ہیں، ایسے میں یوپی کے ایک شہر میں موجود بڑی ندی کی صاف صفائی کی ضرورت نے ہندو مسلم اور سکھ کمیونٹی کو ایک ساتھ آنے پر مجبور کردیا ہے۔ دارالحکومت لکھنؤ سے 100 کیلو میٹر دور ضلع سیتاپور ڈسٹرکٹ کے موہالی ٹاؤن میں ہندو مسلم اور سکھوں کے درمیان زبردست بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا منظر دیکھنے کو ملا جہاں انتہائی گندگی سے متاثر ندی کو صاف کرنے کے لئے مسجد، مندر اور گردوارے کے ذمہ داروں نے ایک ساتھ کام شروع کیا۔ جسے علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دراصل اِس ندی کے اطراف مندر، مسجد اور گردوارہ تینوں موجود ہیں۔ تاہم یہاں آنے والے پجاری، نمازی یا سکھ طبقہ کے افراد اور دیگر افراد کی جانب سے اِس ندی میں ہی ساری گندگی ڈالی جاتی رہی ہیں۔ حالانکہ تینوں طبقہ کے افراد اِسی ندی میں وضو بھی کرتے ہیں، اشنان بھی کرتے ہیں اور سکھ بھی استفادہ کرتے رہے ہیں۔ کتھینا نامی یہ ندی گومتی ندی میں جاکر ضم ہوجاتی ہے تاہم اِس میں موجود گندگی کی وجہ سے سارا پانی دن بہ دن انتہائی آلودہ ہوتا جارہا تھا۔ ندی کے قریب موجود پرگیانا ست سنگ آشرم کے سربراہ سوامی وجیانند سرسوتی نے بتایا کہ یہ ندی ہندو،مسلم اور سکھ تینوں طبقوں کا ہے اور تینوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اِس سے استفادہ کرتے ہیں۔ مگر لوگوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے سارا کچرا اِسی ندی میں پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ندی بہت زیادہ آلودہ ہوچکی تھی۔ جس کے بعد اُنھوں نے اِس کی صاف صفائی کے لئے پہل کرنے کا ارادہ کیا جس کے بعد قریبی مسجد کے سربراہ محمد حنیف کے ساتھ اُنھوں نے ندی کی صاف صفائی کا فیصلہ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گردوارہ کے ذمہ داروں نے بھی ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہوئے صفائی کے کاموں میں حصہ لیا۔ اِن تینوں مذہبی اداروں کے ساتھ آنے کے بعد تینوں طبقوں کے بے شمار افراد رضاکارانہ طور پر ندی کی صاف صفائی میں جٹ گئے اور اس کام میں شہری انتظامیہ نے بھی تعاون کا فیصلہ کیا۔ گردوارہ کے سربراہ اجگر سنگھ نے کہاکہ ہم اِس ندی کی صاف صفائی میں مندر اور مسجد کے ساتھ مل کر اپنی ’’سیوا‘‘ دے رہے ہیں اور جب بھی ضرورت پڑے گی ہم ہمیشہ اِس کام کے لئے تیار رہیں گے۔ واضح رہے کہ 1962 ء میں یہاں پر پولیس اسٹیشن کے قریب انسپکٹر جئے کرن سنگھ نے مندر اور مسجد تعمیر کروائی تھی تاکہ علاقہ میں بھائی چارہ کی فضاء قائم رہے اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اُن کا یہ منصوبہ آج بھی کامیاب ہے جہاں نماز کے دوران آشرم کی لاؤڈ اسپیکر کو بند کردیا جاتا ہے خواہ تہوار کا بھی موقع کیوں نہ ہو۔ اِسی طرح آشرم میں ہونے والی مذہبی سرگرمیوں کے دوران مسجد انتظامیہ کی جانب سے بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ 14 مارچ سے مذکورہ ندی کی صاف صفائی کا آغاز کیا گیا تھا جس میں رضاکاروں کے مطابق متواتر تین روز تک اِس ندی کی صاف صفائی کی گئی اور اس کے بعد تمام طبقات میں اشعور بیداری کے لئے منتخب افراد کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے طبقہ میں اِس ندی کو صاف رکھنے کے لئے کچرا ڈالنے سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT