Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / یوپی میں بھی عظیم اتحاد کی تیاری

یوپی میں بھی عظیم اتحاد کی تیاری

زندگی ہم سفر رہی تنہا
ہم بھی کس ہم سفر کے ساتھ رہے
یوپی میں بھی عظیم اتحاد کی تیاری
اترپردیش میں انتخابات کا وقت قریب آتے آتے مختلف تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کوئی کسر باقی رکھنے کو تیار نہیں ہے اور ہر طرح کی کوشش شروع کرچکی ہے ۔ ریاست میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی ٹوٹا ہوا گھر ہوگئی ہے ۔ اس گھر کو اس کا ہر فرد اپنی سمت میں کھینچنے کی کوشش میںمصروف ہے اور یہ کوشش پارٹی کیلئے یقینی طور پر مہنگی ثابت ہونے والی ہے ۔ ایسے میںا ب بہار کی طرح اترپردیش میں بھی مختلف جماعتوں کا عظیم اتحاد تشکیل دینے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر شیوپال یادو نے مختلف جماعتوں سے بات چیت کا عمل شروع کردیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح بہار اسمبلی انتخابات سے قبل سکیولر فکر و خیال والی جماعتوں نے وہاں عظیم اتحاد تشکیل دے کر مشترکہ مقابلہ کیا تھا اور بی جے پی کو کراری شکست سے دوچار کیا تھا اسی طرح ریاست میں بھی عظیم اتحاد تشکیل دیدیا جائے ۔ جہاں ہر جماعت اپنے طور پر انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہیں وہیں ایسا لگتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو بہت تاخیر سے ہوش آیا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے امکانی اتحاد کے تعلق سے تبادلہ خیال کرنے پارٹی کے ریاستی قائدین کو دہلی طلب کیا ہے تو شیوپال یادو بھی دہلی روانہ ہوگئے ہیں اور سمجھا جا رہا ہے کہ وہ جے ڈی یو ‘ آر ایل ڈی اور آر جے ڈی کے قائدین سے تبادلہ خیال کرنے والے ہیں ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے قائدین کانگریس سے بھی اس سلسلہ میں رابطہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ادعا کیا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے شیوپال یادو کو دوسری جماعتوں سے اتحاد کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ حالانکہ ابھی سے یہ کہا نہیں جاسکتا کہ اس اتحاد میں کون کونسی جماعتیں شامل ہوتی ہیں لیکن یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سماجوادی پارٹی کا حال ایسا ہے کہ وہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق ہر اس جماعت سے بات چیت کرنے کی کوشش کریگی اور اپنے ساتھ کھڑا کرنے کی کوشش کریگی جو اس سے اتحاد کیلئے تیار ہو۔ یہ دیکھنے کے موقف میں پارٹی ہرگز نہیں ہے کہ ایسی جماعتوں کا عوام میں کیا مقام ہے اور وہ عوام پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
راشٹریہ جنتادل کا جہاں تک سوال ہے یہ آثار نہیں دکھائی دیتے کہ لالو پرساد یادو اپنے سمدھی سے سیاسی تعلقات کو گرم جوشی سے آگے بڑھانا چاہیں گے کیونکہ عین بہار انتخابات کے موقع پر سماجوادی پارٹی نے عظیم اتحاد میں شامل ہوکر اس سے پھر اپنے طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ یہی حال نتیش کمار کے ساتھ بھی ہے ۔ نتیش کمار نے کسی طرح کے اتحاد کا اشارہ دئے بغیر ریاست میں اپنی پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کوششیں شروع کردی تھیں اور وہ ریاست کے دورے بھی شروع کرچکے ہیں۔ حالانکہ سکیولر جماعتوں کے اتحاد کے نام پر انہیں ساتھ لایا جاسکتا ہے لیکن یہ جماعتیں سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر بہار میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو بیکار کرنے تیار نہیں ہوسکتیں۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے شائد وہ بھی انتخابات سے قبل کسی بھی جماعت سے اتحاد کرنے کو تیار نہ ہو ۔ کانگریس پارٹی ریاست میں تنہا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے پارٹی نے ابھی سے محنت شروع کردی ہے ۔ اس کی مہم کا ایک مرحلہ راہول گاندھی کی کسان یاترا کی شکل میں پورا ہوچکا ہے ۔ پارٹی کی سابق ریاستی صدر ریٹا بہوگنا جوشی کی بی جے پی میں شمولیت کے بعد پارٹی اب اپنی حکمت عملی کو نئی شکل دینا چاہتی ہے ۔ وہ سماجوادی پارٹی کے بظاہر ڈوبتے ہوئے جہاز میں سفر کرنے کو شائد تیار نہیں ہوگی ۔ حالانکہ ابھی اس تعلق سے دونوں جماعتوں کے مابین کوئی باضابطہ مذاکرات بھی شروع نہیں ہوئے ہیں لیکن پس پردہ بات چیت کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم ابھی کوئی واضح اشارے نہیں مل پائے ہیں۔
بہار میں جس طرح سے بی جے پی نے زبردست مہم چلائی تھی اس کو لالو پرساد یادو کی فراست ‘ نتیش کمار کی قیادت اور کانگریس کی سوجھ بوجھ کی وجہ سے ناکام بنادیا گیا ہے لیکن اتر پردیش میں حالات مختلف ہیں ۔ وہاں فرقہ واریت کا عنصر بھڑکایا جا رہا ہے ۔ وہاں ہر متنازعہ مسئلہ کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے ۔ خود سماجوادی پارٹی میں داخلی خلفشار بھی عوام میں پہونچ چکا ہے ۔ چاچا بھتیجا کی کشمکش نے ملائم سنگھ یادو کو بھی متاثر کیا ہوا ہے ۔ ایسے میں سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والی جماعتیں اس عظیم اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کرینگی ۔ مقامی سطح پر معمولی عوامی تائید رکھنے والی جماعتوں کو سماجوادی پارٹی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوسکتی ہے لیکن ان کی مددسے اسے عوام کی تائید حاصل کرنے میں کوئی مدد ملنے کے امکانات نہیں ہیں۔ عظیم اتحاد کی کامیابی یا ناکامی تو دور کی بات ہے ابھی یہ بھی کہا نہیں جاسکتا کہ آیا یہ عظیم اتحاد واقعی تشکیل بھی پائیگا یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT